الطاف حسین کے خطاب کے تناظر میں – لطیف بلوچ

376

الطاف حسین کے خطاب کے تناظر میں

لطیف بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ

ایم کیو ایم کے بانی سربراہ الطاف حسین نے 2 فروری کو سوشل میڈیا پر لائیو خطاب میں جہاں مظلوم قوموں کو درپیش بہت سے چیلنجز اور مشکلات کا تفصیلی ذکر کیا اور ساتھ میں اُنہوں نے بلوچ، سندھی اور پشتون اقوام کو مشترکہ جدوجہد کے لئے دعوت بھی دی، آج کے حالات میں الطاف حسین کی خطاب کا تجزیہ کیا جائے اور اُنکے اُٹھائے گئے سوالات اور دیگر نکات کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ اب مظلوم اقوام کا پاکستان کے ساتھ ایک وفاق کے اندر رہنا مشکل نہیں بلکہ ناممکن بن چکا ہے۔ الطاف حسین نے اپنے اس تاریخی اور جامع خطاب میں قومی حق خودارایت کا ذکر کیا اور اُنہوں نے کہا کہ تمام اقوام ملکر اقوام متحدہ سے حق خودارایت کی حصول کے لئے مطالبہ کریں، اقوام متحدہ کی چارٹر میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ دنیا کے تمام انسان اور اقوام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے جینے کا خود فیصلہ کرسکتے ہیں، یہ اختیار اقوام متحدہ کی چارٹر کے مطابق دنیا کی تمام اقوام کو حاصل ہے۔

بلوچ گذشتہ سات دہائیوں سے اپنی آزادی کے لئے سیاسی اور مسلح مزاحمت کررہے ہیں اور وہ بارہا اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں سے اپیل کرتے چلے آرہے ہیں کہ وہ مداخلت کرکے بلوچستان میں جاری مظالم و نسل کشی کو روکنے کے لئے کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کی چارٹر کے مطابق بلوچوں کو جینے کا حق دیں، بلوچ سمیت دیگر مظلوم و محکوم قوموں کے حق خودارایت کو یعنی آزاد سیاسی علیحدگی کے حق کو عملی روپ دیں لیکن اقوام عالم اس متعلق مکمل مجرمانہ خاموشی اختیار کررکھی ہے بلکہ اپنے چارٹر کی خود نفی کررہے ہیں، آج اقوام متحدہ سمیت دیگر عالمی طاقتوں کی خاموشی سے خطے میں بدترین خونریزی، تشدد اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ طاقتور اپنے فوجی طاقت کے بل بوتے پر مظلوم اقوام کی آزادی اور انسانی و شخصی آزادیوں کو روند رہے ہیں، قوموں کے سرزمینوں پر قابض ہوکر وسائل کو بیدردی سے لوٹ رہے ہیں لیکن جن اداروں کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ چھوٹے اور مظلوم اقوام کو تحفظ فراہم کریں وہ اپنے مفادات کی تحفظ کے لئے خود عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کے مرتکب ہورہے ہیں، جنگوں اور رجعت کو ہوا دے کر قومی ظلم و جبر اور نوآبادیاتی لوٹ مار کو وسعت دے رہے ہیں۔

ایسے گھمبیر و گنجلگ حالات میں انقلابی جدوجہد، سیاسی و مسلح مزاحمت وقت کی پکار اور مظلوم قوموں میں قوم پرستی کی بیداری وقت کی ضرورت بن جاتی ہے۔ بلوچ روز اوّل سے پاکستان کے جبری قبضے اور الحاق کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپنے قومی آزادی کے لئے برسرپیکار ہیں لیکن آج یہ ایک خوش آئند عمل ہے کہ مہاجر، سندھی اور پشتون بھی پاکستان کی اصل حقیقت اور اس تاریخی فریب، دھوکہ اور جھوٹ کو جان چکے ہیں اور وہ اس نقطے پر آچکے ہیں کہ پاکستان میں مظلوم قوموں کی شناخت، تہذیب، ثقافت، زبان اور مستقبل محفوظ نہیں ہے، پنجابی بذریعہ فوجی طاقت تمام اقوام کو زیر دست رکھ کر اُنکے وسائل کو لوٹ رہے ہیں، آج ان اقوام کی سرزمینوں کی ضرورت اس لئے پنجابی بالادست طبقوں کو ہے کہ یہ سرزمین وسائل سے مالا مال ہے اور قابض وسائل کو چرانے کے لئے ان قوموں کی بڑی بیدردی سے نسل کشی کررہی ہے لیکن اب ان اقوام کی بقاء اسی میں ہے کہ وہ متحد ہوجائیں۔

بلوچ، پشتون، سندھی الطاف حسین کی دعوت پر سنجیدگی سے غور کریں اور وہ بالادست قوتوں کی پروپیگنڈوں کا شکار نہیں ہوں بلکہ اتحاد و اتفاق اور یکجہتی کی طرف قدم بڑھائیں، انٹرنیشنل سطح پر ایک مضبوط اتحاد کی داغ بیل ڈال کر ریاستی مظالم، قوموں پر ظلم و جبر، انسانی حقوق کی پامالیوں، جبری گمشدگیوں، وسائل کی لوٹ مار، سی پیک کے نام پر قوموں کی استحصال اور پاکستانی فوج کے انسانیت کی خلاف جرائم سے عالمی برادری کو موثر انداز سے آگاہ کریں، ایک موثر اتحاد ہو صرف ایک دوسرے کے مجبوریوں اور کمزوریوں سے فائدہ اُٹھانے کے لئے اتحاد کی تشکیل نہیں ہو اور آگے چل کر ریاست کے شاطرانہ حربوں، لالچ اور دھونس و دھمکیوں کے بھی شکار نہیں بنیں، سمت کا تعین کرکے اہداف کو حاصل کرنے کے لئے جدوجہد آخری فتح تک جاری رکھیں۔

قوموں کو ایک دوسرے سے بہت سے تحفظات ہوسکتے ہیں، الطاف حسین اور ایم کیو ایم سے تحفظات بلوچوں کو ہوسکتی ہے، سندھیوں کی بہت سے خدشات ہونگے، پشتون بھی تحفظات رکھتے ہونگے اور اسی طرح بہت سے چیزوں پر ایم کیو ایم کو بھی تحفظات ہوسکتی ہیں لیکن ان تمام تحفظات اور خدشات کو ملکر بیٹھ کر دور کرسکتے ہیں، اگر ہم دشمن کو مداخلت کا موقع فراہم کرینگے وہ ہماری رنجشوں کو مزید ہوا دے کر بڑھائیگے اس سے قبل جس طرح ہمیں آپس میں دست و گریبان کرکے ہماری طاقت اور قوت کو تقسیم کرکے تمام مظلوم اقوام کو اپنی زیر دست رکھا ہے، وہ مزید ہمیں اس طرح آپس میں لڑا کر اپنی تسلط کو مضبوط بناکر ہم پر قابض رہیں گے، ہمارے وسائل کو لوٹتے رہینگے ہماری نسلوں کو اجاڑتے رہینگے، نسل کشی کرتے رہینگے اگر بالادست، قابض ، نوآبادیاتی تسلط سے چھٹکارا چاہتے ہیں تو تمام مظلوم متحد ہوکر اُن قوتوں کی ہاتھوں کو روکیں جو 70 سالوں سے ہم پر مسلط ہیں۔

اب مزید پارلیمانی سیاست، حقوق اور آئین و قانون کی پاسداری، پرامن جدوجہد جیسے اصطلاحات کو استعمال کرنے اور ان بھول بھلیوں میں کھونے کے بجائے حقیقت کا سامنا کریں اور مزید اپنے آپ کو اور اپنے قوموں کو اندھیرے میں رکھنے کے بجائے یہ تسلیم کریں کہ پاکستان کی فریم ورک، پاکستانی جمہوریت، آئین اور قانون ہماری قومی مفادات کی تحفظ نہیں کرسکتی، ہم ایک متفقہ سوشل کنٹریکٹ کی بنیاد پر نہیں بلکہ جبری طور پر اس وفاق کا حصہ ہیں، اس میں ہم اپنے مرضی سے شامل نہیں ہوئے بلکہ ہمیں جبری طور پر اس میں شامل کیا گیا ہے۔ اگر جو اقوام شروع میں اسلام اور مذہب کی دھوکے میں آکر پاکستان میں شامل ہوئے تھے آج اُن پر یہ حقیقت کُھل گئی ہیکہ اسلام اور مذہب کے نام پر ان سے دھوکہ ہوا تھا اسلام اور مذہب کے نام پر اُنھیں شامل کرکے اُنکی بدترین سیاسی، معاشی و معاشرتی استحصال کیا گیا اُنکی انسانی، شخصی آزادیوں پر قدغن لگائی گئی اگر آج بھی وہ اس حقیقت کا ادراک نہیں کرینگے اور اس تاریخی سچائی سے منہ موڑ لیں گے تو یاد رکھیں اُنکی نسلیں مزید غلامی میں دھنستے چلے جائیں گے اور نہ تاریخ نہ ہی اُنکی نسلیں اُنھیں اچھی الفاظ سے یاد کریں گے اور نہ ہی معاف کرینگے

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔