جبری طور پر گمشدہ تمام افراد کو بازیاب کیا جائے- منظور پشتین

88

پختون تحفظ تحریک کے رہنما 2 فروری کو بلوچستان کے لورالائی شہر میں قتل کئے جانے والے پروفیسر ارمان لونی کے چہلم کے سلسلے میں منعقد کی جانی والی ایک ریلی سے خطاب کر رہے تھے۔

تحریک کے رہنماؤں نے پہلے اس ریلی کے انعقاد کیلئے انتظامیہ سے شہر کے وسطی اور مصروف ترین خیبر بازار میں اجازت نامہ حاصل کر لیا تھا۔ مگر ایک روز قبل اس اجازت نامے کو منسوخ کر دیا گیا۔ بعد میں اس ریلی کو شہر کے بیرونی علاقے رنگ روڈ پر منتقل کردیا گیا مگر ہفتے کی شام پہلے ٹریکڑوں کے ذریعے اس میدان میں ہل چلائے گئے اور بعد میں اس میں پانی چھوڑ دیا گیا۔ تاہم تحریک کے رہنما اورکارکن بعد میں کرسیاں لگواکر جلسہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس موقع پر پولیس فورس کی بھاری نفری بھی تعینات کر دی گئی تھی جبکہ حفیہ اداروں کے اہلکاروں کی بھاری تعداد بھی جلسہ گاہ میں موجود تھی۔

ریلی میں شرکت اور شرکاء سے خطاب کرنے کیلئے مقتول پروفیسر ارمان لونی کی بہن بھی آئی تھیں۔ وڑانگہ نے وائس آف امریکہ سے بات چیت میں کہا کہ ان کے بھائی نے پختون قوم کی خاطر زندگی قربان کردی ہے اور ان کا خون ضرور رنگ لائیگا۔ اُنہوں نے کہا کہ ارمان مرےنہیں بلکہ زندہ ہیں۔ ان کی سوچ اور نظریہ زندہ ہے۔

ریلی میں شرکت کرنے والے نوجوان پختون تحفظ تحریک کے حق میں اور سیکورٹی اداروں کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

تحریک کے رہنماء ڈاکٹر سید عالم محسود نے کہا کہ اس ریلی کا مقصد نہ صرف پروفیسر ارمان لونی کو خراج عقیدت پیش کرنا ہے بلکہ حکومت اور ریاستی اداروں کے پختون قوم کے خلاف کی جانی والی زیادتیوں کے خلاف آوازاُٹھانا بھی ہے۔

تحریک کی خاتون رہنماء ثناء اعجاز نے بھی حکومت اور حکومتی اداروں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پختونوں کی نسل کشی جاری ہے اور پروفیسر ارمان کا قتل بھی اس سازش کا حصہ ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ پختونوں کو جبری گمشدگی کے علاوہ ان کی زرخیز زرعی زمینوں کو فوج کے رہائشی منصوبوں میں تبدیل کیا جارہا ہے۔ سوات اور دیگر علاقوں میں بلاجواز فوجی چھاؤنیاں تعمیر کی جارہی ہے۔

جبری طور پر گمشدہ ہونے والوں کے اندارج کیلئے ریلی میں ایک کیمپ قائم کیا گیا تھا جس میں تحریک کے کارکنوں کے بقول 200 سے زائد افراد کا اندارج کیا گیا ۔ ریلی میں شریک خواتین اور بوڑھے افراد نے جبری طور پر گمشدہ رشتہ داروں کے تصاویر ہاتھوں میں اُٹھا کر رکھی تھیں۔ ایک خاتون نے وائس آف امریکہ کو بتایا۔

پختونوں کو درپیش سیکورٹی اور انتظامی مسائل کے حل کیلئے تحریک کا قیام جنوری 2018 کو کراچی پولیس کے جعلی مقابلے میں مارے جانے والے نقیب اللہ محسود کے قتل کے خلاف اسلام آباد میں احتجاجی دھرنے کے دوران عمل میں آیاتھا۔ حکومت اور حکومتی ادارے اس تحریک کے اغراض و مقاصد کو نہ صرف شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بلکہ اس تحریک میں شامل لوگوں پر ملک دشمنی کا الزام بھی لگواتے ہیں۔ جبکہ تحریک کے رہنما ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ ملک کے آئین اور قوانین کے مطابق پختونوں کیلئے وہی حقوق اور مراعات مانگتے ہیں جو ملک کے دیگر صوبوں یا قومیتوں کو حاصل ہیں۔