کوئٹہ پریس کلب کے سامنے لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج جاری

101

لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے کوائف جمع کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ نمائندے کے مطابق بلوچستان کے دار الحکومت کوئٹہ میں پریس کلب کے سامنے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے افراد کی بازیابی کیلئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے احتجاج کو 3491 دن مکمل ہوگئے جبکہ لاپتہ افراد کے لواحقین سے سمیت سیاسی جماعتوں اور سول سائٹی سے تعلق رکھنے والے افراد نے احتجاج میں حصہ لیا۔

اس موقعے پر وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ حق نے ہمیشہ طاقت کو شکست فاش سے دوچار کیا ہے مگر معلوم نہیں کیوں انسانی جھکاو ہمیشہ حق کے بجائے طاقت کے حصول کی جانب رہتا ہے اور یہ ایک سوچنے، سمجھنے کی بات ہے کہ کیوں ہمیشہ طاقت کے مقابلے میں حق اپنے عبوری دور میں ملیامیٹ ہوتا چلاجاتا ہے یہاں تک کہ اپنے حق پر ڈٹے لوگ بھی نا امیدی اور سراسیمگی کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں اور اپنے مطالبے سے دستبردار ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حق پرستوں کو جلاوطنی، بھوک، پیاس، گرفتاریوں، انسانیت سوز تشدد، اغوا ہونے سمیت تہہ خانوں میں زندہ درگور ہونے جیسے صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا رہا ہے اور پڑتا رہے گا۔

ماما قدیر نے مزید کہا کہ میرے لیے امید کی کرن ہے کہ جیت ہمیشہ حق کی ہوگی۔ تو کیوں نہ ہمیں حق کا ساتھ دینا چاہیئے جس کے مقدر میں فطری طور پر جیت لکھ دی گئی ہے۔

ٹی بی پی نمائندے کے مطابق وی بی ایم پی کے پاس لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے اپنے پیاروں کے کوائف جمع کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا ہے۔ گذشتہ روز لاپتہ شاہ میر ولد تاج محمد اور عالم خان ولد پائند خان مری کے لواحقین نے ان کے حوالے سے تفصیلات جمع کیے۔

لواحقین کے مطابق شاہ میر ولد تاج محمد اور عالم خان ولد پائند خان مری سکنہ بارکھان کو 10 جولائی 2013 کو اس وقت لاپتہ کیا گیا جب وہ عالم خان کے ہمشیرہ کے شادی کے لیے سامان خریدنے گئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ فرنٹیئر کور اور سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے دونوں افراد کو حراست میں لیکر نامعلوم مقام پے منتقل کردیا جس کے بعد وہ تاحال لاپتہ ہیں۔

اس کے علاوہ لاپتہ حبیب الرحمٰن ولد سعد اللہ مینگل سکنہ نوشکی کے بھائی عبدارحمٰن مینگل نے احتجاجی کیمپ آکر اپنے بھائی کے حوالے سے احتجاج ریکارڈ کرایا۔ بھائی کے گمشدگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ حبیب الرحمٰن مینگل کو 31 اکتوبر 2014 کو اس وقت جبری طور پر لاپتہ کیا گیا جب وہ جمعہ نماز پڑھنے کیلئے گھر سے باہر نکلا تھا۔

انہوں نے صوبائی حکومت سے گزارش کی ہے کہ میرے بھائی سمیت دیگر لاپتہ افراد کو بازیاب کیا جائے۔

یاد رہے لاپتہ افراد کے لواحقین کی جانب سے تفصیلات وی بی ایم پی کے پاس جمع کیئے جارہے جنہیں تنظیم کی جانب سے صوبائی اور وفاقی حکومت سمیت انسانی حقوق کے دیگر ادارے کے پاس جمع کیا جارہا ہے۔