کراچی: لاپتہ سندھی قوم پرست طارق خاصخیلی کی عدم بازیابی کیخلاف احتجاج

104

ماورائے قانون سیاسی کارکنان کی گرفتاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے – وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ

سندھ کے شہر کراچی میں وائس فار مِسنگ پرسنز آف سندھ کی جانب سے اتوار کے شام پریس کلب کے سامنے سندھی قوم پرست کارکن طارق خاصخیلی کی جبری گمشدگی کے خلاف مظاہرہ کیا گیا۔

مظاہرے میں سندھی قوم پرست کارکنان اور انسانی حقوق کی نمائندوں نے شرکت کی، مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ طارق خاصخیلی سمیت تمام لاپتہ سندھی کارکنوں کو بازیاب کیا جائے اور جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔

اس موقعے پر سورٹھ لوہار، الہی بخش بکک سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جبری گمشدگیوں کے خلاف آج تمام اقوام سراپا احتجاج ہے، ہزاروں بلوچ سندھی، پشتون سمیت دیگر اقوام اور برادریوں کے لوگ لاپتہ ہیں۔

سیاسی سرگرمیوں اور حقوق کی جدوجہد پر مکمل پابندی عائد کی گئی ہے، کوئی بھی شخص بنیادی انسانی حقوق اور ظلم و ناانصافیوں کے خلاف بات کرے ریاستی ادارے فورا اُس شخص کو ماورائے قانون اُٹھا کر غائب کرتے ہیں جو انسانی حقوق کی بنیادی اصولوں کی صریحاً خلاف ورزی کی مترادف سنگین عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ طارق خاصخیلی کو جمعہ کی روز کراچی کے علاقے چینسر گوٹھ سے ریاستی اداروں کے اہلکاروں نے اغواء کرکے لاپتہ کیا۔

اس کے علاوہ آج ‏کراچی میں شیعہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کراچی پریس کلب میں علامتی بھوک ہڑتال کیمپ قائم کی گئی-

شیعہ رہنما راشد رضوی نے کیمپ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کئی درجن شیعہ عزادار لاپتہ ہیں اُن کی لواحقین شدید پریشان اور اذیت سے دو چار ہے، اگر ریاست کو کسی پر کوئی شک ہے وہ قانونی طریقے سے اُس شخص کو گرفتار کرکے ایف آئی آر درج کرکے عدالت کے سامنے پیش کریں اس طرح لوگوں کو اُٹھا کر غائب کرنا ایک سنگین جرم ہے، انسانی حقوق کی ملکی و بین الاقوامی تنظیمیں اس جبر اور ناانصافی کا نوٹس لیتے ہوئے ہمیں انصاف فراہم کریں۔

دوسری جانب آج انسانی حقوق کے لیے سرگرم سوشل میڈیا کارکنوں کی جانب سے جبری گمشدگیوں کے خلاف ٹیوئیٹر پر ایک مشترکہ کمپئین چلائی جارہی ہیں۔

اُنہوں نے تمام انسان دوست قوتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ آج رات 8 بجے سے 11 بجے تک اس کمپئین میں حصہ لے کر اپنا انسانی و اخلاقی فرض ادا کریں۔