خصوصی انٹرویو اماں یاسمین اسلم

285

خصوصی انٹرویو اماں یاسمین اسلم

بشکریہ۔ کرنٹ بلوچستان

دی بلوچستان پوسٹ

اماں یاسمین اسلم کی یہ انٹرویو کرنٹ بلوچستان پر شائع ہوئی، دی بلوچستان پوسٹ اپنے قارئین کیلئے شکریہ کے ساتھ یہ انٹرویو شائع کررہا ہے۔

ہم آپ کو کرنٹ بلوچستان کے خصوصی انٹرویو سیریز کے پروگرام میں خوش آمدید کہتے ہیں۔

جواب۔ مہربانی آپ لوگوں کی کہ آپ میرے خیالات کو میری بلوچ قوم تک پہنچانا چاہتے ہیں۔

جب آپ کو یہ پتا چلا کہ آپ کے نوجوان فرزند پھلیں فدائین ریحان جان دھرتی ماں کی خاطر خود کو قربان کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں، تو آپ نے کیا سوچا یا آپ کے تاثرات اس وقت کیا تھے؟

جواب۔ میں وہ لمحات و جذبات الفاظ میں بیان نہیں کرسکتی ہوں، اگر میں بیان کر بھی لوں پھر بھی شاید یہ ممکن نہیں کہ سننے اور پڑھنے والا ان جذبات کو اسی طرح محسوس کرپائے۔ اس حالت سے پتہ نہیں کوئی گذرا ہے یا نہیں، ایک بات میں واضح کروں خونی رشتوں میں کسی ماں اور کسی بیوی کے لیئے اپنے اولاد اور شوہر سے بڑھ کر کوئی اور بڑا رشتہ نہیں ہوتا لیکن جب وطن اور قوم کی سچی محبت، احساس اور درد اپنے انتہاء کو پہنچتی ہے تو پھر شوہر اور اولاد کا رشتہ بھی بے بس ہوجاتا ہے، یہ میری ذاتی رائے، تجربہ اور محسوسات ہیں۔ جب آپ اس قابل ہوجائیں کہ اپنے وطن اور اپنی قوم کا درد حقیقی معنوں میں محسوس کریں پھر آپکے سامنے اپنا ذاتی رنج، تکلیف اور نقصان کوئی معنی نہیں رکھتا، آپ قوم و وطن کیلئے ہر درد برداشت کرسکتے ہیں اور ہر قربانی سے گذرسکتے ہیں۔

2- جس بات پر یقین کرنا بھی ممکن نہ ہو اس عمل کو آپ نے جس طرح ہمت و بہادری سے سرانجام دیتے ہوئے ریحان جان کو بلوچستان کا بیرک پہنا کر انکے سر پر ہاتھ رکھ کر انہیں سرزمین پر قربان ہونے کی خاطر روانہ کردیا۔ اس بارے میں آپ کیا کہنا چاہینگی کہ وہ کونسی محبت یا سوچ ہے کہ آپ اس طرح کی قربانی دینے سے قبل ذرہ برابر بھی نہیں ہچکچائی؟

جواب۔ کچھ نہیں! بس بلوچ قوم اور بلوچستان کی محبت اور اپنے شہیدوں کا احساس اور درد کے ساتھ دشمن سے انتقام کا جذبہ، یہ احساس کہ میرا بیٹا خود کو فنا کرکے ہمارے آنے والی نسلوں کے لاکھوں ریحانوں کیلئے آزادی و خوشحالی کا خواب آنکھوں میں لیئے ہوئے ہے۔ جب ریحان کی آنکھوں میں ذرہ برابر ہچکچاہٹ نہیں تھا تو میں کیسے ہچکچا سکتی ہوں، میں صرف ایک ایسے بہادر بیٹے کی ماں ہونے پر فخر محسوس کرسکتی ہوں۔

3- آپ نے اپنے فرزند پھلیں ریحان جان اور اپنے شوہر جنرل اسلم بلوچ جیسے عظیم سروں کی قربانیوں کے بعد بھی ایک مضبوط چٹان کی طرح کھڑی ہوکر بلوچ قوم کے نام یہ پیغام دیتی ہیں کہ یہ جنگ اب بھی جاری ہے اور ہماری جدوجہد فردوں کے جانے یا قربان ہوجانے یا شہادت سے ختم نہیں ہوگا۔ آپ کے خیال میں آج بلوچ عوام خصوصی طور پر نوجوان جنرل اسلم اور ریحان کے فکر و نظریات کو کس حدتک منزل کی جانب بڑھا رہے ہیں یا کس طرح بہتر انداز میں آگے بڑھا سکتے ہیں؟

جواب۔ بالکل! میں سوفیصد پرامید ہوں کہ جنرل اسلم اور ریحان اور دیگر شہیدوں کے لہو سے آج ہزاروں اسلم اور ریحان پیدا ہوچکے ہیں، اب جنرل اسلم کی فکر اور کاروان آگے بڑھے گی اور آزادی تک نہیں رکے گی، یہ میرا ایمان ہے۔ بلوچ قوم بانجھ نہیں ہے، ہمارے ہزاروں نوجوان جنرل اسلم و ریحان جان کے راستے پر اسی جذبے کے ساتھ رواں ہیں، اور وہ جانتے ہیں کہ اس کاروان کو کیسے بہتر انداز میں آگے بڑھانا چاہیئے۔

4- دنیا کے دیگر آزادی کی تحریکوں یا انقلابی تحریکوں میں خواتین کا ایک اہم اور قائدانہ کردار رہا ہے، جس طرح فلسطین، کردستان یا دنیا کی دیگر مثالیں موجود ہیں۔ پر بلوچ قومی تحریک میں خواتین کی محدود شراکت کی وجوہات آپ کیا سمجھتی ہیں؟

جواب ۔ بلوچ تحریک میں خواتین کی شرکت پہلے کی نسبت اب زیادہ ہے اور آگے مزید زیادہ ہوگی، آج میں خود دیکھ رہی ہوں بلکہ محسوس کررہی ہوں کہ میری ماں اور بہنوں کی جرت اور سوچ دنیا کے دیگر مظلوم خواتین سے کم نہیں بلکہ وقت کے ساتھ ساتھ مزید وسعت اختیار کریگی، انشاء اللہ۔ آزادی کسی قوم کے مردوں کیلئے جتنی ضروری ہے، اتنی ہی خواتین کی بھی ضرورت ہے، ہوسکتا ہے ماضی میں ہمارے سماجی بندھنوں کی وجہ سے خواتین اس تحریک میں اتنا متحرک کردار ادا نہیں کرسکے ہیں، لیکن اب اس بات کا احساس تمام بلوچ مردوخواتین کو ہوچکا ہے کہ خواتین کے شرکت کے بغیر آزادی کا حصول آسان نہیں ہوگا۔

5- جنرل اُستاد اسلم بلوچ کی شہادت نہ صرف انکی تنظیم بی ایل اے کی خاطر بلکہ مجموعی طور پر قومی تحریک کی خاطر ایک ناقابل تلافی نقصان تصور کیا جارہا ہے آپ اس بابت کیا کہنا چاہینگے؟

جواب ۔ فائدے اور نقصان، اتار چڑھاو، تحریک کے لازمی حصے ہوتے ہیں، میں اس کو اس وقت نقصان سمجھوں گی جب تحریک خدانخواستہ رک جائے، جب تک تحریک جاری و ساری ہے، اس وقت تک شہادتیں تحریک کے لیئے فائدہ مند ہونگی، ہوسکتا ہے شہادتوں سے وقتی اتار چڑھاو آئے، لیکن تحریک رکے گا نہیں، اور شہادتیں ایندھن بن کر تحریک کو مزید آگے بڑھاتی رہینگی، ہاں البتہ ایک بیوی کے لیئے اسکے شوہر کا جدا ہونا، ضرور بڑا اور ناقابل بیان نقصان ہے۔

6- آج پوری قوم آپ کو لمہ یاسمین کے نام سے جانتی اور پکارتی ہے اوراسی حوالے بلوچ قوم کی بہت سی امیدیں آپ سے وابستہ ہیں جس کی وجہ آپ کی قربانیاں ہیں اور بہادرانہ کردار ہے کیا لمہ یاسمین ہمیشہ بلوچ قوم کی اسی طرح دلیرانہ اور بے باک رہنمائی کرتی رہینگی اور سنگین قومی مسائل کے سامنے چٹان بن کر کھڑی ہونگی؟

جواب۔ قومی آزادی جیسے عظیم نعمت کے لیے ابھی تک میں نے کچھ نہیں کیا، بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ آزادی حاصل کرنا معمولی چیز نہیں۔ بہت قربانیاں دینے اور تسلسل کے ساتھ قربانی دینے اور جہد کرنے کے بعد ہی آزادی ممکن ہوتی ہے۔ میں بلوچ قومی آزادی کے لیئے اپنی آخری سانسوں تک جدوجہد جاری رکھوں گی، اور کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کروں گی۔

7- ایک طرف چین تو دوسری طرف سعودی عرب بھی کمر باندھ کر بلوچ قومی وسائل کی لوٹ مار میں شامل ہونے جارہا ہے ان تمام طاقتوں کو روکنے کی خاطر وقت کی ضرورت اور بلوچ قوم کی خوائش بھی یہی ہے کہ ہمیں مشترکہ طورپر ایک ہی محاذ پر یکجاہ ہونا ہوگا۔ اُستاد اسلم بھی اسی سوچ و نظریئے پر یقین رکھتے تھے آپ اس حوالے سے کیا کہنا چاہینگے؟

جواب۔ بالکل اتحاد و یکجہتی کے بغیر ان بڑے بڑے قوتوں اور دشمنوں کو شکست دینا ممکن نہیں ہے، ضرورت اس وقت یہی ہے کہ پوری بلوچ قوم متحد ہوکر بھرپور طاقت کے ساتھ دشمن کے خلاف لڑے۔ اسی بات کا ادراک جنرل اسلم بلوچ کو بخوبی ہوگیا تھا، انہوں نے اتحاد و اشتراک عمل کیلئے عملی کوششیں کی اور یہ ثابت کیا کہ اگر نیک نیتی کہ بنیاد پر کوشش کی جائے تو اتحاد و اتفاق ممکن ہے۔

8- آپ کس طرح کا آزاد بلوچستان دیکھنا چاہتی ہیں؟

جواب ۔ میں ایک ایسا آزاد بلوچستان چاہتی ہوں، جہاں انصاف ہو برابری ہو، ہر بلوچ خوشحال و آسودہ ہو، جہاں بزگر و سردار برابر ہوں، جہاں مرد اور خواتین برابر ہوں، جہاں تمام مذاہب کے پیروکار یکساں آزادی کے ساتھ برابر ہوں، جہاں سب سے بڑھ کر انسانیت کی قدر ہو۔ جہاں ظلم و جبر، ناانصافی کا تصور نہ ہو، جہاں علاج اور تعلیم مفت ہو، جہاں بلوچ ریاست ایک حقیقی ماں کی طرح تمام بلوچوں کو برابری کی نظر سے دیکھے اور برابر خیال رکھے۔

9-آپ بلوچ قوم اور بلوچ سماج میں ایک بہادر ماں کی حیثیت رکھتی ہیں، آپ دیگر بلوچ ماؤں اور بلوچ خواتین کے نام کیا پیغام دینا چاہینگی؟

جواب۔ قربانی، مسلسل قربانی! جدوجہد اور مسلسل جدوجہد! اپنے بیٹوں کو آزادی کی جدوجہد سے منع کرنے اور روکنے کے بجائے ان کے لیئے ہمت اور حوصلہ بنیں، ان کا ساتھ دو، ان کے لیے دعا کرو، ان پر فخر کرو، ان کی حوصلہ افزائی کرتی رہو۔ بچے کا پہلا درسگاہ ماں کا گود ہوتا ہے، اسے پہلے درسگاہ سے ہی آزادی کا درس دیکر بڑا کرو۔