سہولت اور سکون لیکن بے چین کیوں؟ – سنگت شیرجان بلوچ

107

سہولت اور سکون لیکن بے چین کیوں؟

تحریر: سنگت شیرجان بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

میرے سارے سہولیات پورے ہیں، اپنے من کے مطابق صبح نیندسے اٹھ جاتا ہوں، نرم بستروں کے مالک اور اتنا خوبصورت کمرہ کہ میں کیا بتاؤں کیا۔ کیوں خوبصورت نا ہوں جناب؟ تین منزلوں کے بنگلے میں رہائش پذیر ہوں، زندگی میں کبھی بھی اس طرح کا کوئی خواب نہیں دیکھا تھا کہ مجھے اس طرح کی جگہیں نصیب ہونگے، تمام مہربان دوست و ساتھی بہت اچھی طرح سے میرا خیال رکھتے ہیں۔

صبح جب نیند سے اٹھ جاتاہوں، تو شیشے کے پیالے میں دودھ پتی چائے میرے انتظار میں سامنے ٹیبل پر رکھی ہوئی ہوتی ہے۔ اور صبح کی تو اپنی ایک الگ خوبصورت داستان ہوتی ہے کہ بیان میں نہیں آسکتا، چائے پینے کہ بعد اپنے موبائل میں ڈوب جاتاہوں۔

ایپل کمپنی سے بنی ہوئی ” آئی فون فور ڈائمنڈ ایڈیشن ” کا موبائل ہے، سوشل میڈیا میں کچھ دیکھ کر پر نہانے کیلئے واش روم چلا جاتا ہوں، وہاں گرم پانی اور انکے خوبصورتی کو دیکھ کر کبھی کبھی ہنس کر حیران رہ جاتاہوں۔ حیرانگی میں خیال آتا ہے کہ شاید کوئی خواب دیکھ رہاں ہوں، ہیڈ اینڈ شولڈر شیمپو، میلک صوف صابن، کولگیٹ اور ٹوتھ برش اور ساری چیزیں اپنے منّ کے مطابق پہلے سے وہاں موجود ہیں، کسی کا مجال نہیں ہوتا کہ میرے چیزوں کو ہاتھ لگائے، سارے دوست میرے ان سب چیزوں کا خیال رکھتے ہیں، باقی چیزوں کو چھوڑ آخر میرے صابن تک کا خیال رکھتے ہیں، غلطی سے کوئی دوسرا میرے چیزوں کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔

جناب آج کل بہت ناز و نخرے بھی کرتا رہتا ہوں، نہانے کے پانی میں اگر ذرا سردی محسوس ہوا تو میں پھر گرم کرنے کیلئے آرڈر دیتا ہوں، دوست معذرت کرکے پھر گرم پانی لیکر آتے ہیں۔

میں ہر بات پر ان پر چیختا چلاتاہوں،اور وہ اپنے کمزوریوں سے آپس میں ایک دوسرے کو ڈانٹنے لگتے ہیں اور میں خاموش ہونے کیلئے کہتا ہوں اور وہ خاموش رہتے ہیں۔ نہانے کے بعد میں صرف بیٹھ کے موبائل دیکھتا رہتاہوں۔ اکثر چاہتِ دل کا فلم، گانے اور تصویریں دیکھتا ہوں۔ جب بھی دل کرے تولوگوں کے ساتھ گپ شپ کرتا رہتا ہوں، کوئی دیوان میں اگر ایسی بات کردے کہ میرے دل میں نہ لگے تو ان کو خوب ڈانٹتا ہوں، میرے ڈانٹنے سے دیوان کے دیگر لوگ بھی ان پرٹوٹ پڑتے ہیں۔

جب کھانا کھانے کی وقت آجاتا ہے تو دوست دستر خوان پر میرا انتظار کرتے ہیں، اور میں اپنی مرضی سے اٹھ کے جاتا ہوں۔ دستر خوان پر کھانے میں کونسی چیز نہیں ہوتی؟ پیس، تکہ، کباب، کڑھائی اور بریانی کے ساتھ ساتھ کولڈ ڈرنک وغیرہ۔

کھانا کھانے کے بعد میں اپنے مزاج کے مطابق مصروف ہوتا ہوں، کبھی کبھی دوسرے جگہوں سے لوگ مجھ سے ملنے آتے ہیں، مگر میں اپنی مرضی کے مطابق ان سے ملتا جلتا ہوں۔ کبھی کبھی وہ میرے ملنے کیلئے باہر انتظار کرکے واپس چلے جاتے ہیں، اور میں اُنسے نہیں ملتا ہوں۔

اکثر میرے دوست ان لوگوں سے کہتے ہیں کے میرا طبیعت ٹھیک نہیں ہے تو وہ بیچارے واپس چلے جاتے ہیں۔ اوردوبارہ جب کبھی وہ مجھ سے ملنے آتے ہیں تو سب سے پہلے صحت و طبیعت کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو میں حیران ہوکر سمجھتا ہوں کے دوستوں نے ان سے جھوٹ بول کے واپس بھیج دیا ہوگا۔ میں جواباً کہتا ہوں الحمداللہ اب ٹھیک ہوں، تو میں سوچتا ہوں کے یہ دوست میرا کتنے خیال رکھتے ہیں کہ میرے لئے جھوٹ بھی بولتے ہیں۔اتنی محبت دیکھ کر اب آپ لوگ خود سوچ لیں کے میں اورکس چیز کیلئے پریشان یا تکلیف ہوجاؤں؟

اور سنیئے! میں ہر وقت اپنے بال اور داڑھی دوستوں کے زیادہ کہنے پر بناتا ہوں، وہ روز بنانے کیلئے بولتے ہیں لیکن میں نہیں بناتا۔ میرے انکار سے سب دوست مجھ سے ناراض ہو جاتے ہیں اور انکے اس پیار کو دیکھ کے مجبور ہوکر راضی ہو جاتا ہوں۔ جب واپس آجاتا ہوں تو دوست مجھے دیکھ کر خوش ہوجاتے ہیں۔

اتنے سہولیات کے باوجود پھر بھی بہت بے چین ہوں۔ کبھی کھبی خیال میں آتا ہے کے شاید پاگل ہوچکاہوں؟ یا میرے سمجھ میں کچھ نہیں آتا یا کہ نادان ہوں، جو اتنے سہولیات کے باوجود سکون اور چین کا کوئی نام و نشان نہیں پائی جاتی۔

میں اپنے آپ سے باتیں اورسوالات کرنے لگتا ہوں کیونکہ انسان جب کشمکش میں مبتلا ہو جاتا ہے تو وہ دوسروں سے نہیں بلکہ اپنے آپ سے سوال پوچھتا ہے کہ آخر کیوں ایسا ہورہا ہے؟ دوسروں سے اسلیئے نہیں پوچھتا ہوں کیونکہ دوسروں کاکام تو یہی ہے کہ اس کشمکش کو بڑھانا۔

میں سوچتا ہوں، اگر میں مغرور ہوتا تو بے چینی نہیں، نادان ہوتا تو بھی نہیں، اور اگر پاگل ہو تا تو پھر بھی نہیں کیونکہ انسان اپنا نہیں دوسروں کا نقل کرتاہے اور نقل اس کے امیج و کردار کو سوٹ نہیں کرتا ہے کیونکہ دنیا میں ہر انسان کا ایک الگ پہچان ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر ایک ڈاکٹر کو لوگ تب ڈاکٹر بولتے ہیں کہ وہ ڈاکٹر ہو، ایک کسان کو تب کسان بولتے ہیں کہ وہ کسان ہو، ایک ماسٹر کو تب ماسٹر بولتے ہیں کہ وہ ماسٹر ہو اور ایک پاگل کو تب پاگل بولتے ہیں جب وہ پاگل ہو۔

کہنے کا مقصد یہ ہے، ہر ایک انسان کا اپنے عمل و کردار اور کام سے پہچان ہوتا ہے، ہر ایک انسان تب تک سکون اور چین نہیں پاسکتا جب تک وہ اپنے کام کے ساتھ ایماندار نہ ہو۔

لیکن جناب۔۔۔ ایک وقت میرا بھی تھا کہ میں پر سکون تھا، کیونکہ میں نے بھی اپنی زندگی کو ایک مقصد اور ایک کام کے لئے وقف کردیا ہے اور ابھی اسی کام کیلئے زندگی کے دنوں کو گذار رہاہوں، مگر پھربھی سکون اور چین نہیں آتا اگر پہلے سکون تھا اپنے کام میں تواب کیوں نہیں ہے؟

انسان تب سکون پاتا ہے، جب وہ اپنے آپ سے مطمئین ہوجاتا ہے، مطمئین تب ہوتا ہے جب وہ اپنے آپ سے جھوٹ، بے ایمانی اور غداری نہ کرے اور اپنے آپ کو دھوکے میں نا رکھے کیونکہ دوسرے تو آ پ کو یہ سب چیزیں ویسے بھی دینگے، بدلے میں تیرا سب کچھ چھین لیتے ہیں۔

کچھ ایسی چیزیں ہیں، جو دنیا کی کوئی بھی طاقت انکوآ پ سے چھین نہیں سکتا، جناب! وہ آپ کی سوچ، ایمانداری، سچائی اور ضمیرہے کیونکہ یہ ساری چیزیں خدا نے اپنے بندوں کو ایک مقصد کیلئے دی ہیں، اور سب انسانوں کوبھی، مگر کچھ لوگ ان چیزوں کی قدر و قیمت نہیں جانتے ہیں۔ اگر جانتے ہیں تو ان پر عمل نہیں کرتے اور حواس باختہ ہوکر اس دنیا میں گمراہ و غمزدہ ہو جاتے ہیں اور تب جاکے دوسروں کے لیئے ایک جھوٹی مثال بن جاتے ہیں اور کچھ لوگ انکے حال کو دیکھ کر سیکھ جاتے ہیں اور کچھ لوگ انکے حال کو اپنا حال بناتے ہیں اور دلائل بھی دیتے ہیں اور بیوقوفی کی بھی حد ہوتی ہے۔

جناب! میں کچھ عرصے پہلے بہت پرسکون تھا کیونکہ میں نے جو زندگی وقف کردی، وہ ایک سوچ اور ایک نظریئے کے مانند تھی۔ ایک انقلاب کے لیئے، جو ایک غلام کیلئے عبادت ہے، اور وہ عبادت ایک محبت ہے، وہ محبت ایک تصویر ہے، وہ تصویر ایک حقیقت ہے، ایک ایسی حقیقت جو دشمن کیلئے عذاب بن جاتا ہے، ایک ایسی حقیقت جس کی سچائی سے دشمن واقف ہوتا ہے، اس لیئے ان پر عذاب بن جاتا ہے۔

اور وہ گبھراہٹ کاشکار ہو جاتا ہے، مگر کیا ہم انقلاب کو سمجھ رہے ہیں یا جانتے ہیں؟ اگر میں جواب میں ہاں کہوں؟ تو جھوٹ اور اگر نہیں کہوں تو پھر بھی غلط۔ تو جواب شاید اسطرح نکل سکے کہ ہاں بھی نہیں اور نہیں بھی نہیں؟

وہ اس لیئے کہ انقلاب میں ہزاروں کے حساب سے لوگوں کی سوچ، زندگی، کردار و عمل، ایمانداری، سچائی، قربانی یوں سمجھو ایک قوم جُڑی ہے۔ اس لیئے یہ میرے حق میں نہیں آتا کہ میں کچھ کہوں یا دالائل دوں۔ ہاں! اتنا بول سکتا ہوں کہ میری سمجھ، سوچ، کردار وعمل میں کمی ہے اور لوگ خود اس بات کو سمجھ لیں کیا ان کا کردار و عمل انقلابی نظریئے کے مطابق ہیں؟ یا نہیں؟

اگر ہیں تو ٹھیک، اگر نہیں تو خدا کیلئے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کرو، ایسا نہ ہوکہ آپ پر آنے والی نسلیں تھوکیں اور آپ کو تاریخ ایک رد انقلابی کے نام سے پکارے کیونکہ تمہارا کل آج سے شروع ہوتا ہے۔

اس سوچ میں پنے آپ کو دھوکے میں نہ رکھیں کہ آنے والے دن آپ پر مہربان ہونگے، اور آپ کو انقلابی نظریئے، تحفے یا خیرات میں دی جائینگی، اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو آپ اندھیرے میں ہیں اور جو لوگ اندھیرے میں ہوتے ہیں ان کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، بجائے وہ دوسروں کو سہارا بنیں۔

آج کی دنیا میں سب چیزیں پڑھنے والوں کے لئے ایک کتاب، دیکھنے والوں کیلئے ایک تصویر، سننے والوں کیلئے ایک آواز اور سیکھنے والوں کیلئے ایک ہنر کی طرح آپ کے سامنے واضح ہیں، جس سے آپ سیکھ سکتے ہیں اور دوسروں کو بھی سکھا سکتے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ: اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔