کندھار :طالبان کا سرکردہ جنگی کمانڈر فورسز کے ہاتھوں گرفتار

111

حالیہ چند دنوں میں ایک طرف جہاں طالبان و امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے وہی دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے سرکردہ جنگی کمانڈروں کونشانہ بنانے میں بھی تیزی آئی ہے ۔

دی بلوچستان پوسٹ نمائندہ کابل کے مطابق افغانستان کے جنوبی صوبے کندھار کے مضافاتی اضلاع میں گذشتہ کئی روز سے افغان اور نیٹو فورسز نے مشترکہ زمینی و فضائی آپریشن کا آغاز کردیا ہے ۔

آمدہ اطلاعات کے مطابق افغان فورسز کے کندھار کے ضلع ارغستان میں آپریشن میں طالبان کا سرکردہ جنگی کمانڈر گرفتار ہوا ہے ۔

طالبان کے جنگی کمانڈر کی گرفتاری کے حوالے سے کندھار پولیس سربراہ تادین خان اچکزئی نے میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ صوبہ زابل کے شہر شار صفا کے لئے طالبان کمانڈر کو گرفتار کرلیا ہے ۔

تاہم پولیس سربراہ نے جنگی کمانڈر کی اصلی شناخت بتانے سے گریز کیا ۔

دوسری جانب طالبان نے تاحال جنگی کمانڈر کی گرفتاری کی تصدیق و تردید نہیں کی ہے ۔

واضح رہے کہ حالیہ چند دنوں سے افغانستان  میں امن کے قیام کےلئے جہاں طالبان و امریکہ کے درمیان مذاکرات میں پیش رفت دیکھنے میں آیا ہے وہی دوسری جانب افغان و امریکی فورسز نے طالبان سرکردہ جنگی قیادت کو نشانہ بنانے میں تیزی لائی ہے ۔

گذشتہ ہفتے افغانستان کے صوبے ہلمند کے ضلع سنگین میں مولوی شیر آغا کو بمباری کرکے چار ساتھیوں سمیت ہلاک کردیا گیا، دوسری جانب ایران سے متصل صوبے فراہ کے خاک سفید میں طالبان کے لیڈر قاری عبدالقاہر کو گاڑی میں جاتے ہوئے نشانہ بنایا گیا ، اور اسی طرح غزنی صوبے کے لئے طالبان کے ملڑی چیف مولوی ساہرکو قراہ باغ ضلع میں جنگی ہیلی کاپٹر نے ہدف بناکر ہلاک کردیا ۔