زبوں حالی کا شکار لسبیلہ یونیورسٹی – سراج بلوچ

42

زبوں حالی کا شکار لسبیلہ یونیورسٹی

سراج بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

علم ایک دولت ہے لیکن
بلوچستان میں اس قیمتی دولت کو جس بے دردی سے ضائع کیا جارہا ہے اس کی بے قدری کی جارہی ہے اس کی کم مثالیں ملتی ہیں۔ بلوچستان کے تمام تعلیمی ادارے بد ترین کرپشن اور بد انتظامی کے شکار ہیں۔اسی طرح اوتھل یونورسٹی کو بھی یہی روگ لگی ہے۔

ضلع لسبیلہ بلوچستان کا وہ ضلع ہے جہاں چار وزیر اعلی، وفاقی وزرا، صوبائی وزرا اور اعلی منصبوں پر بیٹھے کئی گذرے منصب داروں نے اس طرف توجہ دیئے بغیر اپنے ٹینور گذار دئیے۔ لسبیلہ یونیورسٹی آف میرن سائینس اینڈ ایگری کلچر بلوچستان کا اپنی اہمیت اور نوعیت کا پہلا جامعہ یے جو میرن سائینس پر بنا یے۔

یونیورسٹی کا 2005 میں سنگ بنیاد رکھا گیا۔ اور 2006 میں پہلا سیشن شروع ہو گیا جس میں سب سے پہلے تین فیکلٹیاں تھیں اور ابھی سات فیکلٹیاں اور بارہ سے ذیادہ ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ اس کے علاوہ ملٹی اسکالرشپ پروگرام کے تحت طلبا کو اسکالرشپ فراہم کی جاتی ہے، لیکن یہ طلبا کے تعداد کے حساب سے ناکافی ہیں۔ یونیورسٹی میں مختلف پروگرام چل ریے ہیں اس میں قابل ذکر ڈگری پروگرام BS. Mphil.MA.M.ed ہیں ۔ یونیورسٹی میں اسٹوڈنٹوں کی تعداد 2000 سے زیادہ ہے۔
کہنے کو تو یہ بلوچستاں کے بہترین یونیورسٹیوں میں شمار ہے لیکن اس کا تعلیمی نظام جدید دور کے نظام سے مطابقت نہیں رکھتا، جس میں اسٹوڈنٹوں کو طبقاتی نظام پر تقسیم کیا گیا ہے۔

جب بھی لسبیلہ یونیورسٹی میں کوئی آئے تو اسے ایسا محسوس ہوگا کہ آپ ایک نئے ملک میں آئے ہیں اور آپ پر ایک ظالم حکمران کی حکمرانی ہے۔ جہاں پر کرپشن کرنا، اسٹوڈنٹوں سے اُس کا بنیادی حق چھین لینا ، میرٹ کی پامالی کرنا ۔ تعلیم کے نام پر کار و بار کیا جارہا ہے ۔ اور جب بھی اسٹوڈنٹ اس ناانصافی کے خلاف بات کرتے ہیں تو اسٹوڈنٹوں کو ڈرا دھمکا کر یہ کہا جاتاہے کہ ہم اس سردار کے بندے ہیں، اُس سردار کے بندے ہیں۔

یہ بات صاف واضح ہے کہ اسٹوڈنٹوں کو ذہنی ٹارچر کیا جارہا ہے۔ یہ سب صرف یہاں کے ٹیچنگ اسٹاف کے ساتھ بھی ہی ہو رہا ہے، وہ بھی اڈمنسٹریشن کے نا انصافیوں سے تنگ آ چکے ہیں اور اپنی خود کی association بنائے ہوئے ہیں ۔جو اڈمن کے غلط پالیسیوں کے خلاف ہے۔ یہ دنیا کا واحد یونیورسٹی ہے جہاں پر ایک کلرک کی عزت زیادہ ہوتی ہے بنسبت ایک پروفیسر کے یعنی ایک استاد طلبا کو پڑھاتا یے لیکن اس کو وہ عزت اور مقام نہیں ملتا۔

یونیورسٹی میں ایک غیر علمی مافیا قابض ہے، جو یونیورسٹی کو علم اور سائنس سے دور کہیں غیر علمی دنیا میں گم کر دینا چاہتا ہے ۔ آج کا دور میرین سائنس کا دور ہے، ایگری کلچر کا دور ہے، اس دور میں اس واحد جامعے کو اس طرح تباہی کی طرف لے جانا یہاں کے طلبا کے ساتھ نئی علمی راستوں کے ساتھ ایک ناروا سلوک اور نئے دور کے ترقی اور نئے سائینسی دریافتوں اور آئیڈیاز کے خلاف ایک گھناونا ریشہ دوانی ہے۔

ایگری کلچر کے میدان میں بلوچستان کا ضلع لسبیلہ ایک زرخیز علاقہ ہے یہاں زراعت کو ترقی دینے کے لیے سائنسی طریقے کی ضرورت ہے، سائینسی طریقوں میں زراعت کو آگے لے جانے کے لیے جامعات کی ضرورت ہوتی ہے ۔
لسبیلہ یونیورسٹی اف میرین اینڈ ایگریکلچر سائئنس میرن اور ایگرکلچر کا روشن مستقبل یے لیکن اس کو غیر علمی انتظامیہ تاریکی اور تباہی کی طرف بڑی تیزی کے ساتھ لے جارہی ہے۔

جدید دور سائینس اور علم کا دور ہے اس دور میں جامعات اور ادارے نئے راستے نکالنے کے اہم ستون ہوتے ہیں۔

بلوچستان میں اس جدید دور میں نئی دریافتیں اور تحقیق کے میدان میں صرف جامعات منزل مقصود تک لے جانے کا وسیلہ ہو سکتے ہیں۔ انہیں اس طرح مال مفت دل بے رحم کی طرح اللہ کے رحم و کرم پر چھوڑنا آنے والے نسلوں کے ساتھ ظلم اور اس کو سائینس اور علم سے دور کرنے کی ایک شعوری کوشش بھی ثابت ہو سکتی ۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔