تعلیم کی ضرورت اور اہمیت – شانتل بلوچ

67

تعلیم کی ضرورت اور اہمیت

شانتل بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تعلیم، ہر انسان چاہے وہ امیر ہو یا غریب، مرد ہو یا عورت کی بنیادی ضروریات میں سے ایک ہے۔ یہ انسان کا حق ہے، جو کوئی اس سے نہیں چھین سکتا۔ اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق تعلیم ہی کے بدولت ہے، تعلیم کسی بھی قوم یا معاشرے کےلیئے، ترقی کا ضامن ہے، یہی تعلیم قوموں کی ترقی اور زوال کی وجہ بنتی ہے۔ تعلیم حاصل کرنے کا مطلب صرف سکول، کالج، یونیورسٹی سے کوئی ڈگری لینا نہیں بلکہ اسکے ساتھ تمیز اور تہذیب سیکھنا بھی شامل ہے تاکہ انسان اپنے معاشرتی روایات اور اقدار کا خیال رکھ سکے۔

تعلیم وہ زیور ہے، جو انسان کا کردار سنوراتی ہے۔ دنیا میں اگر ہر چیز دیکھی جائے تو وہ بانٹنے سے گھٹتی ہے، مگر تعلیم ایک ایسی دولت ہے جو بانٹنے سے گھٹتی نہیں بلکہ بڑھ جاتی ہے اور انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ تعلیم کی وجہ سے دیا گیا ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے، اسلام میں تعلیم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔ آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں تعلیم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے۔ چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے، حالانکہ آج کا دور جدیدیت کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے، مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم،انجینئرنگ ،وکالت ،ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے۔

جدید علوم تو ضروری ہیں، اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کےلیئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے، اسی تعلیم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی،عبادت، محبت خلوص، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں۔ اخلاقی تعلیم کی وجہ سے صالح اورنیک معاشرے کی تشکیل ہوتی ہے۔ تعلیم کا اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی، جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے، تعلیم کے حصول کےلیئے قابل اساتذہ بھے بے حد ضروری ہیں، جوبچوں کو اعلٰیٰ تعلیم کے حصول میں مدد فراہم کرتے ہیں، استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائیں بلکہ استاد وہ ہے جو طلبہ و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کرتا ہے اور انہیں شعور و ادراک،علم و آگہی، نیز فکر و نظر کی دولت سے مالا مال کرتا ہے۔ جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا ،ان کے شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں۔

اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گے ہے، محکمہ تعلیم اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں تک جامد ہوگئے ہیں۔ کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا، آج نمبر اور مارک شیٹ پر ہے، آج کی تعلیم صرف اس لیئے حاصل کی جاتی ہے، تاکہ اچھی نوکری مل سکے۔ یہ بات کسی حد تک سچ ہے۔ اسکا اندازہ آج کل کے تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے، جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹنا ہے۔ بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں، جو اپنے خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کیئے ہوئے ہیں، جس نے رسوائی کے علاوہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہو۔ مگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں، اسطرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے، بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں، زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں۔ اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے۔

آج ایسے عناصر موجود ہیں جو اپنی سرداری، چودھراہٹ، جاگیرداری یا میر ومعتبری کو استعمال کرتے ہوئے اپنے مفادات کی وجہ سے اپنے اثر و رسوخ والے علاقوں میں بچوں کی تعلیم میں روکاوٹ بنے ہوئے ہیں، جسکی وجہ سے اکثر بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں اوران کا مستقبل سیاہ رہ جاتا ہے اوراسی وجہ سے ہمارا نوجوان طبقہ تعلیم کی ریس میں پچھے رہ جاتا ہے۔ مغرب کی ترقی کا راز صرف تعلیم کو اہمیت دینا اور تعلیم حاصل کرنے کےلئے ہر ممکن کوشش کرنا ہے اورایسی تعلیم کے بل پر انہوں نے دنیا فتح کیا ہے۔ مغرب کی کامیابی اور مشرق کے زوال کی وجہ بھی تعلیم کا نہ ہونا ہے۔

دنیا کے وہ ملک جن کی معیشت تباہ ہوچکی ہے، جو دنیا کی بڑی طاقتوں پر depandکرتے ہیں ان کا defenseبجٹ تو اربوں روپے کا ہے مگر تعلیمی بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے، اگر کوئی بھی ملک چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے تو ان کو چاہیئے کہ وہ اپنی تعلیمی اداروں کو مضبوط کریں، آج تک جن قوموں نے ترقی کی ہے وہ صرف علم کی بدولت کی ہے۔ علم کی اہمیت سے صرف نظر کرنا ممکن نہیں۔ زمانہ قدیم سے دور حاضر تک ہر متمدن و مہذب معاشرہ علم کی اہمیت سے واقف ہے، فطرت بشر سے مطابقت کی بناپر اسلام نے بھی علم حاصل کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے، اس کے ابتدائی آثار ہمیں اسلام کے عہد مبارک میں ملتے ہیں چنانچہ غزوہ بدر کے قیدیوں کی رہائی کےلیئے فدیہ کی رقم مقرر کی گئی تھی ان میں سے جو نادار تھے وہ بلا معاوضہ ہی چھوڑ دیئے گئے لیکن جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں حکم ہوا کہ دس دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو چھوڑ دیئے جائیں گے۔

چنانچہ سیدنا زید بن ثابت ؓ نے جوکاتب وحی تھے، اسی طرح لکھنا سیکھا تھا۔ اسی بات سے ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ تعلیم کی کیا اہمیت ہے اوران کا حصول کتنا ضروری ہے۔ جو لوگ معاشرے میں تعلیم حاصل کرتے ہوں وہ دینی ہو یا دنیاوی اسکا اس معاشرے کے اندر اور اپنے گھر کے اندر ایک الگ مقام ہوتا ہے۔ ایک نوجوان بچے کا قدر بزرگ لوگ صرف تعلیم کی وجہ سے کرتے ہیں، ہمیں چاہیئے کہ تعلیم حاصل کریں اور اس کا صحیح استعمال کریں اور اگر ایسا ممکن ہوا تو وہ دن دور نہیں کہ ہم دنیا کے ان ملکوں میں شمار ہونا شروع ہوجائیں گے، جو جدید علوم سے آگاہی رکھتے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔