شام سے 2 پاکستانی داعش کے شدت پسند گرفتار

127

امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز ( ایس ڈی ایف ) نے شام کے مشرقی صوبے دیر الزور میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے پانچ ارکان کو ایک کارروائی میں گرفتار کرنے کا اعلان کیا ہے۔ان میں دو امریکی اور دو پاکستانی شہری ہیں۔

ایس ڈی ایف نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ داعش کے ان پانچوں جنگجوؤں کو 30 دسمبر کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ وادیِ فرات میں لڑائی کے دوران میں اپنا گھر بار چھوڑ کر جانے والے شامی شہریوں پر حملوں کی تیاری کررہے تھے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ ایس ڈی ایف نے ان پانچوں جنگجوؤں سے تحقیقات کی تکمیل کے بعد ان کی گرفتاری کا ا علان کیا ہے۔ان میں دو امریکی شہریوں میں ایک نام وارن کرسٹوفر کلارک ہے۔اس کی عمر 34 سال ہے ۔وہ ہیوسٹن سے تعلق رکھتا ہے اور وہ اب امریکی ابو محمد کے نام سے جانا جاتا ہے۔ دوسرے عرب نژاد امریکی شہری کا نام زید عبدالحامد ہے۔ وہ امریکی ابو زید کے نام سے جانا جاتا ہے۔

گرفتار کیے گئے جنگجوؤں میں ایک آئرش شہری ہے۔ وہ ڈبلن سے تعلق رکھتا ہے اور اس کا نام الیگزینڈر روزمانووچ بیک مرزائیف ہے۔

دو پاکستانیوں میں ایک کا نام فضل الرحمان جد ( جٹ) اور دوسرے کا عبدالعزام راجپوت ہے۔ ان میں اول الذکر لاہور سے تعلق رکھتا ہے۔

شامی جمہوری فورسز نے شام کے مختلف علاقوں میں داعش کے خلاف لڑائی کے دورا ن میں اس جنگجو گروپ کے ایک ہزار سے زیادہ غیرملکی جنگجوؤں کو گرفتار کیا ہے۔ان میں غیرملکی صحافیوں کو اغوا اور پھر بے دردی سے ان کا سرقلم کرنے والے بدنام زمانہ گروپ بیٹلز سے تعلق رکھنے والے جنگجو بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ القاعدہ کا ایک ایسا جنگجو بھی ہے جس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن سے ان کی ایبٹ آباد میں امریکی فوج کی کارروائی میں ہلاکت سے قبل ملاقات کی تھی۔

بیشتر غیر ملکی حکومتوں نے داعش کی صفوں میں شامل ہو کر لڑنے والے اپنے شہریوں کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے جبکہ کرد حکام کا کہنا ہے کہ وہ داعش کے جنگجوؤں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنے پاس نہیں رکھ سکتے۔انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس مسئلے کا کوئی حل نکالے۔