ریاستی و نوابی مُہرے ۔ احمد خان زہری

69

ریاستی و نوابی مُہرے

تحریر: احمد خان زہری

دی بلوچستان پوسٹ

وہ بات آج تک میں بُھولا نہیں کہ زہری میں بسنے والے، ورنا شہید امتیاز بلوچ کے ساتھ شانہ بشانہ بلوچ جہد میں اہم کردار ادا کر رہے تھے، جس میں رات کی تاریکی میں وال چاکنگ، جھنڈے لگانا اور دن کی روشنی میں پُر مہر فضا میں بی ایس او (آزاد) کے جلسوں میں امتیاز کی سربراہی میں شمولیت کرکے ریاست کے خلاف نعرہ بازی کرنا جیسے مقدس اعمال شامل تھے۔

جس میں میرے اپنے ساتھ عنایت عرف مَچھی، نوید موسیانی و مختلف دیہاتوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان تنظیمی ذمہ داریاں پوری کر رہے تھے- ایک روز عنایت مَچھی میرے ہمراہ پمفلٹ تقسیم کر رہا تھا تو مجھ سے سوال کرنے لگا کہ کیا ہم آزادی کے اس مقدس تحریک کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکیں گے؟ جواب میں، میں نے ایک آہ بھر کر کہا کہ شاید ہم میں سے کوئی آزادی کے پُر لطف فضا و خوشبو کو دیکھ نہ سکیں، لیکن ہماری جیت ہماری موت میں ہے اور ہم اپنے آنے والے نسلوں کے لیئے آج تاریکیوں میں بھٹک کر اپنا فرض نبھا رہے ہیں اور ہماری یہ تکلیف آج کچھ معنی نہیں رکھتی، بلکہ تاریخ میں نسلوں کو ذہنی غلامی سے نجات دلانے میں ایک بہترین مثال بن کر ثابت ہوگی کہ ہم بھی اپنے مظلوم، بےبس، لاچار اور ہر شوان و بزغر بلوچ کے لیئے اپنے دل میں درد محسوس کرتے ہیں۔

جب شہید امتیاز عرف دلوش بلوچ نے پہاڑوں کا رخ کیا تو بی ایس او (آزاد) سے جڑے ورناؤں نے خاموشی اور تنظیمی ذمہ داریوں سے روگردانی اختیار کرتے ہوئے آگے بڑھنے سے قاصر رہے- شاید ایک استاد و رہنما کی کمی نے انہیں ایسی خاموشی اختیار کرنے یا پھر ان کے مقدس جذبوں کو سردار و نوابی نظام نے زنگ لگاکر کمزور کرکے اپنی طرف راغب کرنے پر مجبور کیا؟ لیکن اپنے فرض سے منہ موڑ کر کسی غیر و دشمن کے گود میں سکون حاصل کرنا کیسے؟

خاموشی اختیار کرنا اور اپنے فرض سے نا آشنا ہوکر عیاشی کی زندگی گذارنا تو سمجھ میں آتا ہے، لیکن بلوچ دشمنی میں حصہ دار بننے اور عملی طور پر دشمنی پر پورا پورا اترنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

آج وہی عنایت مَچھی، نوید موسیانی،مالک عرف وطن یار اور مجید عرف خُونی کے “یوٹیون” پر جیوے جیوے پاکستان، اے پاک وطن، کے گیت سُنے جاتے ہیں- کبھی پاکستان کا جھنڈا اسپید (پہاڑ) پر لہرا کر سلامی دی جاتی ہے، تو کبھی 23 مارچ کا مونوگرام اپلوڈ کرکے پاکستانی ہونے پر فخر کرتے ہیں؟ آج سے 10 سال پہلے یہ ورنا پاکستانی ہونے کو گناہ سمجھتے تھے اور آج انہی کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں- کبھی کسی ریاستی دلال کے بغل میں سر رکھ کر تصویر کشی ہوتی ہے، تو کبھی (ن لیگ) کے کسی جلسے میں جھنڈے لگاکر مبارکبادی حاصل کرتے ہیں- دس سال پہلے یہی عنایت و نوید دنیا کے نقشے سے پاکستان کو مٹانے کا عزم رکھتے تھے اور آج وہی پاکستان کے مکروہ عزائم کو تقویت دے کر بلوچ دشمنی میں بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں- یہی نوجوان کل تک تو پاکستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے دعویدار تھے لیکن آج ریاستی الیکشن میں ایجنٹ بن کر نام نہاد نوابوں کو جتوا کر کھیل کے میدانوں اور بازاروں میں ڈھول کی تھاپ پر ناچتے ہوئے نظر آتے ہیں- کل تک یہی نوجوان چودہ اگست کے دن کالے کپڑے پہنے بازوؤں پر سیاہ پٹی باندھ کر یومِ سیاہ مناتے تھے اور آج چودہ اگست کے دن ڈھول بجانے والوں کو اپنے جیب سے پیسے دے کر چودہ اگست منانے کے خوشی میں دھول چاپ کا اہتمام کرتے ہیں۔

کیا ایسے نوجوان دلوش، دلجان، بارگ، حیئ اور مجید کی شہادت کو بھول گئے؟ ابھی تک تو دلجان و بارگ کے خون بھی خشک نہیں ہوئے ہیں اور یہی نوجوان سکندر کا برتھ ڈے مناکر ریاستی اعلیٰ کار بننے پر فخر محسوس کرتے ہیں- ڈوب مرنے کا مقام ہے ان نوجوانوں کے لیئے جنہوں نے شہیدوں کے خون سے کہلواڑ کرکے دھرتی ماں کے غدار ہونے کو قبول کیا۔

مجید خُونی کل تک تو یہ نہیں جانتا تھا کہ میں کس ملک کا باسی ہوں اور آج نعمت زرکزئی کے اشاروں پر پاکستان کا جھنڈا لہرا کر لوگوں کے ذہنوں پر مسلط ہو رہا ہے۔ مالک وطن یار ایک بیئر بوتل کے لیے بلوچ غداری کو تسلیم کرکے بلوچ جہد کاروں کی مخبری میں ملوث ایم آئی کے کارندوں کا ساتھ رنگ ریلیاں مناتا ہے۔ عرب ممالک میں ڈرائیور کی حیثیت سے زندگی گذارنے والا نوید موسیانی، آج ٹھیکے کے چند پیسوں کے لے اپنا ایمان بیچ کر مادرِ وطن کے بہادر سپوتوں کا پیچھا کر رہا ہے۔ عنایت مَچھی چند لیٹر پیٹرول اور ٹھیکے کے چند پیسوں کے لیئے اپنا قومی فرض بھلا کر زرکزئی و ریاست کا تھالی چَٹ بن گیا اور اپنے سابقہ بی ایس او (آزاد) کے دوستوں کی مخبری کرکے ریاستی اداروں اور زرکزئی کو پیش کرکے پیسے وصول کرتا ہے۔

عنایت مَچھی و نوید کے وہ الفاظ آج بھی میرے کانوں میں گونجتے ہیں، جب 16 اپریل 2013 کو دھماکے میں سکندر، زیب و مہر اللہ جہنم واصل ہوئے تو انہوں نے کہا کہ اللہ نے ہمیں ظالموں سے چھٹکارا دے کر ہمیں جینے کا ایک اور موقع عطاء کیا لیکن دو سال بعد یہی عنایت و نوید برسی منانے، برتھ ڈے منانے اور نوابوں کا تھالی چاٹ بن کر ابھرنے لگے۔

کیا یہ نوجوان ایسے گھناؤنے، برے اعمال کے مرتکب ہونے کا انجام جانتے ہیں؟ شاید جاننے کے باوجود خود کو لاعلم کر رہے ہیں اور یہی لا علمی کسی دن اُن کے گھر پر قہر بن کر ٹوٹ سکتا ہے- جس طرح ریاستی مُہرہ جلیل زہری کے ساتھ ہوا، شاید ان کے ساتھ بھی کسی دن یہ عمل دہرائی جائی، لیکن اللہ نہ کرے۔

ن لیگ کے جلسوں، برسی منانے، برتھ ڈے منانے، 14 اگست و 23 مارچ کی ریلیوں میں پیش پیش یہ ریاستی و نوابی مُہرے اپنے بلوچ ہونے کو داغدار تو کر چکے ہیں- بلکہ بلوچ دشمنی کو اپنے علاقوں میں پروان چڑھا کر شہیدوں اور لاپتہ افراد کے وارثوں کے دلوں کے زخموں پر نمک چھڑکنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں- کسی دن یہی نوجوان جلیل زہری کی طرح کسی مظلوم بلوچ کے ہاتھوں بلوچ دشمنی کا حساب چُکتا ضرور کرینگے، لیکن اس سے پہلے سوچنے، سمجھنے اور سنبھلنے کی ضرورت بھی ہے اور وقت بھی ہے۔

ایسے بہت سے نوجوان جن کو ورغلا کر، چند پیسے، بیئر کا بوتل اور مختلف نشہ آور چیزوں کی فراہمی کا لالچ دے کر بلوچ دشمنی میں پھنسایا جاتا ہے- ریاستی و نوابی عزائم کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں انہی نوجوانوں کا سہارا لے کر مختلف گناہوں کا مرتکب کیا جاتا ہے۔

بلوچ نوجوانوں اور ان کے والدین کو یہ بات آج سمجھنا ہوگا کہ یہ نواب، سردار، میر وڈیرے اور یہ ریاستی نمائندے کبھی ہمارے نہ ہمدرد رہے ہیں اور نہ ہی ہمارے بھلائی کے لیئے اقدامات کیئے ہیں بلکہ یہ ستر سالوں سے ہمارے مستقبل کو تباہ کرنے اور ہمیں نیست و نابود کرنے پر تُلے ہوئے ہیں- ہمارے ہر ورنا کو ایک دوسرے کے خلاف استعمال کرکے خود اے سی والی گاڑیوں اور کمروں میں عیاشی کی زندگی گذار رہے ہیں- مر ہم رہے ہیں، مار ہم رہے ہیں، نقصان ہمارا ہو رہا ہے، تکلیف ہمیں ہو رہی ہے۔

یہ نواب و سردار ہمارے گھروں کو اجاڑ کر خود اعلیٰ ترین بنگلوں میں اپنی عیش و عشرت کی زندگی گذار رہے ہیں- جس کی بہت سی مثالیں ہمارے اپنے نظروں سے گذری ہوئی ہے- وقت و حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ان نواب و سرداروں کو رد کرکے ہمیں ایسے کارناموں سے گریز کرنا چاہیئے، جن سے ہمارا مستقبل داغدار ہو اور ہماری نسلوں کے لیئے باعثِ شرمندگی ہو۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔