بلوچی دستار ؟ – ھیربیار بلوچ

119

بلوچی دستار ؟

تحریر: ھیربیار بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

امجد اور حسن بہت اچھے دوست تھے، بچپن سے انکا اٹھنا بیٹھنا، کھیلنا کودنا اور پڑھنا ایک ساتھ تھا۔ ایک دن کسی تقریب کے لیئے جاتے ہوئے راستے میں, حسن نے امجد سے پوچھا “یار! استاد میر احمد اور منہاج مختار کا نیا البم انٹرنیٹ پہ ریلیز ہوا ہے یا نہیں؟”
“نہیں یار ابھی تک تو نہیں، ویسے تم کب سے انقلابی گانے سننے لگے ہو؟” امجد نے پوچھا
“یار میں تو انقلابی گانوں کا بہت شوقین ہوں، بغیر انقلابی گانوں کے مجھے کوئی گانا اچھا ہی نہیں لگتا ہے. ان گانوں کو سن کر میرے روح و ضمیر کو سکون اور میرے ذہن و دماغ کو تسکین ملتا ہے. انہی گانوں کی وجہ سے تو ہمیں اپنے تاریخ کو پڑھنے کا موقع ملتا ہے. ہمیں اپنے حال اور مستقبل جاننے کا نسخہ ملتا ہے. آزادی اور غلامی کا فرق پتا چلتا ہے. وطن فروشوں کی کردار کشی اور وطن پرستوں کو خراج تحسین پیش کرنا سکھایا جاتا ہے، آدمی کے دماغ کے بند دریچے کھل جاتے ہیں۔”

حسن کی باتیں سن کر امجد بھی واہ واہ کیئے بغیر نہیں رہ سکا، کیونکہ وہ خود بھی اپنے اندر انقلابی سوچ رکھنے والا ایک نوجوان تھا۔
چلتے چلتے امجد نے حسن سے پوچھا “ویسے ہم جا کہا رہے ہیں؟ ”
“کرکٹ گراؤنڈ یار، وہاں ایک انٹرنیشنل کھلاڑی آرہا ہے”, حسن نے جواب دیا. .

وہاں جب پہنچے تو تھوڑی دیر بعد انٹرنیشل کھلاڑی آیا، جسکا ماضی خود دھوکہ، فریب، غداری اور فراڈ سے بھرا ہوا تھا. امجد دیکھ کر حیران بھی ہوا اور غصہ بھی. لیکن نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے برداشت کر لیا، لیکن سکتے میں وہ تب پڑا جب اسنے دیکھا کہ اس فراڈی اور کرپٹ کرکٹر کو بلوچی دستار پہنایا جارہا تھا۔

اب دلبرداشتہ ہو کر اسنے غصے سے حسن کو کہا یار یہ مجھے کہاں لیکر آئے ہو؟ اور کوئی نہیں ملا تھا دکھانے کو جو اس فراڈی کو دیکھنے مجھے لیکر آئے ہو؟ اور اسکو بلوچی دستار پہنانا ضروری ہے کیا؟

حسن نے شرمندگی سے ہنستے ہوئے جواب دیا ” یار تم بھی بہت سادہ ہو قسم سے، اس کھلاڑی کو دیکھنے کے لیئے لوگ ترستے ہیں اور تم خوش قسمت ہو کہ تمھیں مفت میں اسکا دیدار نصیب ہوا ہے۔ باقی دستار اس لیئے پہنا رہے ہیں کہ یہ بلوچوں کی روایات ہے. اور ویسے بھی500 روپے کی دستار ہے. تم پریشان مت ہوجاؤ دستار کے پیسے تم سے نہیں لیں گے. ”

حسن کی یہ باتیں سن کر امجد پہ جیسے قیامت ٹوٹ پڑا، اسکا چہرہ غصے سےلال پڑ گیا، وہ آگ بگولا ہوتے ہوئے حسن سے مخاطب ہوا ” دستار سستی نہیں ہوتی بلکہ اسے تم جیسے منافق اور ضمیر فروشوں نے بیچا ہے. اور تاریخ گواہ ہے کہ ایسے ہی لوگ آخر میں خود بک جاتے ہیں، مکار و شاطر دشمن کے ہاتھوں اور آستین کا سانپ بن جاتے ہیں۔ کوئی ایسی روایت نہیں بلوچوں کی کسی ایرے غیرے فراڈی کو بلوچی دستار پہنا کر دستار کی بے حرمتی کریں. یہ دستار ہمارے ننگ و ناموس، عزت و غیرت، ایمانداری و خلوص، وطن پرستی و قربانی، جان و سر کا پاسبان ہے۔ یہ صرف ایک کپڑا نہیں ہے بلکہ ہمارے لیئے غلاف کعبہ کی مانند معتبر ہے. اسکی ہر پیچ میں ہمارے غازی اور شہیدوں کا خون، گواڑخوں کی خوشبو اور بلوچ قوم پہ ڈھاےگئے ظلم و ستم کی داستاں بند ہیں. تمہیں انقلابی گانوں سے جو علم حاصل ہوا ہے، بغیر عمل کے وہ کچھ نہیں ہے کیونکہ عمل ہی سے کردار بنتا ہے. ”

حسن نے امجد سے اپنے کیئے اور کہے پہ معافی مانگنا شروع کیا لیکن بات اب معافی سے بہت آگے چلا گیا تھا. امجد وہاں سے اٹھ کے چلنے لگا اور جاتے ہوئے اس نے حسن سے کہا اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمھیں معاف کروں تو اس کے لیۓ تمھیں اس دستار کی قیمت ادا کرنی پڑیگی جو تم نے بیچا ہے. یہ سن کر حسن خاموش ہوگیا شاید اسے پتہ تھا کہ اس دستار کی قیمت قربانی ہے جو اس کے بس میں نہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔