تصویر کہانی – برزکوہی

84

تصویر کہانی

برزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ

جھاو کوہڑو کے صبرواستقامت، مستقل مزاجی، تصدق کے خمیر اور بہادر بلوچ خاتون زبیدہ کی کوکھ سے جنم لینے والی سورج کی دروشم ماہ رنگ کو بالکل پتہ نہیں تھا کہ اس کے مستقبل کے اندیشوں میں وہ پرلے بھی پنہاں ہے، جب وہ اسکول سے گھر لوٹے گی تو اپنے بابا نصیر کے کندھوں سے اٹکھلیاں کرنے اور بغل گیر ہوکر اپنے اسکول کی کٹھی میٹھی کہانیاں سنانے، کھانا کھانے اور اپنی سہیلیوں کے ساتھ گڑیوں سے کھیلنے کے بجائے یخ بستہ، خنک دل، نفس سرد شال کی برسات میں اپنے بابا کے انتظار میں بیٹھ جائیگی۔

شب و روز کا یہ تسلسل تسبیح کے دانوں کی طرح کچھ بدلے بغیر ایک دوسرے کے اوپر یونہی ایام بدکار( ویشیس سرکل) کی طرح گرے جاتے ہیں، شام کو خالی کو خالی ہاتھ واپس بہادر ماں کا پلو تھامے کسی رشتہ دار کے گھر واپس جاتی ہے اور پھر بھی ہمت نہیں ہارتے ہوئے، اگلی صحبح واپس اسی پریس کلب کے سامنے بیٹھ جاتی ہے۔ جہاں وہی مسننگ پرسنز کے کیمپ کا الم، وہی ماما کے چہرے کے جھریوں سے بہتا ہوا درد، وہی ماں بہنوں کی چیخ و پکار اور سسکیوں میں ایک دوسرے کا ہمت باندھنا اور اپنا درد و کرب باٹنا اور امید کے دامن کو مضبوط ہاتھوں سے تھامنا۔ اور ان سب کے بیچ خالی آنکھوں سے ماہ رنگ کا نصیر کو ڈھونڈنا۔

جہد مسلسل پر کامل یقین، پختہ ایمان کے ساتھ ماہ رنگ سے لیکر سیما تک اس عمرمیں بھی اپنے قومی فرائض کا حق ادا کررہے ہیں۔ کیا قومی فرض و قرض کو صحیح طریقے سے نبھانے کے لیئے عمر کا کوئی شرط اور معیار ہوتا ہے؟ کم از کم میرے خیال میں ہرگز نہیں، قومی فرض و قومی قرض کا نبھانا، ایک مستقل عمل ہوتا ہے اور وہ عمل بذات خود جذبہ، احساس، علم و شعور اور بہادری کے مشترکہ کوکھ سے جنم لیتا ہے، جو عمر، رنگ، نسل اور خطے کی بسیار سے آزاد و بے نیاز ہوتا ہے لیکن جہاں خود جذبہ، احساس، علم و شعور اور بہادری کی شکل و صورت مشکوک ہو، وہاں عمل غائب ہوجاتا ہے۔ اس میں عمر کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ہے۔

آج ماہ رنگ کی تصویر، صرف ایک تصویر نہیں، اس تصویر میں ہزاروں کہانیاں، ارمان، قصے، وہ کھلکھلاتی ہنسی جو دب گئی، وہ خواہشات جو لبوں تک نا آسکے، وہ آنسو جنہیں بابا کے رومال سے پونچھا جانا تھا، کھیل میں چہرے پر پڑی دھول، انگلی تھامنے کی لمس، سب پنہاں ہیں۔ جو بے ضمیر کے آنکھوں سے چھپے اور اہل دل کے سامنے نوحہ کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔ بس صرف سمجھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے، پھر سمجھنے اور پرکھنے کے لیئے بھی احساس، جذبہ، علم و شعور اور بہادری لازم ہے۔

ماہ رنگ جیسے پھولوں کے آنسو، بہادری کے بہاروں اور مستقل مزاجی کی روشنیوں میں دم توڑ چکے ہیں، دشمن کے قہر و جبر، طاقت کے گھمنڈ کے ساتھ ساتھ ہمارے سماج کے گند آلود سوچ کے عکاس، میر و معتبری کے کاغذی شیروں کی چال و چالاکی، مٹی تلے دب کر مٹتے ہوئے، بہادری و قربانی، مستقل مزاجی کے معیار بدل کر حقیقی معیار میں بدل گئے ہیں، یہی اسی تحریک کی کامیابی ہے کہ کردار اور گفتار کے فرق کی لکیر کو کھینچ کر قوم کے سامنے ہیرے اور کوئلے کی پہچان کرواتی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔