ڈیورنڈ لائن پہ خار دار تار انسانی حقوق پہ ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے- محمود خان اچکزئی

31

افغانستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں پہر سے مداخلت کی غلطی نہ دہرائیں – رہنما پشتون خوا ملی عوامی پارٹی

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ ملک میں اٹھارویں ترمیم کے خلاف سازشیں ہو رہی ہیں کیونکہ اٹھارویں ترمیم میں تمام اقوام کو ان کا حق دیا گیا ہے غیر جمہوری قوتیں اٹھارویں ترمیم کو برداشت کرنے کیلئے تیا رنہیں ہیں اس لئے انہوں نے ملک میں غیر جمہوری حکومت کو مسلط کر دیا وفاقی حکومت بزور طاقت بنائی ہے عمران خان کی حکومت غیر ائینی اور غیر اصولی ہے اگر کسی کو پاکستان عزیز ہے تو اداروں کو سیاست سے دور رہنا ہوگا ہمیں ایک دوسرے کیساتھ گزارہ کرنا چاہیے ہم پاکستان میں ہر چیز میں برابر حصہ چاہتے ہیں اگر پشتون بحیثیت قوم انگریزوں کے خلاف ساٹھ سال تک نہیں لڑتی تو آج پاکستان آزاد نہیں ہوتا پاکستان کو اگر حقیقی معنوں میں چلانا ہے تو ملک میں آئین و قانون کی حکمرانی اورجمہوریت کی بالا دستی ہونی چاہئے-

انہوں نے کہا نواز شریف کو چوری پر سزا نہیں دی جا رہی بلکہ وہ ان قوتوں کی بات کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔ افغانستان میں قیام امن کے لئے امریکہاور پاکستان سمیت تمام ممالک کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے اگر کسی نے بھی مستقبل میں افغانستان کی بربادی میں حصہ لیا تو ان کے لئے مستقبل میں اچھے نتائج برآمد نہیں ہونگے ۔ میری تجویز ہے کہ تمام جمہوری پارٹیاں ملکر ملک میں جلسے کرے کہ یہ کیا تماشہ ہورہا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشتو بی بی سی سروس سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔

محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ سویت یونین کے افغانستان سے جانے کے بعد امریکہ کی ذمہ داری بنتی تھی کہ وہ زخمی افغانستان کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا اب امن کے لئے پوری دنیا اور خصوصاً افغانستان کے عوام خوش آمدید کہتے ہیں اور دنیا پر واضح کردینا چاہتے ہیں کہ افغانستان میں اس طرح امن نہیں ہوگا کہ دنیا کی مرضی چلے گی بلکہ امن آنے کے بعد وہاں پر افغانستان کے عوام کی مرضی ہونی چاہیئے افغانوں اور خصوصاپشتونوں کو جنگوں کی وجہ سے بہت سی مشکلات درپیش ہیں اور اس وقت جو مذاکرات ہو رہے ہیں یہ مذاکرات اسوقت تک کامیاب نہیں ہو سکتے جب تک مذاکرات میں افغانستان کے عوام کی مرضی کو شامل نہیں کیا جاتا اور اب بین الا اقوامی مذاکرات ہونے چاہیئے تا کہ تمام فریقین کو اس میں شامل کیا جائے جو قوتیں چالیس سال سے افغان جنگ میں شریک تھے-

انہوں نے کہا کہ ہماری خواہش ہے کہ وہ اب افغانستان کو ترقی اور امن کی خاطر اپنا کردارادا کریں اور افغانستان کو ایک خود مختیار ریاست تسلیم کریں اور جو بھی افغانستان میں مداخلت کرے گا ان کیخلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت کارروائی ہونی چاہیئے ہم خبردار کرنا چاہتے ہیں کہ نیٹو سویت یونین اور امریکہ ہمارے قرض دار ہیں اور وہ افغانستان کے کردار کے لئے اپنا کردار ادا کریں اور ان کی ملی اردو فورس کو بہتر بنانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں چالیس سال سے افغانستان میں خانہ جنگی ہوئی اور اب افغانستان کے عوام 21صدی کے تحت افغانستا ن کو ہر ظلم و جبر سے پاک کرنا چاہتے ہیں ، دنیا کی قوتوں نے اپنے مقاصد کے لئے افغانستا ن کو میدان جنگ بنایا۔

انکا کہنا تھا کہ افغانستان کے عوام نے دہشتگردی کے خلاف فرنٹ لائن کا کردار ادا کیا اور افغانستان کے ہمسایہ ممالک افغانستان میں مداخلت کی غلطی نہ دہرائیں اور ہمسایوں سے یہ گارنٹی لینی ہو گی کہ وہ مستقبل میں افغانستان میں مداخلت نہیں کریں گے۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے ہم اس میں رہتے ہیں مگر ہم کسی کی کالونی نہیں ہیں اور نہ ہی کسی نے فتح کیا ہے رضاکارانہ طور پر فیڈریشن میں شامل ہوئے ہیں ۔پاکستان اور افغانستان کے د رمیان خاردار تار لائن انسانی حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے افغانستان نے کبھی بھی پاکستان پر حملے کی حمایت نہیں کی جب افغانستان بہتر حالت میں تھی اس وقت 65اور 71کی جنگ میں بھارت کا ساتھ نہیں دیاتوا ب زخمی حالات میں کیسے کسی اور کا ساتھ دیں گے پاکستان میں پشتون بحیثیت قوم دوسری شہری کے حیثیت سے رہنے کے لئے تیار نہیں ہیں ہمیں اپنے حقوق پر اختیار دیا جائے اب ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ فوج سمیت تمام اداروں میں آبادی کی بنیاد پر حصہ دیا جائے ہم بھی پاکستانی ہیں اور اس ملک کے لئے بہت بڑی قربانیاں دی ہیں کسی پر احسان نہیں کرتے مگر دوسرے بھی ہم پر احسان نہ کریں۔

انہوں نے کہا کہ پشتون بحیثیت قوم ساٹھ سال انگریزوں کے خلاف نہیں لڑتے تو آج پاکستان آزاد نہیں ہوتا پاکستان کو اگر چلانا ہے تو جمہوری طریقے سے چلایا جائے اور اس ملک کا واحد چلانے کا حل جمہوریت ہے آئین اور جمہوریت کو کچھ ہوا تو دفاع کریں گے ۔

انکا مزید کہنا تھا کہ آج بھی جمہوری قوتوں کے خلاف کسی نہ کسی شکل میں سازشیں ہو رہی ہیں پہلے کشمکش تھا اب کشمکش پختہ ہو گیا ۔اٹھارویں ترمیم سے بہت سی تبدیلیاں آئیں لیکن کچھ قوتوں کیجانب سے اٹھارویں ترمیم کو متنازعہ بنانے کے لئے سازشیں کی جا رہی ہیں اور ان سازشوں کی بدولت عمران خان کی شکل میں ایسے شخص کو ملک پر مسلط کر دیا گیا جو ان تمام چیزوں میں بخوبی کردار ادا کر رہے ہیں ۔ نواز شریف نے خود کہا تھا کہ اب ملک میں فوج کی مداخلت کو برادشت نہیں کریں گے جس کی وجہ سے ان کو سزا دی گئی ہے یہ چور ی اور کرپشن کی بات تو ڈرامہ ہے ان کو صرف اورصرف جمہوریت کے ناتے سزا دی گئی ہے کیونکہ نواز شریف جانتے ہیں کہ جو قوتیں جمہوریت کے خلاف ہیں وہ ملک توڑنے کے خلاف بھی سازشیں کر رہی ہیں۔

انہوں نے آخر میں کہا کہ بلوچستان میں ایک جمہوری حکومت کے خاتمے میں ایک ادارے کے افسر نے کردار ادا کیا اگر یہ کسی اور ملک میں ہوتا توا س آفسیر کے خلاف کاررائی کرتا یہ ان کو نوکری سے برطرف کرتاتھا مگر یہاں پر ان کے خلاف کچھ نہیں کیا گیا۔ میری تجویز ہے کہ موجودہ حالات میں تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ سڑکوں پر نکل کر موجودہ حکومت کے خلاف میدان عمل میں نکلے ۔