بلوچ فرزندوں کو قتل کرکے لاوارث دفنانا پاکستان کے جنگی جرائم میں نئی اضافہ ہے ۔ بی این ایم

69

اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں پاکستان کے جنگی جرائم کا نوٹس لیں تاکہ اس بہیمانہ مظالم کا سدباب ممکن ہو۔

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا کہ کوئٹہ میں بارہ افراد کو لاوارث قراردے کر دفنانا پاکستان کے جنگی جرائم کی فہرست میں ایک نئی اضافہ ہے۔ اس عمل کیلئے دانستہ طور پر 27 مارچ کا دن چنا گیا تاکہ بلوچ قوم کو یہ احساس دلایا جائے کہ وہ غلام ہیں اور غلاموں کے کوئی بنیادی و انسانی حقوق نہیں ہوتے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے بلوچستان کو ایک مقتل اور قصاب خانہ بنا دیا ہے۔ یہاں مکمل طورپر ایک انسانی المیہ اور بحران جنم لے چکا ہے اور یہ انسانی بحران عالمی اداروں کی خاموشی کی وجہ سے روز بروز سنگین تر صورت اختیار کر رہا ہے۔ اجتماعی قبروں، مارو اور پھینکو، جعلی مقابلوں کے بعد اب لاپتہ بلوچوں کو لاوارث قرار دیکر دفنایا جا رہا ہے۔ ایدھی ٹرسٹ کے مطابق صرف گذشتہ چند ہی مہینوں میں ایک سو اکتیس لاشوں کو لاوارث قرار دیکر ہمارے حوالے کیا گیا ہے جنہیں تیرا میل دشت میں ایک قبرستان آباد کرکے دفنایا جا رہا ہے۔ یہ سلسلہ یہاں بھی نہیں رکے گا اگر عالمی ذمہ دار اداروں نے پاکستان کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا۔

ترجمان نے کہا کہ گذشتہ دنوں ایک دفعہ پھر ایدھی ٹرسٹ کو بارہ لاشیں حوالے کی گئی ہیں اور معمول کی طرح انہیں لاوارث قرار دیا گیا ہے۔ اس جدید دور میں یہ ممکن ہی نہیں کہ ایک ہی علاقے میں سینکڑوں لاشیں دریافت ہوں اور ان کا کوئی وارث نہ ہو۔ اس عمل کی وجہ سے لاپتہ افراد کی خاندانوں میں نہایت ہی تشویش اور خوف کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اور اس عمل میں پاکستانی ٹارچرسیلوں میں مقید بلوچوں کو اس طرح شہید کرکے پھینک کر لواحقین کے حوصلوں کا شکست دینا چاہتا ہے تاکہ انہیں ذہنی و نفسیاتی شکست سے دوچار ہوکر اپنے پیاروں کی بازیابی کے جدوجہد سے دست بردار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ گذشتہ بیس سالوں سے بلوچ نسل کشی کے عمل سے دوچار ہیں۔ روزانہ کی بنیاد پر بلوچ قتل ہورہے ہیں، لاپتہ ہورہے ہیں اور گذشتہ دس سالوں سے پاکستانی ٹارچر سیلوں میں اذیت سہنے والے بلوچوں کے لواحقین کی جدوجہد اس بات کا گواہ اور ثبوت دینے کیلئے کافی ہیں کہ پاکستان میں انسانی حقوق کو بندوق کی نوک پر کچلا جارہا ہے اورآج کی جدید دور میں سینکڑوں افراد کو لاوارث قرار دیکر دفنانا پاکستان کا ایک غیر مہذب، غیر فطری اور انسانی اقدار سے محروم ریاست ہونے کی دلیل اور ثبوت ہیں۔

انہوں نے کہا چونکہ پاکستان بلوچ قوم کی واضح نسل کشی اورانسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے،ایسی صورت حال میں اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی اداروں کا بنیادی فریضہ ہے کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا روزانہ کی بنیادوں پر نگرانی کا آغاز کریں اور اقوام متحدہ سمیت عالمی طاقتیں پاکستان کے جنگی جرائم کا نوٹس لیں تاکہ اس بہیمانہ مظالم کا سدباب ممکن ہو۔