کوئٹہ: ہزار گنجی واقعے کیخلاف دھرنے میں ماما قدیر بلوچ کی شرکت

134
بلوچ اور ہزارہ کا قاتل ایک ہی ہے۔ ماما قدیر بلوچ
دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کوئٹہ کے مطابق بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ہزار گنجی کے مقام پر ہزارہ برادری پر خودکش حملے کے خلاف دھرنے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے شرکت کرکے اظہار یکجہتی کی جبکہ اس موقعے پر ان کے ہمراہ انسانی حقوق کے کارکن حمیدہ نور بھی موجود تھی۔

ماما قدیر بلوچ نے کہا کہ سندھی، بلوچ، پشتون اور ہزارہ سب ایک ہی ہے۔ جب بھی ہزارہ برادری کو بلوچ قوم کی ضرورت ہوگی ہم ان کے شانہ بہ شانہ کھڑے ہونگے۔

انہوں نے کہا کہ ہزار گنجی واقعے کے پیچھے لشکر جنگوی یا داعش نہیں بلکہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے کارندے ہیں جو آج سب سے بڑے دہشت گرد ہے۔ بلوچ اور ہزارہ کا قاتل ایک ہی ہے، بلوچ اور شیعہ مسلک سے تعلق رکھنے والے افراد کو لاپتہ کرنے والی قوت بھی ایک ہی آئی ایس آئی اور ایم آئی ہے۔

دریں اثناء آج بروز اتوار کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ کو 3557دن مکمل ہوگئے۔

احتجاجی کیمپ میں خاران سے جبری طور پر لاپتہ بابو محمد حسن، محمد عارف اور محمود شاہ کے لواحقین نے شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مذکورہ افراد کے لواحقین کے مطابق تینوں افراد 10اگست 2014کو ضلع خاران سے لاپتہ کیئے گئے ہیں۔ محمود شاہ اور محمد حسن کو خاران کے علاقے حسن آباد سے جبکہ محمد عارف کو اُرّو کے علاقے سے ایک ہی وقت میں فورسز اور خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے حراست میں لیکر لاپتہ کیا۔

لواحقین کے مطابق تینوں افراد کے حوالے سے تین سال گزرنے کے باوجود ابھی تک کوئی معلومات نہیں مل سکی ہے کہ انہیں کہاں لے جایا گیا اور وہ کس حال میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذکورہ افراد نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالت میں پیش کیا جائے ۔

علاوہ ازیں احتجاجی کیمپ میں 09جون 2018سے لاپتہ امتیاز احمد ولد رضا محمد کی کمسن بھتیجی عالیہ، 02جون 2015سے لاپتہ غلام فاروق ولد عبدالرؤف کی والدہ سمیت دیگر شریک تھیں۔