پریشان مگر پُر امید دانشور ۔ حکیم واڈیلہ

149

پریشان مگر پُر امید دانشور

حکیم واڈیلہ

دی بلوچستان پوسٹ

علم و شعورکے ہتھیار سے لیس لوگوں کی سب سے بڑی خوبی و خوبصورتی ہی یہ ہوتی ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے آپ کو عقل کُل ظاہر کرنے یا کسی بھی ہلکے سے ہوا کے جھونکے سے خوش یا غمگین نہیں ہوتے۔ انکی نگاہیں اور سوچ ہمیشہ حقیقی مسائل پر مرکوز ہوتی ہیں، وہ ہمیشہ بہتر منزل کی تلاش و جستجو میں مگن ہوتے ہیں۔ وہ اپنے مقصد کا چناؤ کرکے اس پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ بغلیں بجانے سے زیادہ عملی کردار ادا کرکے اپنے علم میں اضافہ کرنے سمیت سماجی و قومی حوالے سے لوگوں کو حقیقت سے روشناس کراکر شعور و آگاہی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

ایسے صاحب علم شخصیات و کرداروں کو عام زبان میں دانشور کہا جاتا ہے، بلوچ قوم میں حقیقی دانشوران کی تعداد کافی محدود اور کم نظر آتی ہے اسکی بہت سی وجوہات میں سے ایک اہم وجہ تاریخی جبر اور قومی غلامی بھی ہے کیونکہ جب آپ کو حقیقی علم حاصل کرنے کا موقع نہ دیا جائے اور آپکے سوچنے کی طاقت کو محدود کردیا جائے تو ایسے سماج میں دانشور کی جگہ درباری لوگ لیتے ہیں۔ جو حقیقت کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے سامراجی قوتوں، قبضہ گیروں اور ظالموں کے بیانیئے کو پیش کرنے اور پرچار کرنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں یا پھر عوامی بے تعلقی کی وجہ سے سماج سے دوری اختیار کرکے چند مراعات و ذاتی مفادات کے پیچھے دوڑ رہے ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی سے بلوچ قوم کے پاس آج بھی منظور بلوچ جیسے نام ور دانشور و صاحب علم شخصیت موجود ہیں، جو حق و سچ بات کو بغیر لگے لپٹے بیان کرتے ہیں۔

گذشتہ دنوں پروفیسر منظور بلوچ کا دی بلوچستان پوسٹ کو دیا گیا انٹرویو پڑھنے کو ملا، جس میں منظور بلوچ نے بلوچ قومی سیاست، ادب، مزاحمت سمیت دیگر مسائل پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے بلوچی و براھوئی زبان و لٹریچر میں اداروں کے فقدان اور دشمن کی مکاریوں سے پیدا شدہ مشکل حالات سے نمٹنے کے لیئے بلوچ رہنماوں کو اپنی پالیسیوں کو وسیع اور بہتر کرنے کی جانب توجہ مبذول کرانے کے ساتھ ساتھ اس بات پر حیرت و خوشی کا اظہار بھی کیا کہ آج بھی بلوچ فرزندوں میں قربان ہونے کا جذبہ دکھائی دیتا ہے۔ وہ سرزمین کی خاطر قربانیاں دے رہے ہیں اور اپنے جائز حقوق و تاریخی حیثیت کی بحالی کیلئے قربانی دے رہے ہیں۔

منظور بلوچ نے بلوچ نوجوان شاعروں کی موجودہ شاعری، جس میں اپنے سماج کے حقیقی تصویر کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے قومی ہیروز کے کردار کو بخوبی بیان کیا جاتا ہے سراہتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تبدیلی ہی سماجی تبدیلی کا باعث بن سکتی ہے اور بلوچی و براھوئی زبان کا محافظ بھی ہوسکتی ہے۔

منظور بلوچ یقیناً بلوچ قومی تحریک کے رہنماوں سے مزید پختگی، بہتری اور ادارتی بنیادوں پر تحریک کو مضبوط کرنے کی امید کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ اس اہم سوال کو یقینی طور پر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیوںکہ آج بلوچ قومی تحریک کا ہر ایک کارکن، ساتھی، ہمدرد و بلوچ قومی تحریک سے جڑا ہر شخص اداروں کی مضبوطی و شفافیت کا خواہش مند ہے، جس سے یقیناً بلوچ قومی جدوجہد خصوصی طور پر سیاسی حوالے سے پائے جانے والی جمود کو ختم کرکے بلوچ عوام کو تحریک سے دوبارہ منسلک کیا جاسکتا ہے ۔

منظور بلوچ یقینی طور پر ان تمام شعراء، ادیبوں، دانشوروں، لکھاریوں، استادوں سے دلبرداشتہ نظر آتے ہیں، جو سماج سے بیگانگی کا شکار ہوکر اپنی ذات اور اپنے خاندان تک کے سوچ میں محدود ہوکر رہ گئے ہیں۔ کیونکہ جب آپ سماج کو اندھیروں میں دھکیل رہے ہوتے ہیں یا بیگانگی اختیار کرلیتے ہیں یا چند مراعات کے خاطر حقیقی مسائل کے برعکس طاقت ور و ظالم کے بیانیئے کو تقویت دیتے ہیں، تو آپ اپنے آپ اپنے سماج اور اپنے قوم سے دوری پیدا کررہے ہوتے ہیں اور شعوری یا لاشعوری طور پر دشمن کے ہمراہ بن جاتے ہیں، پھر آپ کا علم و ذہانت آپکا نہیں رہتا وہ طاقت ور کی ترجمانی کرتے ہیں، جس سے سماجی حوالے سے آپکی حیثیت و مقام ایک مفاد پرست و لالچی انسان سے بڑھکر کچھ نہیں ہوتی۔

آج کا وقت بلوچ سیاسی پارٹیوں، دانشوروں، سرمچاروں، اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے بلوچوں سے ایک مطالبہ و گذارش کررہا ہے کہ اپنے تمام حقیقی طاقت کو یکجاہ کرکے ذاتی، شخصی، گروہی مفادات سے بالاتر ہوکر مشترکہ طور پر دشمن قوت کا مقابلہ کرکے اپنے سرزمین سے نکال باہر کیا جائے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔