طلباء کی اغواء و گرفتاریاں پُرامن جمہوری جدوجہد کےراستوں کو بند کرنے کی سازش ہے – بی ایس او

57

بلوچستان کے موجودہ حالات میں بی ایس او واحد طلبا جماعت ہے جس نے از سر نو ملکی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے طلبا سیاست کو انتہا پسندی سے پاک کرنے کا اعادہ کیا ہے.بی ایس او بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ سمجھتی ہے اور طلبا کو انتہا پسندی اور موقع پرستی جیسے رحجانات سے نجات دلا کر تعلیمی بہتری کی جانب توجہ دلانے کا ارادہ رکھتی ہے – جونیئر وائس چیئرپرسن بی ایس او سعدیہ بلوچ

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے رہنماوں نے کوئٹہ پریس کلب میں چیئرمین ظریف رند بلوچ، مرکزی سیکریٹری چنگیز بلوچ، سینئر جوائنٹ سیکریٹری جیئند بلوچ، مرکزی سیکرٹری اطلاعات اورنگزیب بلوچ اور دیگر ممبران کے جبری گمشدگی کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پچیس اور چھبیس نومبر کو تنظیم کے مرکزی کونسل سیشن کے بعد اسی پریس کلب میں بی ایس او کے مرکزی قیادت نے تنظیمی پالیسی و ہداف کو واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ بی ایس او ایک خالصتا طلبا تنظیم ہے جو پر امن ،جمہوری جدوجہد پر یقین رکھتی ہے اور اپنی اسی پالیسی کی بنیاد پر اکیڈیمک اور علمی طریقے سے کیمپس کے اندر اور باہر پرامن طریقے سے اپنے جائز طلبا حقوق اور مطالبات کے حق میں جدوجہد کرتا رہے گا

انہوں نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک پر امن جمہوری طلبہ تنظیم ہے اور ہر قسم کی متشددانہ اور مہم جوانہ عمل کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ بی ایس او کی جدوجہد تعلیمی اداروں میں پرامن علمی فضاء کو بحال کرکہ نوجوانوں کو علم و ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا ہے۔ جس طرح گزشتہ عرصے میں بی ایس او کو چند شخصیات نے جمہوری طلبہ سیاست سے بھٹکا کر اسے ذاتی ایجنڈوں پر لگایا تھا ہماری تنظیم نے سالوں کی محنت و جتن کے بعد اس کے خلاف مضبوط اسٹینڈ لیکر بی ایس او کو دوبارہ تعلیمی و پرامن طلبہ سیاست کی ڈگر پر لگایا ہے جس کا پیغام کچھ دن پہلے اسی کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکہ آپ تک پہچایا تھا کہ بی ایس او انتہاپسندی چاہے وہ پارلیمانی موقع پرستی و چاپلوسی ہو یا پھر مسلح جنگ اسے طلبہ سیاست کے برخلاف سمجھتے ہیں اور شورش زدہ بلوچستان میں پرامن تعلیمی ماحول کو بحال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بلوچستان کے موجودہ حالات میں بی ایس او واحد طلبا جماعت ہے جس نے از سر نو ملکی آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے طلبا سیاست کو انتہا پسندی سے پاک کرنے کا اعادہ کیا ہے.بی ایس او بلوچستان کے مسئلے کو سیاسی مسئلہ سمجھتی ہے اور طلبا کو انتہا پسندی اور موقع پرستی جیسے رحجانات سے نجات دلا کر تعلیمی بہتری کی جانب توجہ دلانے کا ارادہ رکھتی ہے جو یقیننا بلوچستان کے روشن مستقبل کی ضمانت ہے.مگرانتہا اور کرب سے آج اس پریس کانفرینس کے توسط سے تمام سیاسی جماعتوں اور انسان دوست سماجی حلقوں کو مطلع کرتے ہیں بی ایس او کے مرکزی چئیرمین ظریف رند, مرکزی سیکرٹری جنرل چنگیز بلوچ, مرکزی انفارمیشن سیکرٹری اورنگزیب بلوچ کو دیگر تین تنظیمی ساتھیوں سمیت اسی کوئٹہ جناح رووڈ سے دو گاڈیوں میں آکر مسلح لوگوں نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا جب وہ بی ایس او کے مرکزی جوائنٹ سیکرٹری جیئند بلوچ کی بازیابی کیلیے نکالی گئ ایک پرامن ریلی سے واپس آ رہے تھے.

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں اس طرح کی اغوا نما گرفتاریاں ملکی آئین کے ساتھ مذاق ہے اور طلبا کو پرامن جمہوری رستے سے ہٹانے کی سازش ہے لیکن ہم پھر اس بات کو دہرا رہے کہ بی ایس او ایک پر امن سیاسی طلباء تنظیم ہیں جو نوجوان کو پر امن سیاسی ماحول میں ً جدوجہد کا درس دیتا ہیں اس طرح کے ہتھکنڈوں سے مرعوب ہو کر طلبا کو بے یار مددگار نہیں چھوڑا جا سکتا.

انہوں نے بلوچستان حکومت اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے مرکزی عہدے داروں کو فی الفور منظر عام پہ لایا جائے. ہم کسی صورت ملکی آئین کی خلاف ورزی نہیں چاہتے. بی ایس او کا پروگرام بڑا واضح ہے. اس طرح دن دہاڑے اغو نما گرفتاریاں بلوچ نوجوانوں کو اشتعال دلانے کی سازش ہیں جس سے اجتناب کیا جائے.

آخر میں انہوں نے صحافیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ تمام دوستوں کے توسط سے ایک بار پھر تمام سیاسی جماعتوں، طلبا تنظیموں، انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی قیادت کی با حفاظت بازیابی کی ججدوجہد میں ہمارا ساتھ دیں. ہم امن کے ساتھ طلبا سیاست جاری رکھیں گے اور اپنے قائدین کی بازیابی تک کسی صورت چین سے نہ بیٹھیں گے.