تنظیم، کارکن اور ڈسپلن – لطیف بلوچ

209

تنظیم، کارکن اور ڈسپلن

تحریر: لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

تنظیم منتشر گروہوں کو ایک جگہ جمع کرکے متحد کرنے کے عمل کو کہا جاتا ہے، ہم خیال، ہم فکر لوگ ایک پلیٹ فارم پر ایک ڈسپلن کے پابند بن کر تنظیم کی تشکیل کرتے ہیں اور اپنے سیاسی، سماجی، ادبی حقوق کے لیئے آواز اُٹھاتے ہیں اور جب کچھ ہم خیال لوگ متحد ہوکر آواز اُٹھائیں تو اُن کی آواز توانا اور طاقتور بن جاتا ہے، اگر کوئی انفرادی حوالے سے آواز اُٹھائے تو اُس آواز میں اتنی طاقت اور بلندی نہیں ہوتی، جتنی ایک تنظیم کے آواز میں طاقت، قوت ہوتی ہے۔ تنظیم کے لئے کارکن ریڑھ کے ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور کارکن ہی تنظیم کی طاقت، قوت اور توانائی ہوتے ہیں لیکن تنظیم اور کارکن کے درمیان ڈسپلن ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتا ہے، نظم و ضبط کسی تنظیم کو متحد رکھنے کی ضمانت اور سماج کو انتشار سے بچانے اور متحد رکھنے کا واحد ذریعہ ہے، کیونکہ بغیر تنظیم اور نظم و ضبط کے سماج ٹکڑوں میں بٹ جاتا ہے، خیالات منتشر ہوتے ہیں، لوگ ایک دوسرے سے بیگانہ بن جاتے ہیں، اُنھیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس نہیں ہوتا، اپنے ذمہ داریوں کا تعین نہیں کرسکتے، جب وہ کسی تنظیم اور ڈسپلن کے پابند اپنے آپ کو تصور کرتے ہیں اور اُس تنظیم اور ڈسپلن کے دائرہ کار میں رہ کر اپنا کردار ادا کرتے ہیں، تو منتشرسوچ اور خیالات کو مضبوط نظریہ و فکر کے ذریعے جمع کرکے اپنے سیاسی و سماجی ذمہ داریوں کا ادراک کرکے اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔

تنظیم میں بے مہار آزادیوں کے متعلق خاکی جویو لکھتے ہیں کہ کارکنوں میں بے مہار رویے، اس لیئے جنم لیتے ہیں، کہ تنظیم کا مرکز کمزور ہوتا ہے۔ تنظیمی مرکز کی مضبوطی کارکنوں کے بے مہار رویوں کو قبضے میں رکھتی ہے۔ بصورت دیگر کارکن مقامی دائروں اور ٹولیوں میں سوچنے لگتے ہیں۔ جسکی بنا پر کارکنوں میں فکری اور نظریاتی وحدت ناپید ہوجاتی ہے جو نظریاتی سرگرمی، وسعت اور جدوجہد کی مہارت کے لیئے ضرب کاری کی حیثیت رکھتی ہے۔ نتیجتاً چھوٹے چھوٹے گروپ اور گروہوں میں نظریاتی الجھنیں اور بے مہار رویے پیدا ہوتے ہیں، جسے کنٹرول کرنے کے لئے رہنما، کارکن اور مرکزی قیادت کی نظریاتی اور فکری تربیت ضروری ہے۔ مختلف بے مہار رویوں کو سمجھنے اور پرکھنے کے لیئے دنیا کی تنظیموں کے پروگراموں، طریقہ کار، قراردادوں اور قوائد و ضوابط کا تجربہ کام میں لایا جانا چاہیئے۔ جس سے نہ صرف یہ کہ ہمیں ایسے رویوں کے پیدا ہونے کے اسباب سمجھنے میں مدد ملتی ہے بلکہ ان کی بیخ کنی میں بھی یہ طریقہ موثر ہے۔

بلوچ سیاست میں تنظیمی گرفت کمزور ہونے کی وجہ سے فرد تنظیم اور ڈسپلن سے اپنے آپ کو بالا تصور کرتے ہیں، بلکہ بے مہار آزادی کو وہ اپنا بنیادی حق اور آزادی سمجھتے ہیں، جس سے پیچیدگی، اختلاف اور ٹوٹ پھوٹ جنم لیتی ہے، اگر کسی کارکن کو ڈسپلن کے پابند بنانے کے لئے جواب طلبی کی جائے اور تنظیمی ڈسپلن اور بنیادی منشور کے خلاف ورزی کے متعلق پوچھا جائے، وہ اس عمل کو اپنے خلاف تصور کرتا ہے اور اپنے آپ کو جواب دہ نہیں سمجھتا بلکہ وہ اپنے رویے بدلنے اور تنظیمی ڈسپلن کے دائرے میں آنے کے بجائے اندرون خانہ سازشوں کا آغاز کرتا ہے، ایسے بہت سے تنظیمی خلاف ورزیاں بلوچ سیاسی اور مسلح تنظیموں میں دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ ڈسپلن کارکن اور لیڈر دونوں پر یکساں لاگو ہوتا ہے اور لیڈر بھی تنظیمی ڈسپلن سے بالا اور مبرا نہیں ہے۔

جس طرح ایک کارکن کو بے مہار آزادی کی اجازت نہیں اس طرح لیڈر بھی بے مہار آزادی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ یہاں لیڈر تنظیم کو اپنا ذاتی ملکیت تصور کرتا ہے، جس طرح ایک کارکن تنظیمی خلاف ورزی پر اپنے آپ کو جوابدہ تصور نہیں کرتا یہ حال لیڈر شپ کا بھی ہے، وہ کارکنوں کے جانب سے سوالات اُٹھانے کو اپنی شان میں گستاخی تصور کرتے ہیں، لیکن تنظیموں میں ڈسپلن کیساتھ جمہوری رویہ، مکالمہ اور بحث و مباحثہ ایک مثبت اور صحت مند سیاسی ماحول کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔
سوالات اُٹھانے اور ڈسپلن کی خلاف ورزی دو الگ چیزیں ہے، تنظیموں میں سوالات اُٹھانا، بات کرنا سیاسی اور جمہوری عمل ہے لیکن تنظیمی امور پر، اختلاف رائے اور سوالات تنظیمی سرکلز اور فورمز پر اُٹھانا چاہیئے، تنظیمی امور پر کھلے عام سوشل میڈیا پر بات کرنا، تنظیمی ڈسپلن کے خلاف ورزیوں میں شمار ہوتے ہیں کیونکہ ایسے اوپن فورمز پر تنظیمی معاملات پر بات کرنے سے دوسرے لوگ خصوصاً دشمن کی مداخلت کی کافی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ تنظیمی ڈسپلن اور منشور کارکنوں کو جوڑ کر رکھتا ہے، تنظیم اور کارکنوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتی ہے، جب ڈسپلن کا یہ پل ٹوٹ جائے پھر کارکنوں کا تنظیم اور تنظیم کا کارکنوں سے رابطہ منطقع ہوجاتا ہے، جس سے اختلاف، بدنظمی، بدانتظامی، دوریاں اور بداعتمادی جنم لیتی ہے اور اس طرح ٹوٹ پھوٹ اور تقسیم کا عمل شروع ہوجاتا ہے، نظم و ضبط اور اصول کے بغیر انتشار جنم لیتی ہے، مضبوط تنظیمی اداروں کا قیام انتشار، ٹوٹ پھوٹ اور غیر نظریاتی و غیر فکری رحجانات کے خاتمے کے لئے انتہائی اہم اور ضروری ہے، ان منفی رحجانات کو جڑ سے اُکھاڑنے کے لئے ضروری ہیکہ اداروں کی تشکیل کیا جائے اور اداروں کو مضبوط و منظم بنایا جائے۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔