افغانستان میں قیدیوں کو اذیتیں دینے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے – اقوام متحدہ

48

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ا فغانستان کی جیلوں میں قیدیوں کو ایذا رسانی کے واقعات میں قدرے کمی واقع ہوئی ہے، لیکن تنازعات کے سلسلے میں گرفتار قیدیوں کو اذیتیں دینے کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

اقوام متحدہ کے افغانستان میں امدادی مشن (یو این اے ایم اے) افغانستان کی جیلوں میں قیدیوں کی صورت حال کے بارے میں شش ماہی رپورٹ جاری کرتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تنازعات سے منسلک زیر حراست ایک تہائی افراد نے بتایا ہے کہ اُنہیں سخت اذیتیں دی گئیں اور اُن سے انتہائی برا سلوک روا رکھا گیا۔ اُنہوں نے بتایا کہ اُنہیں مارا پیٹا گیا، بجلی کے جھٹکے دیے گئے، اُن کا سانس بند کرنے کی کوشش کی گئی، اُن کے پوشیدہ اعضاء کو کھینچا گیا اور اُنہیں چھت سے لٹکایا گیا۔

اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اُن کی رپورٹ افغانستان کے کل 34 میں سے 28 صوبوں میں موجود 77 جیلوں میں 618 قیدیوں کے انٹرویوز پر مبنی ہے۔

رپورٹ میں قیدیوں کو ایذا رسانی میں کمی سے متعلق افغان حکومت کے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اقدامات کو سراہا گیا ہے۔ تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات انتہائی کم اور غیر تسلی بخش ہیں۔

یو این اے ایم اے کے سربراہ تادامیچی یاماموتو کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کی پاسداری انتہائی اہم ہے اور رپورٹ سے پتا چلتا ہے کہ تنازعات سے منسلک جیلوں میں رکھے گئے افراد کو اذیتیں دینے کے واقعات کے خاتمے کے لیے ابھی بہت وقت درکار ہو گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن جیلوں میں ایذارسانی کے واقعات میں کمی دیکھی گئی ہے، وہ افغانستان کے خفیہ ادارے این ڈی اے کی نگرانی میں چلائے جا رہے ہیں جب کہ باقی تمام جیلوں میں انہیں بڑے پیمانے پر اذیتیں دینے کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اُن میں کوئی بہتری نہیں آ سکی۔

نیویارک میں قائم انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے اقوام متحدہ کی اس رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ افغان حکومت کی طرف سے قیدیوں کو دی جانے والی اذیتوں کے متعلق قانون سازی کو بین الاقوامی معیار تک لے جانے کی کوششیں کی گئی ہیں، لیکن احتساب کے سلسلے میں حکومت کا ریکارڈ انتہائی تشویشناک ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اُس نے جب قیدیوں سے جیل میں اذیتوں کے متعلق پوچھا تو انہیں پتا چلا کہ اذیت دینے والوں کے خلاف سوائے چند واقعات کے کوئی ٹھوس انضباطی کارروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی متاثرہ قیدیوں کو کوئی معاوضہ ادا کیا گیا۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ جب تک ان واقعات میں ملوث افراد کا احتساب نہیں کیا جاتا، یہ سلسلہ جاری رہے گا۔