زخم ابھی بھرے نہیں! – عبدالواجد بلوچ

82

زخم ابھی بھرے نہیں!
“شہید اسد مینگل و شہید احمد شاہ”

تحریر:عبدالواجد بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

6 فروری1974 ریاستی ظلم و جبر کا ایک نیا باب تھا، ماؤں، بہنوں، بچوں، بوڑھوں کی چیخ و پکار و صرف ایک آواز ہمارے پیارے کہاں ہیں؟ وہ خون آشام لمحے وہ بربریت حق و صداقت کو بزور طاقت دبانا، اس وقت سے شروع ہیں جب بلوچ نے ریاست سے یہی کہا کہ ہمیں آزاد رہنے دیں. بزور شمشیر قبضہ گیریت سے لیکر آج تک وہ سلسلہ تھما نہیں، جس سے بلوچ ایک ثانیہ سکھ کا سانس لے سکے.

بلوچستان میں جب 73 کو سامراج کے دلدادہ شخص ذولفقار بھٹو نے بلوچ کے خلاف ریاستی طاقت کا استعمال شروع کیا تو اس وقت بلوچ طلباء تنظیم کے دو بہادر فرزند جنہیں تاریخ اسد مینگل اور احمد شاہ کے نام سے جانتا ہے نے بلوچ چاگرد میں وہ کردار ادا کیا، جو سیاست سمیت مزاحمت کو جلا بخش رہا تھا. یہی وہ وقت تھا جب ریاست نے اس وقت کے تمام بلوچ لیڈر شپ کو پسِ زنداں کیا تھا اور دوسری جانب بلوچ فرزندانِ وطن سر بکف پہاڑوں کی طرف کوچ کرگئے تو شہید اسد مینگل و شہید احمد شاہ نے لیڈر شپ اور بلوچ مزاحمت کاروں کے درمیان کمیونیکشن کا کردار ادا کیا۔

بلوچ قومی تحریک آزادی کے لئے شہید اسد مینگل اور احمد شاہ کرد کی جدوجہد قربانیوں اور اپنے جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا عمل زبردست خراج کے مستحق ہے، بلوچستان کی قومی تحریک شہداء کے قربانیوں سے بھری پڑی ہے، جب بھی مادر وطن کے حفاظت اور قومی حقوق کی دفاع کی بات آئی تو اس کے لئے یہاں کے فرزندوں نے جدوجہد کرتے ہوئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کیا اور یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے قومی حقوق اور ماں دھرتی کے مقدس مٹی کی حفاظت کرنے کو اپنا قومی اور وطنی فریضہ سمجھتے ہوئے، کسی بھی صورت میں استعماری اور استحصالی قوتوں کے توسیع پسندانہ پالیسیوں کو کامیاب نہیں ہونے دینگے. 6 فروری 1974 کو ان شہداء کو ایک ایسے وقت میں کراچی سے لاپتہ کیا گیا جن کی آج تک لاشیں نہیں ملیں، اس کا بنیادی مقصد قوم وطن دوستی کی سیاست اور جدوجہد کو کمزور کرنا اور یہاں کے قدرتی دولت سے مالا مال خطے کی وسائل پر قبضہ جمانے کی پالیسیوں کی راہ کو ہموار اور آگے بڑھانے کی کوشش کرنا تھا، جو آج تک جاری ہے گو کہ آج بلوچ وسائل کو ہتیانے کے لئے چائینا بھی پاکستان کا اتحادی ہے۔

شہید اسد مینگل بلوچستان کے سابقہ آزادی پسند رہنماء سردار عطاء اللہ خان مینگل کے فرزند تھے اور انہیں ایک ایسے وقت میں لاپتہ کیا گیا جب سردار عطاء اللہ خان مینگل نیپ کے دیگر رہنماؤں کیساتھ جیل میں قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر رہے تھے اور انہیں یہ پیغام دیا گیا تاکہ وہ بلوچستان میں جاری ہونیوالے نا انصافیوں پر آواز بلند نہ کریں اور خاموشی اختیار کریں لیکن تاریخ گواہ ہے کہ بلوچستان کی مجموعی قومی مسائل اور یہاں کے اجتماعی حقوق کے لئے سابقہ بلوچ لیڈرشپ کی ثابت قدمی، مستقبل مزاجی، قوم و وطن دوستی کی سیاست کی خاطر پاؤں میں لرزش نہیں آئی اور نہ وہ اپنے اصولوں سے ایک قدم بھی پیچھے ہٹے گذشتہ 70سالوں سے مقتدر قوتیں اور ناعاقبت اندیش پاکستانی حکمرانوں نے یہاں پر حقیقی قوم دوست ترقی پسند قومی جمہوری انداز میں حقوق کے لئے جہد کرنے والے سیاسی اکابرین اور پارٹیوں کا راستہ روکنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اور مسائل ومشکلات پیدا کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اپنے گماشتوں کے ذریعے یہاں پر اپنے جاری توسیع پسندانہ پالیسیوں، استحصال ، لوٹ کھسوٹ اور آمرانہ طرز حکمرانی کی ذریعے بلوچ قوم کو مزید محکومیت، پسماندگی اور اپنے وسائل حق آزادی واختیار کی جدوجہد سے دور رکھ سکے.
گو کہ آج سردار عطاءاللہ مینگل سیاست سے کنارہ کش ہیں لیکن جس طرح 73 کو شہید اسد مینگل و شہید احمد شاہ نے بلوچ قومی آزادی کے رواں جہد کی خاطر ایک کردار ادا کرکے جنہیں اس ضمن میں طویل گمشدگی و ما بعد شہادت تک رسائی ملی لیکن انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ شہید اسد مینگل کے وارث آج اس ریاست کے ایوانوں کو مضبوط کرنے کے لئے جتنی کوشش کررہے ہیں یقیناً اس حرکت سے لاپتہ شہید اسد مینگل کے روح کو تکلیف پہنچتی ہوگی لیکن پھر بھی جس شاہراہ پر شہید اسد مینگل و شہید احمد شاہ سفر کررہے تھے اس شاہراہ کو شہید استاد اسلم نے ایک بہترین مقام دیا ہے جس سے شہید اسد مینگل و شہید احمد شاہ کا مشن آزادی کے شکل میں وقوع پذیر ہوگا.

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔