کامریڈ اسد ۔ سلمان حمل

220

کامریڈ اسد

تحریر۔ سلمان حمل

دی بلوچستان پوسٹ

دنیا میں آکر کچھ لوگ ایسے کام کرجاتے ہیں جو رہتی دنیا تک یاد رہتے ہیں ـ عظیم مقصد کیلئے قربان ہونے کا فلسفہ ہمیں اس بات کا درس دیتا ہے کہ مقصد کے سامنے ذات پات کی کوئی اہمیت نہیں ـ وہ جو صدیوں سے لے کر آج تک تاریخ میں یاد کیئے جاتے ہیں، انہوں نے اپنے مقصد اور فلسفے کے سامنے سر تسلیم خم کیا ہے ـ چاہے وہ سقراط کا زہر کا پیالہ ہو، منصور حلاج کے پھانسی کا پھندہ ہو یا ارنیسٹو گویرا کی امریکی سامراج کے ہاتھوں شھادت ہو ـ

اسی طرح میرے اپنے زمیں پر ہزاروں ایسے نام ہونگے جنہوں نے سر دے کر اپنے آپ کو تاریخ میں سرخرو کیا ہے ـ ان سرخرو ہونے والے ناموں میں سے ایک نام میرے دوست، بھائی، عزیز، جگر کے گوشے کامریڈ اسد کا ہے ـ جنہوں عزت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے محبوب وطن کے لیئے اپنے آپ کو فنا کردیا اور امر ہوگئےـ اسد کے بارے میں لکھتے ہوئے شاید الفاظ کم پڑجائیں سیاہی سوکھ جائے، پنے ختم ہوجائیں، مگر اسد کی قربانیاں قید نہ ہوسکیں ـ شاید یہ میرے ان جذبوں کا شاخسانہ ہو، جو کسی بھی قریبی ساتھی کا اپنے قریبی ساتھی کیلئے ہو، اور یہ جذبے شاید آج میں قلم سے بیان نہ کرسکوں، میرے پاس الفاظ ہی کم پڑ جائیں ـ

اسد! وہ کامریڈ تھا، انتہائی سخت حالات میں، جب اپنے دشمن کے سامنے سجدہ ریز ہورہے تھے، بک رہے تھے، فوجی آپریشنوں میں شدت آئی تھی، تنظیمی کیمپوں کے راز دشمن تک پہنچ چکے تھے ـ پھر بھی امید کا دامن تھامے رکھا۔ شب و روز تنظیم کی فعالیت اور اداروں کی تشکیل کیلئے شب و روز محنت کی ـ کبھی پروم تو کبھی کولواہ اور کلبر میں ساتھیوں سے ملاقاتیں کیں اور انہیں روایتی جنگ سے نکلنے کی سر و سوج کی ـ یہ کام چاہے قدرِ گراں تھا کہ ایک نیم قبائلی اور قبائلی سماج میں انقلابی رویوں اور انقلابی اداروں کا قیام، مگر پھر بھی شیھو نے اس بارِ گراں کو اپنے کندھوں پر لیا اور انتہائی خلوص کے ساتھ اپنے سفر کو جاری رکھا ـ اس سفر میں اپنوں نے بھی ساتھ نبھانا چھوڑ دیا، مگر شیھو تھا کہ مسکرا کر اپنے سفر میں مگن تھا ـ

یہ کامریڈ اسد تھا کہ پنجگور میں تحریک کو از سر نو آرگنائز کرکے مسلح کاروائیوں کے تسلسل کو برقرار رکھا اور ایسے ساتھیوں کا چناؤ کیا جو مخلصی اور محنت میں اپنی مثال آپ تھے، یہی وجہ ہے کہ رئیس جیسے فدائی اور اسد جیسے پُر مھر ساتھی کے جانے کے بعد بھی پنجگور میں مسلح کاروائیوں کا تسلسل برقرار ہے ـ شاید آج بہتر انداز اور گوریلا طریقوں کے ساتھ ـ کامریڈ جیسے ساتھیوں کی وقت سے پہلے بچھڑنا کسی قیامت سے کم نہیں ـ مگر یہ راستہ ہی قربانیوں کا راستہ ہے یہاں اپنے آپ کو فنا کرنا ہے تاکہ راجی جنز اپنے منزل سے دو قدم قریب تر ہوجائے، اور اسد بلوچ نے بھی اپنے خون سے منزل کو قریب تر کیا ہے ـ باقی ماندہ سفر ہمارے لیئے چھوڑ دیا ہے ہمیں بھی اسد بلوچ کے نقش قدم پر چل کر تحریکی تمام بکھرے قوت کو یکجاہ کرکے دشمن کو نیست نابود کرنا ہے، یہی شھیدوں کا فلسفہ اور یہی شھیدوں کا ارمان ہے اور شھیدوں کے ارمان انکے فلسفے پر چل کر ہی پوری کی جاسکتی ہے ـ

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا
میں تو دریا ہوں سمندر میں اترجاؤں گا
زندگی شمع کی مانند جلاتا ہوں ندیم
بجھ تو جاؤں گا مگر صبح تو کر جاؤں گا

شیھو جان رخصت اف اوارن

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔