دس سالہ جدوجہد کے بدلے میں صرف پیاروں کی لاشیں مل رہی ہیں۔ وی بی ایم پی

73

سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر لوگوں کو شدت کے ساتھ لاپتہ کیا جارہا ہے جبکہ اہلخانہ کو دھمکی آمیز لہجے کے ذریعے پر امن احتجاج ختم کرنے کی دھمکی دیکر ذہنی اذیت سے گزارا جارہا ہے۔ دشت تیرہ مل میں لاشوں کو بغیر شناخت دفنانا سمجھ سے بالاتر ہے، اس جرم میں حکومت بلوچستان کو شریک قرار دیتے ہیں – وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ ہیومن رائیٹس آرگنائزیشن کی پریس کانفرنس

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز اور بلوچ ہیومن رائیٹس آرگنائزیشن کی جانب سے گذشتہ دنوں لاوارث قرار دیئے جانے والے دس لاشوں کو تیرہ مل میں دفن کیے جانے کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں ستر سالوں سے جاری انسانی حقوق کی شدید پامالیاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرتی جارہی ہیں۔ لوگوں کو لاپتہ کرکے ان پر انسانیت سوز تشدد کے بعد ماورائے عدالت قتل عام روز کا معمول بن چکا ہے۔ بلوچستان میں ایسا کوئی فرد یا خاندان نہیں جو انسانی حقوق کی پامالیوں سے متاثر نہ ہوا ہو۔ نوجوان، بزرگ، عورتیں بچے غرض ہر طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے عوام کی زندگی طاقت کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے اجیرن بن چکی ہے۔ طاقت کے بے دریغ استعمال کی وجہ سے کئی خاندان اپنے ذریعہ معاش ،مال و مویشی سے ہاتھ دھو بیھٹے اور کئی خاندان اپنے پیاروں کی سلامتی کے لئے نقل مکانی پر مجبور کئے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں لوگوں کو اغوا اور ان کے ماورائے عدالت قتل عام میں شدت 2009 کے اوائل میں لائی گئی جب سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر لوگوں کو اغوا کرنے کا عمل شروع کیا گیا اور شدید اذیت کے مراحل سے گزارنے کے بعد ماورائے عدالت قتل کرکے لاشوں کو ویرانوں اور جنگلوں میں پھینک دیا گیا اور آج دس سال گزرنے کے بعد اس عمل کی شدت میں کئی گنا اضافہ کیا جاچکا ہے۔ بلوچستان میں لاپتہ افراد کی تعداد چالیس ہزار سے تجاوز کرچکی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی انسانی حقوق کی شدید ترین پامالیوں کا مظہر ہے جس سے کسی صورت انکار نہیں کیا جاسکتا۔

رہنماوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دنوں دس افراد کی لاشوں کی برآمدگی اور ان لاشوں کو ڈی این کے بغیر لاوارث سمجھ کر کوئٹہ کے علاقے دشت تیرہ مل میں دفنانا سمجھ سے بالاتر ہے جو حکومت بلوچستان کی لاپتہ افراد کے معاملے کو سرد خانے کی نذر کرنے اور ایسے واقعات میں ملوث افراد اور اداروں کو بری الزمہ قرار دینے کی دانستہ کوشش ہے اور ہم اس جرم میں حکومت بلوچستان کو شریک قرار دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی اور اجتماعی قبروں کی بر آمدگی کے واقعات بلوچستان میں نئے نہیں اس سے پہلے بھی توتک، پنجگور، ڈیرہ بگٹی اور بلوچستان کے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں اجتماعی قبریں دریافت کی جاچکی ہیں جو لاپتہ افراد کی تھی اور آج بھی بر آمد ہونے والی لاشوں کا تعلق بلوچستان کے لاپتہ افراد سے ہیں۔

رہنماوں نے مزید کہا کہ بلوچستان سے لوگوں کی جبری گمشدگی کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لئے جبری گمشدگی سے متاثرہ خاندان وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز کے پلیٹ فارم سے گذشتہ دس سالوں سے جدوجہد کررہے ہیں لیکن ان دس سالوں کی جدوجہد میں انہیں صرف پیاروں کی مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جو عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی توہین ہے جسے برداشت کرنا کسی بھی مہذب اور انسان دوست فرد کے لئے ممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ دو مہینوں سے بلوچستان سے لاپتہ ہونے والے افراد کے اہلخانہ مختلف پر امن ذرائع استعمال کرتے ہوئے اپنے پیاروں کی بازیابی اور انہیں عدالتوں میں پیش کرنے کا مطالبہ کررہے ہیں اور جرم ثابت ہونے پر انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں لیکن حکومت بلوچستان اور جبری گمشدگیوں کے ذمہ دار ادارے ان کی آواز کو سننے کے بجائے مزید طاقت کے استعمال کے ذریعے اس مسلئے کو سنگین بنانے کی کوششوں پر عمل پیرا ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم جناب عمران خان لاپتہ افراد کے مسلئے پر کہہ چکے ہیں کہ بلوچستان کے لاپتہ افراد سیکورٹی فورسز کی تحویل میں ہیں اور انکو منظر عام پر لانے کے لئے کوششوں کو بروئے کار لایا جائے گا لیکن اس کے باوجود لاشوں کا ملنا اور ان لاشوں کو بغیر تصدیق کے لاوارث سمجھ کر دفنانا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔

وزیر داخلہ بلوچستان نے بھی لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو یقین دہانی کرائی تھی کہ ایک ہفتے کے اندر لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جائے گا لیکن اس یقین دہانی کے باوجود لوگوں کی جبری گمشدگی میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی لوگوں کی مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی حکومتی اداروں کی غیر سنجیدگی اور بے حسی کو عیاں کردینے کے لئے کافی ہے۔ ایک طرف سیاسی وابستگیوں کی بنیاد پر لوگوں کو شدت کے ساتھ لاپتہ کیا جارہا ہے اور دوسری طرف ان کے اہلخانہ کو دھمکی آمیز لہجے کے ذریعے پر امن احتجاج ختم کرنے کی دھمکی دیکر ذہنی اذیت سے گزارا جارہا ہے اور دس مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی اہلخانہ کی اذیت میں مزید اضافہ کرنے کا باعث ہوگا۔

رہنماوں نے کہا کہ بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن اور وائس فار بلوچ مِسنگ پرسنز اس پریس کانفرنس کی توسط سے اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے لئے خدمات سر انجام دینے والے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی شدید پامالیوں کا انسانی بنیادوں پر نوٹس لیکر بلوچستان میں انسانی بحران کو جنم دینے والے افراد اور اداروں کو انصاف کے کٹہروں میں لایا جائے اور ان دس لاشوں کا ڈی این ٹیسٹ اقوام متحدہ کے زیر نگرانی انسانی حقوق کے ادارے سے کرائے جائیں تاکہ بلوچستان میں انسانی المیے کو رونما ہونے سے روک کر بلوچستان کے عوام کی زندگیوں کو محفوظ بنایا جاسکے۔