بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں – پاکستان

38

 پاکستان نے افغانستان میں قیامِ امن کے لیے جاری مفاہمتی عمل کی کوششوں میں بھارت کے کردار کو خارج از امکان قرار دے دیا۔

ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے ہفتہ وار بریفنگ میں افغان مفاہمتی عمل میں بھارتی کردار پر پاکستانی موقف کے بارے میں کیے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’بھارت کا افغانستان میں کوئی کردار نہیں۔

واضح رہے ترجمان دفتر خارجہ کا یہ موقف وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے گزشتہ ماہ قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان کے بالکل متضاد تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ چونکہ بھارت افغانستان میں موجود ہے چناچہ اس سلسلے میں (افغان تنازع کے حل کے لیے) اس کا تعاون بھی درکار ہوگا۔

دوسری جانب امریکا کے خصوصی مندوبِ برائے افغان مفاہمتی عمل، زلمے خلیل زاد نے اپنے حالیہ دورے کے دوران نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج سے بھی ملاقات کی تھی، بھارت کے دورے کے اختتام پر ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے افغانستان میں پائیدار امن کے حصول، باہمی اور علاقائی سطح پر ممکنہ تعاون کے امکانات پر گفتگو کی۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بریفنگ میں اس بات کو تسلیم کیا کہ پاکستان کے بھارت کے ساتھ تعلقات پیچیدہ ہیں، ان کا کہنا تھا کہ تعلقات معمول پر لانے کے لیے پاکستان کی کوششوں کے باوجود اس سلسلے میں کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آپ سب جانتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ روابط نہیں رکھنا چاہتا۔

لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کی خلاف ورزی کے بارے میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نئی دہلی اس کے جواز میں پاکستان پر اشتعال انگیزی کا بے بنیاد الزام عائد کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان رابطے کے لیے قائم ہاٹ لائن کے استعمال کے بجائے مسلسل سیز فائر کی خلاف ورزی سے اس کے شر پسند عزائم کا اظہار ہوتا ہے۔

اس کے ساتھ ترجمان دفتر خارجہ نے بھارت کے اس دعوے کو بھی مسترد کردیا کہ پاکستان نے مبینہ بارڈر ایکشن ٹیم کے ذریعے لائن آف کنٹرول کے اس پار کارروائی کا منصوبہ ترتیب دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس قسم کی کسی ٹیم کا وجود نہیں اور پاکستانی فوج ہی پیشہ وارانہ طور پر شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ دار ہے جو اس طرح کی غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیزی کا سہارا نہیں لیتی۔

ڈاکٹر فیصل نے ایک مرتبہ پھر نئی دہلی سے مطالبہ کیا کہ سیز فائر کی خلاف ورزی کا جائزہ لینے کے لیے وہ پاکستان اور بھارت میں اقوامِ متحدہ کے جنگی مبصر گروپ کو آنے کی اجازت دی جائے۔

علاوہ ازیں انہوں نے یہ بھی بتایا کہ وزیر اعظم عمران خان 22-21 جنوری کو قطر کا دورہ کریں گے، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاکستان سے افرادی قوت بھیجنے کے معاملات پر گفتگو کی جائے گی۔