لمہ یاسمین کے نقشِ پاء پر چلتے فدائی ۔ خالد شریف بلوچ

80

لمہ یاسمین کے نقشِ پاء پر چلتے فدائی

تحریر: خالد شریف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تاریخ کے اوراق کو پلٹ کر دیکھا۔ مثالیں، واقعات، جدوجہد، محنت و مشقت، درد و رنج، مخلصی، ایمانداری، بےغرضی، قربانی، حتٰی کہ ہر شے جو تاریخ کا حصہ تھا اسے کنگھالہ لیکن ایسا نایاب، بے مثال، مثال نہیں دیکھا جو لمہ یاسمین کا ہم پلہ ہو۔ کوئی ماں ہی جان سکتا ہے کہ بیٹا کیا چیز ہے۔ حضرت اسماعیل جب پیاسا ہوتا ہے تو اس کی ماں کس طرح اپنے بچے کیلئے تڑپتا ہے اور کس طرح ریت کا چکر لگاتا رہتا ہے۔ جب ہم تاریخ کے اوراق کو پلٹتے ہیں، تو ہر جگہ ماں بیٹے کی محبت کی مثالیں ملتی ہیں۔ ماں مہر ومحبت کی علامت ہے۔ میں ہمیشہ سوچتا رہا کہ آخر وہ کیا شے ہے کہ جس نے اس عظیم ماں کو اپنے بیٹے قربان کرنے پر مجبور کردیا، میں نے ایسے ماں دیکھے ہیں جو اپنے جوان بیٹے کے وفات کے بعد زندگی بھر پاگل پن کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ پاگل پن فطری نہیں بلکہ ان کی جوان بیٹے کی جدائی کے سبب تھا۔ لیکن اس کے برخلاف لما یاسمین خوشی خوشی شہید ریحان کو فدائی حملے کیلئے نہ صرف بھیجتا ہے بلکہ نویلی دلہن کی طرح سجا کر سرزمین کا بیرک پہنا کر خوشدلی سے نیک تمناوں کے ساتھ بھیج دیتا ہے۔ آخر یہ سب کیوں، وہ تو ریحان جان کو محاذ پر جنگ کیلئے بھی بھیج سکتا تھا۔ اور بھی ہزاروں جواز ڈھونڈ سکتی تھی۔ لیکن کیا چیز تھی، کیا سوچ تھا، کیا فلسفہ تھا، کیا محبت تھی، میرے خیال میں وہ صرف اور صرف احساس تھا، کونسا احساس؟ کیسا احساس؟ کہاں کا احساس؟

بلوچ سرزمین کا احساس! ان ماوں بچوں کا احساس، جن کے فرزند سالوں سے قیدوبند کی مشقت جھیل رہے ہیں۔ ان بہنوں کا احساس جن کے جوان بھائی ظالم کے ظلم کی نشان بن گئے۔ ان بھائیوں کا احساس جن کے سامنے ان کے غیرت مند بہنوں کی عصمت دری ہوگئی تھی۔ ان سرزمین کے وارثوں کا احساس جو روپے کیلئے ترس رہے ہیں۔ ان والدین کا احساس جن کے اولاد کی مسخ شدہ لاش لاوارثوں کی طرح جنگلوں میں گرا دی گئی ہیں۔ ان بچوں کا احساس جوبھوک سے نڈھال ہیں، ان غریبوں کا احساس جو دو وقت کی روٹی کیلئے ترس رہے ہیں اور ریاستی گماشتے آستین کے سانپ، بے ضمیر دفاع اور ریستی اداروں کے جبر کے نشانے پر ہیں۔ اس انصاف، برابری، خدمت خلق، انسانیت کا احساس جس کی ہر زندہ انسان کو ضرورت ہے۔ شاید لما یاسمین کی خوشی اس احساس کا سبب تھا۔

شہید رازق جان کے ساتھ جب میں بیٹھا، تو میں نے یہ محسوس کیا شہید ریحان کے اس عمل نے اس پر بہت اثرات چھوڑے ہیں۔ وہ ہر وقت کہتا تھا کہ لما یاسمین نے کس طرح اپنے لخت جگر کو قربان کیا اور پھر خود ہی کہتا تھا کہ لما یاسمین نے ریحان جان کو غلامی کی تاریک اندھیرے کو مٹانے کیلئے ایک چراغ بناکر بھیج دیا اور اسی فلسفے کو اپنا کر آخر وہ خود چراغ بن کر ریحان جان و درویش کی صف میں شامل ہوکر ایک روشن ستارے کی طرح دائمی روشنی کے ساتھ تاریخ کے سنہرے اوراق میں امر ہوگیا۔ ازل، ریئس بھی اسی کاروان کے سپاہی ہوئے۔ لما یاسمین کے فلسفے کے تحت ازل بھی اپنے لخت جگر کا بوسہ لیکر خود چراغ جاوداں بنے۔

جب میں نے لما یاسمین کے اس ویڈیو کو دیکھا تو میں نے عزم کیا کہ آج کے بعد میری ماں لما یاسمین ہے۔ اس کی فرزندی کو عملی طور پر ثابت کرنے کیلئے شھید ریحان جان کی طرح میں نے بھی اسی راہ کا انتخاب کیا، جو احساس کا پیداوار تھا۔ ان ماوں بہنوں کا احساس جو روڈوں پر سخت سردی میں اپنے پیاروں کیلئے پڑے ہوئے ہیں۔ اس بہن کی آنسوں کا احساس جو اپنے بھائی کیلئے در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔ ان دہقان، چرواہوں کا احساس جو بے سر سامان پہاڑوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ توتک کی لاشوں کا احساس ہو یا ان درد بدر ہزاروں جوان، عورتوں کا احساس جو اپنے شوہر کے میدان جنگ میں شہادت کے بعد بیواہ ہوگئے۔ سرزمین کے باسیوں کے ہزاروں درد ورنج کے بعد میں نے دشمن کو سخت نقصان دینے کیلئے لما یاسمین، شھید ریحان، شھید درویش، شھید رازق جان، شھید ازل، شھید رئیس کے فلسفے اور راہ سے اچھا راستہ نہیں دیکھا۔ میرے خیال میں شہید نور احمد، شھید ساتک جان، شہید امیر، شہید شہزاد، شھید جنرل اسلم، شہید بالاچ اور ہزاروں شھیدوں کے سنگتی کا وقت و حالات کے مطابق تقاضا یہی تھا جس کا میں نے انتخاب کیا۔

سرزمین میں جب کوئی خوبصورت پرندہ اڑنے سے خوفزدہ ہو، جب بلبل چمن میں محفوظ نہ ہو، جب موسم ء بہار بے رنگ ہو، جب عشق اپنے انجام پر پہنچ جائے تو پروانہ موم بتی کے لو پر آکر جان دے ہی دیتے ہیں۔ یہ جان تو کچھ بھی نہیں، اس سرزمین کیلئے ہزاروں جان قربان ہوں پھر بھی کم ہے۔ “ہم نے گل کردیئے چراغ اپنے، اب تو رخ بدلیگا ان ہواوں کا۔” چاندنی کو اب چاند گرہن چھوڑ ہی دیگا۔ گلشن اب آباد ہی ہونگے، بکھرے ہوئے باغ میں سالوں پرانے خشک درخت اب سر سبز ہی ہونگے، پھول جلد ہی کھل جائینگے، پھولوں پر مرنے والے بلبل جلد ہی خوشنما آواز کے ساتھ گانا گائینگے۔ چشموں کا پانی بہہ ہی جائیگا۔غم، رنج، دربدری، ماتم، آہ و زاری اختتام پر پہنچ ہی جائیگا۔ اندھیری راہ میں روشن چراغ نئی صبح کی آمد کی نوید سنارہی ہے۔ آذادی کی رنگ ہزاروں امیدوں کے ساتھ جلوہ افروز ہوگا۔ مھر ومحبت امن و انصاف، انسانیت جلد ہی آئیگی۔ یہ ریاست کو باور ہوگیا ہے کہ بلوچ سرزمین لاوارث نہیں، لما یاسمین کے فرزند میرے بعد بھی قطار میں کھڑے اپنے نمبر کا انتظار کررہے ہیں۔ یہ جنگ ہم ہی جیتنگے۔

بلوچ سرزمین کے فرزند بہادری کے ساتھ محاظ پر بھوکے، پیاسے، سردی اور گرمی میں ہزاروں درد و رنج کے باوجود دلیرانہ اور فاتحانہ انداز میں دھرتی کی حفاظت کررہے ہیں۔ سرزمین کے فرزند قول تک نہیں بلکہ عملی طور پر سرزمین کیلئے قربانی کی آخری حدوں کو چھو رہے ہیں۔ شکست ہمیشہ ظالم کا رہا ہے اور اب بھی ریاست شکست کے قریب ہی ہے۔ قومی احساس کے دروزے کھل گئے ہیں جو ہماری فتح کے نشان ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔