غیر محفوظ بلوچ سیاسی کارکنان – دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

255

غیر محفوظ بلوچ سیاسی کارکنان

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

بہزاد دیدگ بلوچ

اس ماہ کے اوائل میں پشتون تحفظ موومنٹ کے مرکزی رہنما ابراہیم ارمان لونی کے بلوچستان میں پولیس اور خفیہ اداروں کے ہاتھوں تشدد و قتل کے خلاف 32 سے زائد شہروں میں بڑے پیمانے پر احتجاج ہورہے ہیں، گوکہ پی ٹی ایم بارہا اپنے موقف کی وضاحت کرچکی ہے کہ انکی تحریک ایک پرامن تحریک ہے اور وہ عدم تشدد پر یقین رکھتے ہیں لیکن اسکے باوجود وہ ریاستی تشدد سے گلو خلاصی کرنے میں کامیاب نہیں رہے۔

بلوچستان میں یہ اپنے نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے، اس سے پہلے پر امن سیاست پر یقین رکھنے والے کئی نامور بلوچ قوم پرست دانشور، پروفیسر، سیاسی رہنما اور سیاسی کارکنان اسی طرز پر قتل کیئے جاچکے ہیں اور ہزاروں تادم تحریر لاپتہ ہیں۔ ان سرکردہ ناموں میں بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین غلام محمد بلوچ اور اسکے ساتھی، بلوچ دانشور و پروفیسر صباء دشتیاری اور بلوچ طلباء جماعت بی ایس او کے سیکریٹری جنرل رضا جہانگیر سمیت کئی قتل ہوچکے ہیں اور زاھد بلوچ، ذاکر مجید بلوچ و ثنااللہ بلوچ کی صورت میں ہزاروں کی تعداد میں بلوچ قوم پرست رہنما و کارکنان لاپتہ ہیں۔ ان میں سے 1300 سے زائد کی قابلِ شناخت مسخ شدہ و تشدد زدہ لاشیں مل چکی ہیں جبکہ سینکڑوں ناقابلِ شناخت لاشیں ایدھی دفن کرتی رہی ہے۔

بلوچستان میں پرامن سیاسی کارکنان کے اس قتلِ عام اور عدم تشدد کے سیاست کیلئے کوئی بھی گنجائش نا پاکر سینکڑوں بلوچ سیاسی کارکنان نے جلاوطنی اختیار کرکے یورپی ممالک، امریکہ، افغانستان اور خاص طور پر خلیجی ممالک کا رخ کیا، تاکہ وہ اپنی جان بچا سکیں اور اظہارِ رائے کی آزادی کی ساتھ اپنی آواز بلند کرسکیں۔ لیکن بیرونِ ممالک میں بھی وہ مکمل تحفظ کا احساس حاصل نہیں کرسکے، کیونکہ بیرونِ ملک مقیم ہونے کے باوجود انہیں دھمکیاں موصول ہوتی رہیں اور اہلخانہ کو زک پہچانے کی دھمکیاں خاص طور پر مختلف سرگرم سیاسی کارکنان کو دی گئیں۔ اس صورتحال میں کسی بھی بلوچ سیاسی کارکن کیلئے یہ ناممکن ہوگیا کہ وہ موجودہ حالات میں واپس بلوچستان آسکے۔

از خود جلاوطنی اختیار کرنے والوں میں ایک متحرک انسانی و سیاسی حقوق کے کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ راشد حسین بھی تھے۔ راشد حسین بلوچ ولد دیدار حسین اپنے درجنوں ہمعصر سیاسی کارکنان سمیت 14 سالہ کزن مجید زھری کا خفیہ اداروں کے ہاتھوں اغواء اور پھر تشدد زدہ لاش اور بعد میں مجید زھری کے والد رمضان زھری کا سر عام قتل دیکھ چکے تھے۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ کس طرح رمضان زھری کے بعد انکے پورے جائیداد، گھر اور کاروبار پر سرکاری حمایت یافتہ لشکر کا قبضہ ریاستی سرپرستی میں ہوا، اور پھر انکے پورے اہلخانہ کو مجبوراً جلاوطنی اختیار کرکے متحدہ عرب امارت منتقل ہونا پڑا، راشد حسین اس دوران تواتر کے ساتھ بلوچ سیاسی کارکنان کے اغواء اور قتل کے خلاف آواز اٹھاتے رہے، جس کی وجہ سے انکی جان کو بھی خطرات لاحق ہوگئے تھے۔ لہٰذا وہ بھی دوسرے بلوچ سیاسی کارکنان کی طرح اگست 2017 کو از خود جلاوطنی اختیار کرکے متحدہ عرب امارات چلے گئے اور وہاں اپنے کزنوں کے ساتھ رہنے لگے۔

26 دسمبر 2018 کو جب راشد حسین اپنے کزنوں کے ہمراہ شارجہ سے دبئی جارہے تھے، تو انہیں متحدہ عرب امارات کے خفیہ ادارے کے اہلکار گرفتار کرکے اپنے ساتھ لے گئے۔ انکی اس طرح گرفتاری کے بعد انکے رشتہ داروں نے انہیں متعلقہ پولیس اسٹیشنوں میں ڈھونڈا اور پولیس سے معلومات حاصل کرنے کے بعد پتہ چلا کہ ان پر کوئی مقدمہ نہیں ہے، نا وہ پولیس کے حراست میں ہیں اور نا ہی وہ پولیس کو مطلوب ہیں۔ تین دن تک غائب رہنے کے بعد متحدہ عرب امارات کے خفیہ اداروں نے بھاری نفری کے ساتھ راشد حسین کے گھر پر چھاپہ مارا، وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ رہتا تھا، راشد حسین بھی ہتھکڑیوں میں جکڑے انکے ساتھ تھے۔ فورسز نے گھر میں توڑ پھوڑ کی اور خواتین و بچوں کو سخت حراساں کیا، اور راشد حسین کا پاسپورٹ مانگا گیا، گھنٹوں تک وہاں رہنے کے بعد وہ یہ دھمکی دیکر چلے گئے کہ وہ راشد کو پاکستان ڈی پورٹ کرینگے۔

مذکورہ شب کے بعد راشد حسین تاحال لاپتہ ہیں، نا انہیں کسی جیل میں منتقل کیا گیا ہے اور نا ہی انکے رشتہ داروں کو ان سے ملاقات کا موقع دیا گیا ہے، اس واقعے نے تمام بلوچ سیاسی کارکنان میں تشویش کی ایک لہر دوڑا دی ہے کیونکہ اس واقعے سے یہ بات واضح ہوکر سامنے آئی ہے کہ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے راشد حسین کو کسی مقدمے میں گرفتار نہیں کیا ہے بلکہ پاکستان کے دباو میں آکر انہیں اس طرح اغواء کرکے لاپتہ کیا گیا ہے اور اب انہیں پاکستان کے حوالے کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔

لطیف بلوچ ورلڈ بلوچ آرگنائزیشن سے جڑے ایک سیاسی کارکن اور ایک متحرک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، جو راشد حسین بلوچ اور دوسرے ہزاروں بلوچ سیاسی کارکنان کی طرح مجبوراً جلا وطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔ راشد کے گرفتاری پر انہوں نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “بلوچوں کا ہمیشہ سے عربوں اور اس خطے کے دوسرے اقوام کے ساتھ بہترین تعلقات رہے ہیں، بلوچ لاکھوں کی تعداد میں سالوں سے عرب ممالک میں رہائش پذیر ہیں لیکن کبھی بھی وہ عرب قومی مفادات کے خلاف استعمال نہیں ہوئے، دوسری طرف پاکستان ہمیشہ ان عرب ممالک کو نا صرف بلیک میل کرتا رہا ہے بلکہ ضرورت پڑنے پر انکے مفادات کے خلاف بھی استعمال ہوتا رہا ہے، اب دکھ کی بات یہ ہے کہ پاکستان کے کہنے پر ہمارے ایک بلوچ ایکٹویسٹ کو امارات کی حکومت گرفتار کرتی ہے، جو نا صرف امارات کے قوانین، انسانی حقوق بلکہ عرب بلوچ تاریخی تعلقات کی بھی توہین ہے۔”

جلاوطن بلوچ سیاسی کارکنان اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹس کے مطابق اس واقعے سے یہ ظاھر ہوتا ہے کہ اب پاکستان بیرونِ ملک بھی انکی آواز دبانا چاہتا ہے، اب وہ کہیں بھی محفوظ تصور نہیں کرتے، راشد حسین کا یوں اغواء محض آغاز ہے، اسی طرح ایک ایک کرکے اب تمام متحرک جلاوطن سیاسی کارکنان کو بیرون ممالک سے بھی غیرقانونی طریقے سے گرفتار کیا جائے گا۔

راشد حسین کے رشتہ داروں کے مطابق، راشد حسین پر متحدہ عرب امارات میں کوئی بھی مقدمہ نہیں ہے، جس طرح سے انہیں اغواء کرکے حبس بے جاء میں رکھا گیا ہے، یہ از خود متحدہ عرب امارات کے آئین کی خلاف ورزی ہے۔ اس واقعے کے حوالے سے دی بلوچستان پوسٹ کے نمائیندے نے راشد حسین کے کزن عبدالحفیظ سے بات کی جو راشد کے اغواء کے وقت وہاں موجود تھے اور واقعے کے چشم دید گواہ ہیں، انکا کہنا تھا کہ ” 26 دسمبر 2018 کو میں، راشد حسین، میرے چھوٹے بھائی نصیر احمد اور دبئی میں مقیم ایک اور بلوچ اپنے ٹیوٹا سیانا کار میں شارجہ سے دبئی جارہے تھے کہ ہمارے گاڑی کو دھاڑی روڈ پر فلیگ اسٹاف امارات کے مقام پر دو گاڑیوں جن میں سے ایک سفید مرسڈیز اور ایک جامنی رنگ کا الٹیما تھا نے روکا، دونوں گاڑیوں میں محض ایک ایک فرد سوار تھے، وہ سادہ لباس میں ملبوس تھے اور عربی بول رہے تھے، انہوں نے اپنا تعارف خفیہ ادارے کے اہلکاروں کی حیثیت سے کی اور اپنے کارڈ دِکھائے، انہوں نے ہمارے کاغذات مانگے اور پھر بغیر کسی وارنٹ کے راشد حسین کو اپنے ساتھ لے گئے۔”

عبدالحفیظ نے مزید کہا کہ ” تین دن بعد 29 دسمبر کو رات ایک بجے 15 اہلکاروں کے نفری کے ساتھ وہ دوبارہ ہمارے گھر آئے، راشد انکے پاس تھا، انہوں نے ہم پر تشدد کیا، مجھے بھی ہتھکڑیوں میں جکڑ لیا اور گھر میں توڑ پھوڑ کی اور راشد کا پاسپورٹ مانگتے رہے۔ پاسپورٹ نا ملنے پر وہ تین گھنٹے بعد راشد کو اپنے ہمراہ لیکر واپس چلے گئے، جس سے ہمارا یہ شک پختہ ہوگیا کہ وہ غیرقانونی طریقے سے راشد کو ڈی پورٹ کرنا چاہتے ہیں۔ اسکے بعد مجھے اور میری والدہ کو دھمکی آمیز فون موصول ہوتی رہی ہیں، خفیہ ادارے کے ایک اعلیٰ اہلکار نے واپس فون کرکے راشد کے پاسپورٹ کو لانے کا کہا، لیکن وہ نا اپنا نام ظاھر کررہے تھے اور نا پاسپورٹ رسمی طور پر مانگ رہے تھے، وہ کہتے ہیں کہ پاسپورٹ کسی مخصوص پیٹرول پمپ، شاپنگ سینٹر یا کسی پولیس اسٹیشن کے باہر پہنچاؤ، لیکن وہاں جانے کے باوجود وہ سامنے نہیں آتے اور اگلے دن دوبارہ دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے، اب راشد حسین کے ساتھ ساتھ ہمارے پورے اہلخانہ کو بھی یہ خوف لاحق ہوگیا ہے کہ کہیں ہمیں کوئی نقصان یہاں نا پہنچایا جائے۔”

راشد حسین کے اغواء کے بعد بلوچ سیاسی کارکنان گذشتہ ایک مہینے سے زائد عرصے سے سراپا احتجاج ہیں، اس حوالے سوشل میڈیا پر باقاعدہ مہم چلائی جارہی ہے اور برطانیہ و جرمنی سمیت مختلف ممالک میں احتجاجی مظاھرے بھی ہوچکے ہیں، جو متحدہ عرب امارات کے حکومت سے راشد حسین کی رہائی اور ممکنہ پاکستان ڈی پورٹیشن کو روکنے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ اس حوالے ایشیئن ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی راشد حسین کے رہائی کیلئے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر کے نام ایک پٹیشن بھی داخل کی ہے جس پر ابتک 2000 سے زائد افراد نے دستخط کیئے ہیں، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقوام متحد کے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر مداخلت کرکے راشد حسین کی رہائی ممکن بنائے۔

متحدہ عرب امارات کے خفیہ ادارے کے ہاتھوں راشد حسین بلوچ کی جبری گمشدگی کے خلاف بلوچ سیاسی کارکنان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے، حکیم واڈیلہ بلوچ لندن میں جلاوطنی کی زندگی گذارنے والے ایک متحرک سیاسی کارکن اور سوشل میڈیا ایکٹویسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ معروف بلوچ قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل مومنٹ کے یو- کے زون کے صدر بھی ہیں، انہوں نے نمائندہ دی بلوچستان پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ “راشد حسین بلوچ کا یوں اغواء اور ممکنہ ڈی پورٹ کی کوشش نا صرف تمام بلوچ سیاسی کارکنان بلکہ ان اقوام اور اقلیتوں کے متحرک کارکنان کیلئے ایک لمحہ فکریہ ہے، جو اپنی جان بچا کر پاکستان سے بیرون ممالک تحفظ اور اظہارِ رائے کی آزادی کیلئے منتقل ہوئے تھے۔ اگر راشد حسین کو پاکستانی حکام کے حوالے کیا جاتا ہے تو اسکا مطلب پھر کوئی بھی سیاسی کارکن کہیں بھی محفوظ نہیں ہے۔ یہ نا صرف انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے، بلکہ تشدد کے خلاف عالمی کنونشن کے آرٹیکل 3 کی بھی خلاف ورزی ہے جو اس بات کا اعادہ کرتا ہے کہ کسی شخص کو ایک ایسے ملک واپس نہیں بھیجا جائے گا، جہاں اسے تشدد کا نشانہ بننے یا اسکے قتل کیئے جانے کا خدشہ ہو۔”

بلوچ نیشنل موومنٹ بلوچستان کی سب سے بڑی قوم پرست سیاسی جماعت ہے، راشد حسین بلوچ کے مسئلے پر دی بلوچستان پوسٹ کے نمائندے نے بی این ایم کے مرکزی انفارمیشن سیکریٹری  دلمراد بلوچ سے انکی رائے لی تو انکا کہنا تھا کہ “راشدحسین کی گرفتاری اوراسے جبری طور لاپتہ رکھنا انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور سنگین مسئلہ ہے اورامارت جیسے ملک میں یہ عمل بلوچ اور عربوں کے تاریخی تعلقات کے منافی ہے۔ راشدایک جنگ زدہ خطے میں انسانی حقوق کا کارکن ہے اوران کے خاندان کے بیشتر افراد ریاست کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں، ان سانحات کے باوجود وہ اپنی قوم کے لئے آواز اٹھاتے رہے اوریہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ ان کی جدوجہد بلاتفریق ہر اُس انسان کے لیئے ہے جس کے بنیادی حقوق غاصب کے ہاتھوں پامال ہوچکے ہیں، وہ حقوق جن کی ضمانت انسانی حقوق کے عالمی معاہدے دیتے ہیں اورپاکستان انکی توثیق کرچکاہے۔”

جب نمائندہ ٹی بی پی نے دلمراد بلوچ سے دریافت کیا کہ راشد بلوچ کی یوں گرفتاری اور ممکنہ ڈی پورٹیشن کے مسئلے کا دوسرے جلاوطن بلوچ سیاسی کارکنان پر کیا آثرات مرتب ہوسکتے ہیں؟ تو انکا کہنا تھا کہ ” اس کے اثرات تباہ کن ہوسکتے ہیں، میں سمجھتاہوں کہ راشد کا مسئلہ ایک ’’ٹیسٹ کیس‘‘ہے، جس میں اگر پاکستان اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان اپنے منفی کوششوں کے سلسلے مزید بڑھاسکتاہے، اس سے آپ کے ہزاروں سیاسی کارکنان ایک غیر یقینی کی سی کیفیت میں مبتلا ہوجائیں گے کیونکہ پاکستان کے ظلم وستم سے ہزاروں کی تعداد میں بلوچ جلاوطن ہوکر خلیج سمیت یورپ، امریکہ اور آسٹریلیا میں بسنے پر مجبور ہیں۔”

دلمراد بلوچ نے راشد حسین کیلئے آواز اٹھانے کو قومی فریضہ گردانتے ہوئے کہا کہ “ہمیں ایک بات یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ بلوچ جلاوطن سیاسی کارکنان اپنی ذاتی جنگ، ذاتی مقاصدو اغراض یا محض اپنی زندگی کی تحفظ کے لئے دربدی اور جلاوطنی کی زندگی پر مجبور نہیں ہوئے ہیں بلکہ وہ اجتماعی بقاء کے لئے، پوری قوم کے انسانی حقوق و قومی تحریک کے تقاضوں کے لئے، سرزمین پر غاصب اورقابض کے ظلم و بربریت کے خلاف آواز اٹھانے کے لئے دیارغیر کاانتخاب کرچکے ہیں۔ راشد انہی قومی فرزندوں، انسانی حقوق کے کارکنوں، سرزمین کے سچے سپوتوں میں سے ایک ہے، راشد حسین کے لیئے آواز اٹھانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ راشد حسین کے لئے آواز اٹھانا قومی آواز کو توانا بنانا ہے، ہمیں اسی احساس و ادراک کے ساتھ راشد حسین کے لیئے ہر ممکن فورم کا استعمال کرنا چاہیئے۔”

بلوچستان میں گذشتہ دو دہائیوں سے زائد عرصے سے بلوچ آزادی پسند مسلح جماعتیں متحرک ہیں اور روزانہ کے بنیادی پر پرتشدد واقعات کی ذمہ داری برملا اس دلیل کی بنیاد پر قبول کرتے آئے ہیں کہ پاکستان ایک جمہوری اور مہذب ملک نہیں ہے اس لیئے یہاں پر امن جمہوری جدوجہد کیلئے کوئی گنجائش موجود نہیں لہٰذا انہوں نے مجبوراً سیاست کا پرتشدد راستہ یعنی مسلح مزاحمت اختیار کیا ہے، ہزاروں کی تعداد میں بلوچ سیاسی کارکنان کی جبری گمشدگیاں ہوں یا بلوچ دانشوروں، پروفیسروں اور ادیبوں کی ٹارگٹ کلنگ، پی ٹی ایم کے خلاف حالیہ کریک ڈاون و ارمان لونی کا قتل ہو یہ تمام عوامل بلوچ مزاحمتی تحریک کے پرتشدد راستے کے فلسفے کو تقویت پہنچاتی رہی ہیں اور اب وہ نوجوان جنہوں نے ان تمام حالات کے باوجود پر تشدد راستہ اختیار کرنے کے بجائے بیرون ملک جلا وطنی اختیار کرکے پر امن سیاست کا راہ اختیار کیا، انکا راشد حسین بلوچ کی صورت میں گرفتاری ایک خوفناک مستقبل کا عندیہ دے رہی ہے، جو بلوچ نوجوانوں کے سامنے صرف ایک ہی راستہ کھلا چھوڑنے کا موجب بنے گی۔