مستقل مزاجی کا دوسرا نام ماما قدیر – کریم بلوچ

122

مستقل مزاجی کا دوسرا نام ماما قدیر

کریم بلوچ

 دی بلوچستان پوسٹ

اسٹیفن آر کوئی کہتے ہیں کہ “انجام کو ذہن میں رکھ کر شروعات کریں” مطب ہر کام کو شروع کرنے سے قبل اسُکا انجام ذہن میں رکھیں تاکہ اُس کام کو انجام تک پہنچانے میں راستے میں جو رکاوٹ، مشکلات، مسائل، مصیبتوں کا سامنا ہوگا تو ان مسائل کا اندازہ ہو اور اُن مسائل کا مقابلہ کرنے کے لئے آپ ذہنی طور پر تیار ہوں۔

فطری طور پر دیکھا جائے تو کوئی بھی کام ایسا نہیں جو تکالیف اور مسائل کے بنا انجام کو پہنچ پائے اور اگر کام اجتماعی نوعیت کے ہوں تو ان میں مسائل، تکالیف اور پیچیدگیاں زیادہ ہونگے۔

میں نے بھی آج جس موضوع پہ قلم کو جنبش دینے کی ضرورت محسوس کی وہ بھی ایک اجتماعی عمل ہے۔ ایک ایسا عمل جس میں عمومی مسائل ہی نہیں بلکہ جان ہتھیلی پر رکھ کر خاندان، گھر بار اور خود کو ذہنی طور پر قربان کرنے کے لئے تیار کیئے بنا ناممکن ہے۔ جی ہاں! کیونکہ یہ عمل ہے پاکستان جیسی دہشت گرد، وحشی اور سفاک ریاست میں انسانی حقوق اور لاپتہ افراد کے لیئے آواز اٹھانے کا ہے۔

اس انسانی بحران کو پاکستان نے جس نہج پہ پہنچایا ہے، اس کا اندازہ ہم اس غیر انسانی عمل سے متاثرین کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں، ہمیں ہر مکتبہ فکر کے انسان اس المیاتی مسئلے کا شکار نظر آتا ہے، وہ چاہے سیاسی کارکنان ہوں، طالب علم ہوں، تدریس سے وابستہ عظیم مرتبے کے مالک معلم ہوں، انسانی حقوق کے کارکن یا خواتین و بچوں کو جبری طور پر لاپتہ کرنے کا ریاستی عمل ہو، الغرض اس ریاستی ظلم کا شکار ہر وہ انسان بن رہاہے جو حق انسانیت کا دعویدار ہو، جو انسان کو فطری قوانین کے حقوق دلانے کی جدوجہد کررہے ہوں اور جو انسان کو اس کے اصل مقام پہ پہنچانے کا عہد کرچکے ہوں۔ دنیا آج پاکستانی ریاست اور اس ریاست کی ان پالیسیوں سے مکمل جانکاری رکھتی ہے کہ یہ غیر انسانی عمل پاکستانی عسکری اداروں کی کارستانیاں ہیں۔ یہ انسانی المیہ اس وقت مزید گمبھیر صورتحال اختیار کرگیا جہاں ریاستی اداروں نے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کی مسخ شدہ لاشوں کو ویرانوں میں پھینکنے اور اجتماعی قبروں کی نذر کرنے لگی۔

پاکستانی فوج اور خفیہ اداروں کے سیاہ کرتوت اب دنیا سے پوشیدہ نہیں لیکن انسانی حقوق کے دعویدار ادارے، عالمی ادارے اور خود کو مہذب کہلانے اور کہنے والوں کی جانب سے جب پاکستان کو روکنے کے لیے اقدامات نہیں کیئے گئے تو بلوچ قوم نے اپنے مسائل کے حل کے لیئے اور دنیا پہ یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اگر کوئی ہمارا پرسان حال نہیں تو ہم اس ریاست کے اس غیر انسانی عمل کے خلاف خود ہی تحریک چلائیں گے۔ پاکستان جیسی ریاست میں جو تمام انسانی اقدار کی پامالی کررہی ہے، اس قسم کی جدوجہد کا مطلب سولی پہ چڑھنا ہے۔ ہاں ایک ایسی ریاست جو جنس اور عمر میں تفریق کیئے بنا عالم انسان پہ ظلم و بربریت کی نئی تاریخ رقم کررہی ہے جہاں بانک زرینہ مری اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ نہ جانے کس حال میں ہے، نہ جانے راغے اور مشکے جیسے کتنے واقعات رونماء ہونگے، جہاں سینکڑوں خواتین بیک وقت ریاستی عقوبت خانوں کی نظر کردی جاتی ہیں اور نہ جانے شہید حکیم جیسے واقعات ہو نگے جہاں غیرمسلح شخص پر بیک وقت 12 بندوقوں کا منہ کھول کر اُسے شہید کرتے ہیں، ان قوتوں کے خلاف جو 10سالہ معصوم بچی فاطمہ کو گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں، نہ جانے اور کتنے ایسے دلخراش منظر ہونگے، جن سے ممکن ہے کہ بہت سارے انسان واقف نہیں لیکن بنگال کی تاریخ دیکھ کر انسان کو یہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ غیر فطری ریاست ہر قسم کے اوچھے ہتکنھڈے پہ اتر سکتی ہے۔ اُن جانوروں کے خلاف جو حس و احساسات سے محروم ہیں جو انسان و انسانیت سے ناواقف ہیں، جو شرم و حیا سے نابلد ہیں، جو عزت و غیرت سے نابلد ہیں، اب ظاہر ہے ان تمام وحشیانہ رویوں کے حامل قوتوں کے خلاف کھڑا ہونا کسی کمزور انسان کے بس میں نہیں۔ جو لوگ ان کے ہاتھوں لاپتہ ہوئے ہیں ان کے لیئے آواز اٹھانے سے پہلے آپ کو ہر غیر انسانی عمل سہنے کیلئے خود کو تیار کرنا ہوگا۔

اس جدوجہد کو شروع تو کئی لوگوں نے کیا، حتیٰ کہ تادم مرگ بھوک ہڑتال بھی ہوئی لیکں انجام سے ناواقف اور غیر مستقل مزاج لوگوں کی قدمیں جلد ہی ڈگمگانے لگیں اور آہستہ آہستہ وہ پردے سے غائب ہوتے گئے اور کچھ لوگوں نے بیرون ملک کی دوڑ لگالی لیکن ان شدید خطرات سے بھری جدوجُہد کو بوڑھے ماما قدیر نے اپنے کندھوں کا سہارا دے دیا۔ اس راہ پہ چل کر ماما قدیر نے ایسی مستقل مزاجی اور اعصاب کی مضبوطی دکھائی کہ دشمن خود حواس باختہ ہوگئی۔ ماما قدیر نے تمام لاپتہ افراد کا وارث بن کراُن کی بازیابی تک جدوجہد کی جو راہ اپنائی وہ آج تک جاری ہے اور اس عمل میں ماما ایک عالمی پہچان بن چکا ہے۔

ماما کی اس جہد کو ختم کرنے کے لئے طرح طرح کے حربے شروع ہوگئے، جیسا ہمیشہ سے ہوتا رہا اس دفعہ بھی پارلیمنٹ پرست اپنے حربوں کو لیکرسب سے پیش پیش رہے کیونکہ آقا کا حکم تھا۔ شروع میں وہ ماما کے پاس آکر مگرمچھ کے آنسو بہانے لگے، دعوے کرتے رہے، امید دلاتے رہے، وعدہ کرتے رہے طرح طرح کے حربے استعمال ہوئے اور سب میں ناکامی کے بعد ماما پرالزامات کے بوچھاڑ شروع کردیئے، کبھی کہا گیا بلوچ خواتیں کو سڑکوں پر بٹھا کر ماما نے بلوچ قوم کے عزت کو پامال کیا ہے، کبھی کہا گیا کے ماما غیرملکی ایجنڈے پر کام کر رہا ہے، کبھی پولیس اور کبھی ایف سی کو بھیج دیا گیا ماما کو دھمکانے۔ یہ وہی لوگ تھے جو الیکشن کے وقت لاپتہ افراد کا رونا رو کر عوام سے ووٹ مانگتے رہے ۔

بلوچستان میں ہر پانچ سال بعد جب نئی کٹھ پتلی حکومت قائم کی جاتی ہے تو سب کے ابتدائی بیانات کو اگر اٹھا کر دیکھا جائے تو لاپتہ افراد کے مسئلے سے متعلق ہیں۔ لیکن آقا کے حکم پر چند مہینے گذرنے کے بعد مختلف طریقوں سے لاپتہ افراد کے کیمپ کو ختم کرنے کی کوششیں شروع کرتے ہیں، جو آج بھی جاری ہے۔ لیکن جوان حوصلوں سے شرسار بوڑھا ماما قدیر کوہِ بولان کے مانند قدمیں جمائے کھڑا ہے، اسی لیئے تو یہ کہنا بے جا نہیں کے ہر وقت ہر طرح کی مستقل مزاجی کا دوسرا نام ماما قدیرہے۔

ماما کو شکست دینے کے لئے دشمن ہر طرح کی کوششیں آزما چُکا ہے لیکن وہ ناکام رہا ہے۔ مجھے بذات خود بھی ماما کے ساتھ کچھ وقت گذارنے کا شرف حاصل ہوا تو میں اکثر ماما سے اس جد و جُہد کے متعلق سوال پوچھتا رہا تو ماما نے کہا” شروع میں مجھے فون پر دھمکی آنا شروع ہوئے جو آج بھی جاری ہیں، جب ان کو میں نے صاف صاف کہہ دیا کہ یہ کیمپ لاپتہ افراد کی بازیابی تک جاری رہے گی تودشمن کی طرف سے نئے حربے آزمانا شروع ہوگئے، مجھے لالچ کی پیشکش کرنے لگے۔

جب ماما نے فون کال دھمکیوں اور لالچ و مراعات کو خاطر میں نہیں لایا تو ماما پر جان لیوا حملے شروع ہوگئے، ماما کو گاڑی سے کچل کر حادثہ قرار دینے کی سازش کی گئی لیکن ماما نے بروقت روڈ کے قریب گٹر میں چھلانگ لگا کر جان بچائی جس سے ماما زخمی بھی ہوگئے ماما نے اس واقعے کی ذکر کرتے ہوئے کہا “مجھے معلوم تھا کہ خفیہ ادارے والے ہر وقت میرے پیچھے لگے ہوئےہیں، جو کچھ بھی کرسکتے ہیں، انہوں نے جب گاڑی مجھ پر چھڑانے کی کوشش کی تو میں نے جلدی قریبی گٹر میں کود کر جان بچائی، جس سے میں زخمی ہوا “ ماما نے مزاق کرتے ہوئے کہا کہ زخموں کا خیر ہے لیکن اُس گٹر کی بو آج بھی مجھے محسوس ہوتا ہے، جو اتنا بدبودار تھا کہ میں نے ہر طرح کے صابن و شیمپو استعمال کیا لیکن وہ بو جانے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔

اس واقعے کے بعد بھی ماما پر کئی جان لیوا حملے ہوئے جن سے ماما بال بال بچتے رہے اور ماما اپنی مستقل جہد و جہد کی وجہ سے پوری دنیا میں خبروں کی زینت بن گیا۔ پاکستانی خفیہ اداروں کے کئی ناکام حربوں کی وجہ سے ماما کی شہرت میں مزید اضافہ ہوا اور ماما کو مارنا مشکل ہوا تو پاکستانی جفیہ اداروں کی جانب سے نئے گرے ہوئے حرکتوں کا آغاز ہوا وہ رات کو آکر ماما کے کیمپ میں پیشاب کرنے لگے اور روز ماما صاف کرتا رہا یہ گری ہوئی حرکت کافی وقت تک جاری رہا لیکں ماما روز صبح صاف کرکے بیٹھتے رہے، اس ناکامی کے بعد خفیہ ادارے کے اہلکاروں نے رات میں آکر ماما کے کیمپ کو جلایا دیا لیکں ماما نے ہمت نہیں ہاری وہ آج بھی مستتقل مزاجی کے ساتھ اپنی جہد و جہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔ دشمن کے تمام مکاریوں کو بوڑھے ماما قدیر نےناکام بنا دیا لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ماما اس پر کٹھن سفر میں اکثر اکیلے ہی کھڑے تھے اُن کے ساتھ جس طرح کی سپورٹ ہونی چاہیئے تھی وہ دکھائی نہیں دی، یہاں تک کہ کوئٹہ میں موجود بلوچ طلبہ بھی ماما کے کیمپ میں قدم نہیں رکھتے ہیں، جب ماما نے خود اس بات کا ذکر کیا تو میں نے کہا ماما وہ ڈرتے ہیں کہ ہمیں کیمپ آنے کے بعد لاپتہ کردیا جائے گا تو ماما نے کہا “آپ کو اٹھانے کے لیئے بلوچ ہونا کافی ہے اور ایک بلوچ طالب علم ہونا خود ایک جرم بن چکا ہے یہاں آپ سب کو ایک نہ ایک دن اس جرم کی سزا ریاست کی طرف سے ضرور ملے گی اور اسی کیمپ میں آپ سب کی تصویر لٹکے گی، وہ میں ہی ہونگا جو آپ کی آواز بنونگا تو آپ سب کو اس کیمپ کو مظبوط بنانا ہوگا اور میں یہاں کوئی بمب بنانے کی فیکٹری نہیں چلا رہا ہوں بلکہ پرامن احتجاج دنیا میں چاہے کہیں بھی ہو وہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی نہیں بلکہ یہ انسانی حق ہے“ ماما کی بات میرے لیئے بالکل فکر کرنے والی نہیں تھی کیونکہ میں بذات خود اس طرح کے واقعات کا گواہ ہوں تاحال کئی بے گناہ اسٹوڈنٹس پاکستانی فوج کی ٹارچر سیلون میں اذیتیں برداشت کر رہے ہیں، بغیر کسی جرم کے۔

بلوچ قوم کے ہر طبقے پر فرض ہے کہ بغیر کسی خوف کے ماما کی اس قانونی جہد کا حصہ بنیں تاکہ بلوچ قوم پر ہونے والی مظالم کو روکا جاسکے۔ حال ہی میں بلوچ خواتیں حوران بلوچ ، طیبہ بلوچ ، سیمہ بلوچ اور دیگر خواتیں کی ماما کے ساتھ ہمسفر ہونا ایک اچھی بات ہے لیکں یہ کافی نہیں ہے پوری بلوچ قوم کو ماما کے ساتھ ہونا چاہیئے ، ماما کی آواز بننا چاہیئے اور ماما کی آواز کو پوری دنیا تک پھیلانا چاہیئے کیونکہ ماما کی جہد ان بلوچ فرزندوں کی خاطر ہے، جو پاکستانی خفیہ اداروں کی بند کوٹھیوں میں غیر انسانی تشدد سہہ رہے ہیں۔

آخر میں میں ایک واقعہ آپکو بتانا چاہتا ہوں، جس کے بارے میں سوچ کر مجھے آج بھی شرمندگی محسوس ہوتی ہے واقعہ کچھ یوں ہے کہ بلوچ جہد آجوئی سے منسلک ایک وٹسپ نیوز گروپ (جس کا نام لینا میں مناسب نہیں سمجھتا ) جہاں میں نے ماما کی روزانہ ہونے والی بھوک ہڑتال کی کوئی تصویر نہیں دیکھی، اُس گروپ میں ماما بھی شامل تھا تو ماما نے اپنے ہونے والی بھوک ہڑتال کی چند تصاویر شیئر کی جس کی وجہ سے ماما کو اُس گروپ سے ہی ایڈمن نے نکال دیا کہ یہ ہمارے گروپ کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔ ایڈمن کے بغیر کوئی پوسٹ نہیں کرسکتا اب اس سوچ پر کیا تبصرہ کیا جا سکتاہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔