ایران اور قطر سیاسی مفادات کے لئے انتہا پسندوں کو استعمال کرتے ہیں – القاعدہ رہنما

41

القاعدہ کے ایک سابق مفتی محفوظ ولد الوالد المعروف ابو حفص الموریتانی نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اور قطر نے اپنے اپنے سیاسی مفادات کے لیے مسلح انتہا پسند گروپوں کے ساتھ متوازن تعلقات ا ستوار کررکھے ہیں۔

انھوں نے یہ بات اپنے  ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ان دونوں ممالک نے القاعدہ ، تکفیر ، حجرہ ، اسلامی جنگجو گروپ لیبیا اور دوسرے مسلح گروپوں کے ساتھ سیاسی مفادات کے ایجنڈے کے تحت تعلقات استوار کررکھے ہیں۔

انھوں نے کہا:اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران ایک سے زیادہ وجوہ کی بنا پر القاعدہ کے ساتھ موجود تھا ۔اس کی ایک وجہ تو اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے اور وہ افغانستان سے متصل واقع ہے۔قطر بھی جزوی طور پر وہاں موجود ہے اور وہ واحد ملک تھا جس نے امریکا کی افغانستان میں جنگ کے آغاز کے وقت اپنی فوج نہیں بھیجی تھی۔

ابو حفص نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قطر کی اسلامی رجحانات کے بارے میں ایک مخصوص پالیسی ہے اور یہ دوسرے ممالک کے مقابلے میں اسلامی گروپوں کے بارے میں کم مخالفانہ طرز عمل کا حامل ہے۔اسی لیے مسلح گروپوں اور تنظیموں نے قطر کو باقی خلیجی ممالک سے الگ کردیا تھا حالانکہ وہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل تھا۔

واضح رہے کہ ابو حفص ہی نے القاعدہ اور دوسری مسلح دہشت گرد تنظیموں کے ارکان کو امریکا پر نائن الیون حملوں اور پھر افغانستان کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے بعد ایران میں ٹھہرانے کے لیے مذاکرات کیے تھے اور ا س سلسلے میں ایک سمجھوتے کو حتمی شکل دی تھی۔ انھوں نے صرف القاعدہ نہیں بلکہ افغانستان میں موجود تمام مسلح گروپوں اور اسلامی تنظیموں کی جانب سے ایران سے بات چیت کی تھی۔

انھوں نے بتایا کہ ایران اسلامی گروپوں کےساتھ محاذ آرائی نہیں چاہتا تھا اور وہ حقیقی معنوں میں سیاست کررہا تھا۔ایران اپنی سرزمین پر ان گروپوں کے ساتھ مسلح محاذ آرائی سے بچنے میں کامیاب رہا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ اس نے یہ بھی کوشش کی وہ دوسرے ممالک کے خلاف فوجی کارروائی کا نقطہ آغاز نہ بنے‘‘۔

ان کے بہ قول تہران دہشت گردی کے مقابلے میں ایک طرح کی آزاد حیثیت کو برقرار رکھنے میں کامیاب رہا تھا۔ایران امریکا کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھی شامل نہیں ہوا تھا اور اس طرح اس نے ایک توازن قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔

القاعدہ کے سابق مفتی نے العربیہ سے گفتگو میں مزید بتایا کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد جنگجو گروپوں کا اس ملک سے جانا ٹھہر گیا تھا ۔اس مرحلے پر ایرانیوں نے ان سے کہا تھا کہ خواتین ، بچوں ، بیواؤں اور امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے مجروحین اور جنگجوؤں کو ان کے علاقے سے گزر کر جانے کی اجازت دینے سے متعلق مذاکرات کریں۔

ایران میں القاعدہ

انھوں نے اپنی اس گفتگو میں کئی ایک انکشافات کیے ہیں اور بتایا ہے کہ’’نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ایران کے راستے اپنے آبائی ممالک کو لوٹ جانے میں کامیاب ہوگئی تھی لیکن بہت سے جنگجو ایران سے نہیں جاسکے تھے کیونکہ ان کے پاس سرکاری سفری کاغذات نہیں تھے یا ان کے آبائی ممالک میں انھیں مسائل درپیش ہوسکتے تھے۔چناں چہ وہ ایران ہی میں مقیم رہے تھے ، تاآنکہ بین الاقوامی برادری کو ان موجودگی کی خبر ہوگئی اور پھر وہ ان کی مخالف ہوگئی اور انھیں گرفتار کر لیا گیا‘‘۔

ابو حفص نے بتایا کہ جب القاعدہ کے بعض لیڈرو ں کی تہران میں موجودگی کی خبر منظرعام پر آئی تو ان میں سے بعض افراد سپاہ پاسداران انقلاب ایران کے حوالے کردیے گئے تھے اور بعض دوسروں کو پاکستان کے حوالے کردیا گیا تھا جبکہ زیادہ اہم شخصیات کو ایران نے اپنے پاس ہی رکھا تھا۔

ان کے بقول ایرانیوں نے بڑی خوش اسلوبی سے اس تمام معاملے کو نمٹایا تھا اور انھوں نے خود کو امریکا اور جنگجو گروپوں سے محفوظ رکھا ‘‘۔ابو حفص نے القاعدہ کی شوریٰ کونسل اور دوسرے جنگجو گروپوں کے لیڈروں سے ایرانی رجیم کے حسن سلوک کو بھی سراہا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’’ پہلے پہل ہمیں جیل میں ڈال دیا گیا تھا ،پھر انھوں نے ہمیں رہا کردیا تھا ۔انھوں نے ہمارے ساتھ اچھا سلوک کیا اور وہ جان بوجھ کر ہمارے عقیدے یا مسلک کی توہین نہیں کیا کرتے تھے‘‘۔

قطری اور ایرانی رجیم کے اسلامی مسلح گروپوں کے ساتھ پُراسرار تعلقات کے حوالے سے سوال پر انھوں نے کہا کہ’’اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ قطر اور ایران اور ان مسلح گروپوں کے درمیان کوئی خصوصی تعلق قائم تھا۔دراصل یہ دونوں ممالک اپنے سیاسی مفادات کو دیکھ رہے تھے ۔اس لیے وہ محاذ آرائی میں زیادہ سخت نہیں تھے۔وہ ایک دوسرے کو قبول کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔میرے خیال میں وہ اس میں زیادہ تر کامیاب ہی رہے تھے جبکہ بعض بڑے ممالک صورت حال کا درست جائزہ لینے میں ناکام رہے تھے اور امریکا کی قیادت میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شامل ہوگئے تھے‘‘۔

القاعدہ اور قطر

ابو حفص الموریتانی القاعدہ کے دوسرے لیڈروں کے ساتھ ایران میں کوئی ایک عشرے تک مقیم رہے تھے۔وہ بتاتے ہیں کہ جہادی انتہا پسند گروپوں نے قطر میں امریکی فوج کے العبید میں واقع اڈے کو بھی نظرانداز کیا تھا حالانکہ اس اڈے سے امریکی طیارے اڑ کر افغانستان اور عراق میں طالبان اور القاعدہ کو اپنے فضائی حملوں میں نشانہ بناتے تھے۔

ان کے بہ قول وہ ایک ایجنڈے میں یقین رکھتے تھے اور وہ یہ تھا:’’ کافروں کو جزیرۃ العرب سے نکال دو‘‘۔ان کا کہنا تھا کہ اسلامی گروپ قطر کو ایسا ملک قرار نہیں دیتے تھے جہاں اسلامی شریعت کی پاسداری کی جارہی ہو اور نہ وہ اس کو کوئی اچھا رول ماڈل
سمجھتے تھے۔

ان کے بہ قول قطر کی اسلامی اور مسلح گروپوں سے محاذ آرائی نہ کرنے کی سیاسی حکمت عملی کے پیش نظر شیخ اسامہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ ملک ان کے بیوی بچوں کے رہنے کے لیے بہتر رہے گا اور آج القاعدہ کے مقتول سربراہ کے متعدد بیٹے قطر ہی میں مقیم ہیں ۔وہ شام کے شہر اللذاقیہ میں اپنی والدہ سے ملنے اور ایران سے جانے کے بعد قطر میں رہ رہے ہیں اور اس نے انھیں شہریت بھی دے دی ہے۔

الجزیرہ چینل اور اسامہ بن لادن

ابو حفص الموریتانی نے انٹرویو میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے ملنے والی دستاویزات کے مندرجات کی تصدیق کی ہے۔ان میں اسامہ اور قطری ٹیلی ویژن چینل الجزیرہ کے درمیان روابط کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ان کے نزدیک الجزیرہ ایک ایسا عرب سیٹلائٹ ٹی وی چینل تھا جو سب سے زیادہ دیکھا جاتا تھا ۔اسی لیے انھیں القاعدہ کے نمایندوں کے پتے فراہم کیے گئے تھے۔یہ ایک فطری بات تھی کہ اسلامی تحریکیں سب سے مقبول ٹی وی چینلوں کے ذریعے اپنی تشہیر چاہتی تھیں‘‘۔

ابو حفص نے بتایا کہ ’’ القاعدہ اور اسامہ بن لادن الجزیرہ کے ذریعے اپنے پیغامات کی تشہیر چاہتے تھے۔دوسری جانب الجزیرہ نے بھی اسلامی تحریکوں کو اپنے پیغامات کی تشہیر کی اجازت دے رکھی تھی اور وہ کسی بھی دوسرے چینل سے زیادہ اسامہ اور القاعدہ سے متعلق خبروں کو نشر کرنے میں پیش پیش ہوتا تھا‘‘۔

انھوں نے یہ بھی نشان دہی کی ہےکہ بعد میں الجزیرہ نے امریکا اور برطانیہ کے دباؤ پر ایک مختلف پالیسی اختیار کرلی تھی اور وہ صرف ان ہی خبروں کو شائع اور نشر کرتا تھا جو اس کے معیار اور ادارتی پالیسی کے مطابق ہوتی تھیں۔