ظلم کیا ہے؟ – حارث بلوچ

122

ظلم کیا ہے؟

تحریر۔ حارث بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ 

جب تک ظلم کی معنی و غرض معلوم نہ ہوں تو اس وقت تک اسکے بارے میں گفتگو کرنا بے فاٸدہ و بمعنی ہوا کرتا ہے ۔ ظلم کس چیز کا نام ہے؟ اسکے کٸی اقسام ھیں، مگر اسکی غرض وغایت اور تعریف تمام جہات کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ کیونکہ ظلم کا مطلب ہے
(وضع الشی فی غیر محل)
یعنی ایک چیز کو اپنے محل کے بجاٸے دوسری جگہ پر رکھنا

دوسرے الفاظ میں ظلم عدل کی ضد ہے اور عدل کے معنی ہیں برابر کرنا۔ کیونکہ عدل افراط و تفریط کے درميان ایک نقطہ مساوات ہے، جو اطراف کو برابر رکھتا ہوا حق پر آکر رُک جاتا ہے۔

ظلم کا معنی ہے زیادتی کرنا۔ ناانصافی بھی ظلم ہے اور جو کام انصاف کے خلاف ہو وہ بھی ظلم ہے۔

آپ نے کوٸی فیصلہ کیا اور وہ فیصلہ انصاف کے مطابق نھیں ھے اور جس کے خلاف فیصلہ ھے وہ فیصلہ ماننے پر مجبور ھے، وہ بھی ظلم ھے۔ آپ نے کسی شخص کو مارا یا اس کا حق نھیں دیا، اسکی کوٸی چیز زبردستی چھین لی اگر وہ شخص اپنی مجبوری کیوجہ سے آپ کے ظلم کیخلاف کچھ نھیں کرسکتا تو آپ نے یہ ظلم کیا ھے اور یہ آپکا ظلم ھے۔

ظالم کا ساتھ دینا بھی ظلم ہے، اسکی آواز بننا بھی ظلم ہے اور ظلم پر خاموش رہنا بھی ظلم ہے۔

عدل کی اہمیت کیطرف قرآن نے ان الفاظ میں اشارہ دیا ہے کہ
یاَایُّھاالَذِینَ اٰ منُوا کُونُوا قَوَّامِینَ بِالقسطِ شُھدآء للّہ ولو علیٰ انفُسِکُم ۔۔۔۔۔۔۔۔الخ

جس طرح عدل کی بہت اقسام ہیں اسی طرح ظلم کی بھی بہت سی اقسام ہیں
جسمیں سے ایک ”ظلم النّاس “ھے۔ یعنی ۔عوام پر ظلم کرنا ۔۔۔

اس موضوع کو زیرِبحث لانے کا مقصد حالات کی نزاکت اور اس موضوع کی ضرورت و اہمیت کو اُجاگر کرنا ہے۔ کیونکہ آج کل بلوچوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اور ہوتا رہا ہے اور جو ہوتا رہے گا۔ اگر یہی حالت رہی، تو اس مرضِ لاعلاج کا دوا کیا ہے؟

آخر کب تک بلوچوں کے ساتھ یہ خونی کھیل کھیلا جاٸے گا؟ کیا کوٸی غور فکر و نظر رکھنے والا اور بلوچوں کے دکھ و درد کو محسوس کرنے والا غیرت مند طبیب اس مرض لاعلاج کی تشخيص کرنے والا ہے۔ جو بلوچوں کے جلتے جسموں اور بڑھتے زخموں پر مرہم رکھ سکے؟ جو بلوچوں کی اس ڈوبتی ہوٸی کشتی کو ساحل پر لے جاٸے؟ کوٸی ھے جو معصوم بیٹیوں پر ترس کھانے والا ہو؟ کوٸی ہے جو بلوچوں کے بیٹیوں کی آبرو ریزی اور عصمت دری کے تحفظ کیلٸے اٹھ کھڑا ہونے والا ہو؟ کوٸی ہے جو ماٶں، بہنوں، بیٹیوں کی آبرو وعزت کی چوکیداری کرنے والا ہو؟ جو ماؤں کے سَروں سے آنچل کو نہ چھیننے دے، جو بیواؤں سے ہمدردی کرنے والا اور یتیموں کے سر پر دَستِ شفقت رکھنے والا ہو۔

ارے کوٸی ہے جو چاکر اعظم رند، نوری نصیر خان اور بابو نوروز کی طرح جذبہِ ایمانی رکھ کر ظلم کو دیوار سے لگانے والا ہو۔۔۔۔

کہہ دو اسے جو لشکرِ باطل کے ساتھ ہے ۔
اس ڈھنگ پرہےزور تو یہ ڈھنگ ہی صحیح۔

ظالم کی کوٸی ذات ہے نہ مذہب نہ قوم۔
ظالم کے لب پہ ذکر بھی ان کا گناہ ہے۔

پھیلتی نھیں ہے اس سر زمین پر ظلم ۔
تاریخ شاھد ھے زمانہ گواہ ہے۔

کچھ اصولوں کا نشہ کچھ مقدس خواب تھے ۔ہ

ر زمانے میں شھادت کےیہی اسباب تھے۔۔۔

دی بلوچستان پوسٹ :اس مضمون میں پیش کیئے گئے خیالات اور آراء لکھاری کے ذاتی ہیں، ضروری نہیں ان سے دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک متفق ہے یا یہ خیالات ادارے کے پالیسیوں کا اظہار ہیں۔