آٹھ مارچ محنت کش خواتین کا دن – فراز بلوچ

24

آٹھ مارچ محنت کش خواتین کا دن

فراز بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

فریڈرک اینگلز اپنی کتاب خاندان ، ذاتی ملکیت اور ریاست کا آغاز میں کہتا ہے کہ “محنت کی سب سے پہلی تقسیم مردوں اور عورتوں میں بچہ پالنے کے لئے ہوئی۔ تاریخ میں پہلا طبقاتی اختلاف یک زوچکی کے نظام کے اندر مردوں اور عورتوں کے اختلاف کے ابھرنے کے ساتھ ساتھ نمودار ہوتا ہے اور پہلا طبقاتی ظلم عورتوں پر مردوں کے ظلم کے ساتھ ساتھ ہوتا ہے۔ یک زوچگی کا نظام تاریخی حیثیت سے ترقی کا ایک بڑا قدم تھا لیکن اس کے ساتھ وہ ایک ایسا قدم تھا جس نے غلامی اور انفرادی دولت کے ساتھ اس دور کا آغاز کیا جو آج تک قائم ہے ”

تاریخ غیر مبہم انداز میں بتاتی ہے کہ خواتین کے استحصال کا آغاز انسانی سماج کے طبقات میں تقسیم ہونے کے ساتھ ہوا تھا۔ جب تک طبقاتی استحصال پر مبنی یہ سماج قائم ہے، خواتین کے استحصال اور محرومی کا خاتمہ بھی ممکن نہیں ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کش طبقہ بحیثیت مجموعی استحصال اور جبر کا شکار ہے۔

معاشرے کی قدروں پر حملہ آور ہونے کے لیئے استعمار ہمیشہ پہلے عورت کو ہی نشانہ بناتا ہے۔ تاکہ عورت کو ورغلا کر اس کے مقام سے گرادیا جائے، اس طرح پورا نظام بگاڑ کا شکار ہو کر اپنی وحدت اور اصلیت کھو بیٹھے۔ عورتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے انہیں مردوں کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے اور جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ مرد ہی عورت کو پسماندہ اور گنوار رکھنا چاہتا ہے۔ حالانکہ اس بات کاحقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اس طرح عورتوں کے ساتھ ہمدردی ظاہر کرنے کےلئے ایک نظام بنایا جاتا ہے، امداد باہمی کی نئی نئی انجمنیں بنائی جاتی، ترقیاتی ادارے کھولے جاتے اور عورتوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ مرد ان کے ساتھ ذلت آمیز سلوک کرتے ہیں، یہ بہت ہی قابل افسوس ہے۔ سب سے پہلے خواتین کو دھوکہ دینے کے لئے جو اقدام کیا گیا وہ عورتوں کو امداد باہمی اور دیگر فلاحی اداروں میں خیراتی کاموں پر لگایا گیا۔

استعمار کی بھیک پر پلنے والے غیر سرکاری ادارے استحصال کی فروخت کاری کے اس عمل میں مظلوم خواتین کے دکھوں کا سودا کرنے کیلئے رنگ برنگ کے حربے استعمال کرتے ہیں، خواتین کے حقوق اور انکے فرائض پر لیکچر دیئے جاتے ہیں، نغمے اورترانے ترتیب دیئے جاتے ہیں۔ اس ساری منافقت کے ذریعے محنت کش خواتین کے اذیت ناک مسائل اور سلگتے ہوئے مصائب کی حقیقی وجوہات کو چھپانے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہیں۔ نام نہاد حقوق نسواں کی علمبرداری کرنے والے استعماریت کے خیر خواہوں کے پاس معاشی اور سماجی مسائل سے نجات کا کوئی ٹھوس لائحہ عمل اور پروگرام نہیں ہوتا۔

8 مارچ کا عالمی دن یہ پیغام دیتا ہے کہ محنت کش سماج سے طبقاتی تفریق کے خاتمے کے لیے استعماریت کو شکست دے کر اس سے نجات حاصل کی جائے۔
8 مارچ ’’خواتین‘‘ کا نہیں ’’محنت کش خواتین‘‘ کا عالمی دن ہے۔ حکمران طبقے کی خواتین کے مفادات، روایات، رویے اور اقدار محنت کش خواتین سے مختلف ہی نہیں متضاد ہیں۔ یہ دن تقاضا کرتاہے کہ اس پس منظر اور مقصد کو سمجھا جائے ۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔