تربت: سیکیورٹی ہائی الرٹ، احکامات سے عوام کو شدید دشواریاں

192

تربت شہر میں فورسز کے سخت سیکیورٹی احکامات نافذ کرنے سے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا

دی بلوچستان پوسٹ نمائیندہ تربت کے مطابق بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں سیکیورٹی کے پیش نظر فورسز نے مختلف قوانین نافذ کرلیں ہیں، جن کی وجہ سے عوام اور کاروباری حلقوں کی جانب سے شدید دشواریوں کی شکایات موصول ہورہی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق تربت شہر میں مقامی انتظامیہ، فرنٹیئر کور اور خفیہ اداروں کی جانب سے یہ احکامات جاری کی گئیں ہیں کہ شہر کے تمام دکانداروں پر اب یہ فرض ہے کہ وہ اپنے دکانوں کے سامنے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں، بصورت دیگر اس علاقے میں پیش آنے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کے ذمہ دار وہ ہونگے۔

ایک اور حکم نامے میں تربت شہر میں موٹر سائیکلوں کی پارکنگ کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، کسی بھی موٹر سائکل کو کسی دکان کے سامنے کھڑی کرنے کی ممانعت ہے۔ تیسرے حکم نامے میں تربت شہر کے تمام موٹر سائکلوں کو دوبارہ رجسٹر کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ پرانے کاغذات قابلِ قبول نہیں ہیں، بصورت دیگر انہیں ضبط کیا جائیگا۔

نمائیندہ دی بلوچستان پوسٹ سے ایک شہری نے نام ظاہر نا کرنے کی شرط پر بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ “سیکورٹی ادارے اپنی ناکامی چھپانے کیلئے، سارا ملبہ عوام پر ڈال رہے ہیں اور انہیں تنگ کررہے ہیں، سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی ذمہ داری ایک عام شہری کی نہیں ہوتی، یہاں دکاندار بمشکل اپنے نان شبینے کا بندوبست کرتے ہیں، وہ بھلا کیونکر چاہیں گے کہ کیمرے کے اخراجات برداشت کریں، خطرہ انہیں نہیں فورسز کو ہوتا ہے، وہ اپنی سیکورٹی عوام سے کروارہے ہیں، حالانکہ ہوتا یہ ہے کہ فورسز عوام کی سیکورٹی کے فرائض سر انجام دیتے ہیں۔”

تربت شہر کے وسط میں دکانوں کے مالک ایک کارباری شخصیت نے نام ظاھر نا کرنے کی شرط پر نمائیندہ دی بلوچستان پوسٹ سے بات کرتےہوئے کہا کہ ” ان سخت سیکورٹی احکامات کے نافذ کرنے سے عوام کو شدید دشواریوں کا سامنا ہے، اب چھوٹی سی چیز لینے کیلئے لوگوں کو اپنی موٹر سائیکلیں شہر سے باہر کھڑی کرنی پڑتی ہیں اور ایک گھنٹہ پیدل آنا اور پھر جانا پڑتا ہے، سب سے زیادہ تنگ تربت کے مضافاتی چھوٹے چھوٹے قصبوں سے آئے ہوئے لوگ ہوتے ہیں، جو عموماً موٹر سائکلوں پر دور سے تربت شہر سودا سلف خریدنے آتے ہیں۔ اب دوبارہ پہلے سے رجسٹر شدہ موٹر سائکلوں کی رجسٹریشن پر لوگوں کو ہر چوکی پر روک کر انکی تذلیل کا سلسلہ بھی شروع کیا گیا ہے۔”

انہوں نے مطالبہ کیا کہ اعلیٰ حکام مداخلت کریں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو شہر میں اپنی من مانی اور لوگوں کو تنگ کرنے سے باز رکھیں۔

یاد رہے تربت شہر اور ملحقہ علاقوں میں فورسز پر پے در پے ابتک کئی حملے اور بم دھماکے ہوچکے ہیں جن مٰیں ابتک درجنوں اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوچکے ہیں، ان حملوں کی ذمہ داریاں بلوچ آزادی پسند مسلح جماعتیں قبول کرتی رہیں ہیں۔