کوئٹہ: بلاول بھٹو زرداری کا ہزار گنجی دھماکے کے متاثرین سے تعزیت

34

پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کوئٹہ کے علاقے ہزار گنجی میں دھماکے کے متاثرین سے تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ حکومت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ریاست کو مقتولوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے یا قاتلوں کے ساتھ۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم متاثرین کو تحفظ نہیں دے سکتے، انہیں انصاف نہیں دلاسکتے، پاکستان میں یہ کس قسم کا پیغام دیا جارہا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ہمیں کتنا خون بہانا پڑے گا، ہمارے خون کی قیمت کیا ہے، کیا ہم دہشت گردی کو کرپشن میں شامل کریں، اگر ہم کہیں کہ دہشت گردی بھی کرپشن ہے تو پھر یہ ملک اور حکومت سنجیدہ ہوگی ۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ سویلین انٹیلی جنس ادارے کے سینئرز افسران نے استعفیٰ دیا کیونکہ حکومت کی طرف سے دباؤ تھا کہ سیاسی مخالفین کو پکڑو۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ سینئر افسران جو 10 سال سے دہشت گردی کا مقابلہ کررہے تھے، انہوں نے استعفیٰ دیا کہ ہماری تربیت دہشت گردی کا مقابلہ کرنےکے لیے ہے سیاسی مخالفین کے پیچھے پڑنے کے لیے نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی وزیراعظم عمران خان جب بھی ٹی وی پر آتے ہیں،بین الاقوامی میڈیا سے بات کریں تو کہتے ہیں کہ ہم کالعدم اور دہشت گرد تنظیموں کو برداشت نہیں کرتے ہمارے پاس نیشنل ایکشن پلان ہے۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ میرا سوال ہے کہ کیا آج تک ہمارے وزیراعظم نے نیکٹا کمیٹی کا اجلاس بلایا ہے، نیشنل ایکشن پلان کی کسی شرط پر عمل کیا ہے؟

انہوں نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ پیپلزپارٹی نے آمروں اور دہشت گردوں کا مقابلہ کیا ہے، میں بھی ایک شہید خاندان سے تعلق رکھتا ہوں، ان کا دکھ جانتا ہوں۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ میں ان شہیدوں کے لیے انصاف دیکھنا چاہتا ہوں، ان معصوم شہریوں کے قاتلوں کو عدالت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔

چیئرمین پی پی نے کہا کہ کوئٹہ میں اتنا بڑا سانحہ ہوا وزیر اعظم نے آنے کی زحمت تک نہیں کی۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کس قسم کا نظام ہے کہ جس میں دہشت گردوں، کالعدم تنظیموں کے لیے ایمنسٹی ہے، بڑے بڑے دہشت گردوں کو ریسٹ ہاؤس میں رکھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی اپوزیشن چاہے (ن) لیگ یا پیپلزپارٹی کی ہوں ان کو جیل بھیج سکتے ہیں، سزا دلواسکتے ہیں لیکن ہمارے نظام میں، عدلیہ میں یہ طاقت نہیں کہ چند کالعدم تنظیمیں جنہیں پوری دنیا دہشت گرد کہہ رہی ہے ان کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ عام انتخابات میں 6 بم دھماکے ہوئے، میں نے اسمبلی کی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ دہشت گردی کے ان واقعات کی تحقیقات کی جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پہلے بھی میں یہاں ہزارہ ٹاؤن آیا ہوں،میں کب تک آتا رہوں گا، ہم کب تک تعزیت کرتے رہیں گے، انصاف مانگتے رہیں گے۔

چیئرمین پی پی نے کہا حکومت کو کالعدم تنظیموں، انتہا پسندوں کا مقابلہ کرنا پڑے گا، اگر ہمیں اس ملک میں معاشی ترقی چاہیے تو امن پہلی شرط ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ الیکشن مہم کے دوران میری رائے تھی جو بعد میں سچ ثابت ہوئی کہ کچھ قوتیں کٹھ پتلی حکومت لانا چاہتی ہیں تاکہ وہ اٹھارویں ترمیم کو ختم کرسکیں اور ون یونٹ قائم کرسکیں۔ عوام کے معاشی حقوق، جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے پوری اپوزیشن ایک پیچ پر ہے۔