پیرس : قدیم و تاریخی گرجا گھر کو آتشزدگی سے شدید نقصان

57

فرانس کے دارالحکومت پیرس میں واقع تاریخی نوترے ڈیم کیتھڈرل میں لگی خوف ناک آگ پر کئی گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پا لیا گیا ہے۔آگ سے تیرھویں صدی کی اس تاریخی عمارت کی چھت اور بالائی حصے کو نقصان پہنچا ہے اور اس کی مخروطی لاٹ گرگئی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق آگ لگنے کے بعد اس کی لاٹ عمارت کے ایک جانب لڑھک گئی تھی اور پھر وہ جلتی ہوئی چھت پر گئی تھی۔فرانسیسی حکام نے منگل کو علی الصباح بتایا ہے کہ کیتھڈرل میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے اور کئی ایک تاریخی نوادر کو بچا لیا گیا ہے۔

فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے اس تاریخی کیتھڈرل کے سامنے کے حصے اور ٹاوروں کو بچانے پر آگ بجھانے والے عملہ کی تعریف کی ہے اور کہا ہے کہ بدترین واقعہ کو رونما ہونے سے روک لیا گیا ہے۔انھوں نے نوترے ڈیم کی تعمیرِنو کے لیے بین الاقوامی سطح پر رقوم اکٹھا کرنے کی مہم شروع کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ نوترے ڈیم ہماری تاریخ ہے، ہمارا ادب ہے ،یہ ہمارا تشخص ہے۔اسی جگہ پر ہم اپنے عظیم تر لمحات میں رہے ہیں۔جنگوں اور آفات سے آزادی تک ، یہ ہماری تاریخ ہے اور یہ جل گئی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ اس سے ہمارے بہت سے فرانسیسی بہت دل گرفتہ ہوئے ہیں‘‘۔کیتھڈرل میں خوف ناک آتش زدگی کی اطلاع ملنے کے بعد فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے اپنا قوم سے خطاب منسوخ بھی کردیا ہے۔وہ سوموار کی شب یہ تقریر کرنے والے تھے۔

فوری طور پر آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ البتہ حکام کا کہنا ہے کہ اس گرجا گھر کے بالائی حصے میں 60 لاکھ یورو کی لاگت سے تزئین نو کا کام جاری تھا۔فرانسیسی میڈیا نے پیرس فائر بریگیڈ کے حوالے سے کہا ہے کہ اس آگ کا ممکنہ طور پر اسی تزئین نو کے کام سے تعلق ہے۔

میڈیا کی اطلاعات کے مطابق رومن کیتھو لک کے اس گرجا گھر کی چھت پر آگ لگنے کے بعد شعلے اور زرد رنگ کا دھواں بلند ہونا شروع ہوگیا تھا۔واقعے کی اطلاع ملتے ہی امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی تھیں اور چار سو سے زیادہ فائر فائٹرآگ کو تمام عمارت اور بالخصوص سامنے کے حصے تک پھیلنے سے روکنے میں کامیاب رہے ہیں۔تاہم سوموار کو دن کے مصروف اوقات میں آگ لگنے کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں دقت پیش آئی ہے۔

یادرہے کہ نوترے ڈیم کا سنگ بنیاد 1163 عیسوی میں پوپ الیگزینڈر سوم نے رکھا تھا اور اس کی عمارت تیرھویں صدی میں مکمل ہوئی تھی۔اس کے خوب صورت عمارتی ڈھانچے ، ٹاورز اور لاٹ کی وجہ سے اس کو فنِ تعمیر کا شاہکار اور فرانس کی ایک اہم مذہبی اور ثقافتی علامت سمجھا جاتا ہے۔