ہمیں اپنی تمام تر توانائی قومی طاقت و جنگ پر مرکوز کرنا چاہیے – بشیر زیب بلوچ

103

 بلوچ رہنما بشیر بلوچ نے اپنے جاری ایک پیغام میں کہا کہ صبرواستقامت، مستقل مزاجی، بلند حوصلوں اور پرامیدی کی کرنوں کے ساتھ ہم ایک پرخار اور پرکھٹن راہ کے مسافر ہیں، جہاں زندگی اور سانسوں کے آخری لمحات کے بارے میں کچھ بھی یقین نہیں کہ کہاں اور کب ساتھ چھوڑ دینگے کیونکہ یہ راستہ ہی ایسا ہے اور اس کا تعین ہم نے شعور کی پختگیوں اور بلندیوں کے ساتھ کیا ہے۔ جس طرح ہم ذہنی و فکری حوالے سے برسوں سے جن مصائب و آلام کو خندہ پیشانی سے قبول کرنے کے لیے تیار تھے، ابھی تک انکا آغاز ہے، ان مصائب اور آزمائشوں کو بام عروج کو چھونا ہوگا اور ہمارے آہنی ہمتوں کو آزمایا جانا ہوگا۔ کیونکہ یہ ایک معمولی راستہ نہیں، یہ حسین شاہراہ قومی آزادی کے حصول کی راہ ہے اور یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ قومی آزادی آج تک نہ کسی کو تیار دسترخواں پر ملا ہے اور نہ ہی آئندہ ملے گی۔

 انہوں کہا کہ قومی آزادی وہ نومولود بچہ ہے جو قربانیوں، مشکلات، تکلیف اور مصیبتوں کی کوکھ سے جنم لیتا ہے۔ اس وقت ہم ایک انتہائی مکار و شاطر اور بزدل دشمن پاکستان کے علاوہ چین جیسے سامراجی ریاست سے نبرد آزما ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے درپردہ قوتیں بھی آج بلوچ قوم کو اپنی ہی تاریخی سرزمین بلوچستان سے صفحہ ہستی سے مٹانے کی خاطر پوری قوت کے ساتھ سرگرم عمل ہیں۔

انہوں نے اپنے پیغام میں مزید  کہا کہ بلوچستان کی جیوپولٹیکل و اسٹریٹجیک اہمیت، ساحل و وسائل اور اہم جغرافیائی و عسکری اہمیت کی وجہ سے آج دنیا کی نظروں میں بلوچستان کھٹک رہا ہے، شاید جس طرح دنیا کو بلوچ سرزمین کی افادیت و اہمیت کا جس حد تک بخوبی علم ہے، وہ خود پورے بلوچ قوم کو نہیں ہے۔ اگر آج پوری بلوچ قوم کو یہ علم و شعور اور احساس ہوجاتا کہ ہم من حیث القوم کس سرزمین کے وارث و مالک ہیں، تو آج صورتحال قومی جہد اور قومی جنگ کے حوالے سے یکسر مختلف ہوتا۔ آج کم از کم کوئی بھی غیرت مند اور باشعور بلوچ خواب غفلت میں آرام اور سکون سے نہیں بیٹھتا بلکہ ہر بلوچ دشمن کے خلاف سینہ سپر ہوکر قومی آزادی کی جدوجہد میں شانہ بشانہ ہوتا۔

بشیر زیب بلوچ نے کہا کہ بلوچ سرزمین کی افادیت و اہمیت کے ساتھ آج بلوچ قوم جس حالت و صورتحال سے دوچار ہے اور جس صورتحال اور حالت کا مستقبل قریب میں بحثیت قوم ہمیں سامنا ہوگا، شاید کم ہی بلوچوں کو اس حوالے سے علم و آگاہی ہے، اگر علم و آگاہی ہے بھی تو پھر کبوتر کی طرح آنکھیں موند کر ہر کوئی اپنی جان بچانے کے فلسفے پر عمل پیرا نظرآتا ہے، جس میں یقیناً نجات نہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہر بلوچ کو یہ یاد رکھنا پڑیگا کہ جب جنگل میں آگ لگتی ہے تو تر وخشک سب جل کر راکھ ہوجاتے ہیں،کیا یہ بہتر نہیں کہ کبوتر کی طرح ایک ایک کرکے آنکھیں موند کر دشمن کا نشانہ بننے کے بجائے جتھہ بن کر دشمن پر ٹوٹ پڑیں اور اس آگ پر ہی قابو پائیں جس نے تر و خشک پورے گلستاں کو ہی راکھ کردینا ہے۔ ایک قومی قوت بن کر اپنی سرزمین کی دفاع اور قومی آزادی کی حصول کی خاطر دشمن کے لیئے جنت کے بجائے جہنم کی آگ بنادیں۔

اگر ہم ایک نا ہوئے تو ختم ہوجائیں گے، پھر نا بلوچ ہوگا نہ ہی بلوچستان بلکہ بلوچ سرزمین عالمی قوتوں کی آپسی جنگوں اور پروکسیوں کی مستقبل میں آمجگاہ و تجربہ گاہ بن جائیگا۔

بلوچ رہنما نے اپنے پیغام کے آخر میں کہا کہ آج سے ہمیں یہ عہد کرنا ہوگا کہ اپنی تمام تر توانائی، اپنی قومی طاقت و قومی جنگ پر مرکوز کرنا ہے۔ خوف، الجھن تذبذب، خود غرضی اور سستی و کاہلی جیسے، ناسور امراض سے چھٹکارہ پاکر اپنے قوم و دیگر قوموں کے بہادر فرزندوں کی طرح بہادری اور ہمت کی ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

یہ وقت ہرگز وقت گذاری و آرام اور سکون کا نہیں۔ جان بچانے کی کوشش میں جان کے چلے جانے سے بہتر یہی ہے کہ جان کو قربان کرکے آنے والی نسلوں کو بچانا اور دشمن کو اپنی سرزمین سے بھگانا ہے۔