بی ایس او پر امن طلبہ تنظیم ہے اور پرتشدد عمل کی مخالفت ہے – ظریف رند

70

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک پر امن جمہوری طلبہ تنظیم ہے اور ہر قسم کی متشددانہ عمل کی شدید مخالفت کرتی ۔

ان خیالات کا اظہار بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین ظریف رند کوئٹہ پریس کلب میں تنظیم کے سینئر جوائنٹ سیکٹر جئیند بلوچ انکے بھائی اور والد کی گرفتاری کے بعد لاپتہ کرنے کے خلاف پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا

انہوں نے کہا کہ۔30 نومبر کی رات تین بجے ہماری تنظیم کے مرکزی سینئر جوائنٹ سیکریٹری جیئند بلوچ کے گھر پر فورسز نے چھاپہ مار کر  چادر و چاردیواری کی پامالی کی اور جیئند بلوچ سمیت ان کے والد عبدلقیوم بلوچ اور چھوٹے بھائی حسنین بلوچ کو اپنے ساتھ اْٹھا کر لے گئے جوکہ تاحال لاپتہ ہیں۔

 ظریف رند نے کہا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن ایک پر امن جمہوری طلبہ تنظیم ہے اور ہر قسم کی متشددانہ عمل کی شدید مخالفت کرتی ہے ۔ بی ایس او کی جدوجہد تعلیمی اداروں میں پرامن علمی فضاء کو بحال کرکے نوجوانوں کو تعلیم و ترقی کی راہوں پر گامزن کرنا ہے۔ جس طرح گذ شتہ عرصے میں بی ایس او کو چند شخصیات نے جمہوری طلبہ سیاست سے بھٹکا کر اسے ذاتی ایجنڈوں پر لگایا تھا ہماری تنظیم نے سالوں کی محنت و جتن کے بعد اس کے خلاف مضبوط موقف لیکر بی ایس او کو دوبارہ تعلیمی و پرامن طلبہ سیاست کی ڈگر پر لگایاہے جس کا پیغام ہم نے دو دن پہلے اسی کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرکے آپ تک پہچایا تھا کہ بی ایس او انتہاپسندی چاہے وہ پارلیمانی موقع پرستی و چاپلوسی ہو یا پھر مسلح جنگ اسے طلبہ سیاست کے برخلاف سمجھتے ہیں اور شورش زدہ بلوچستان میں پرامن تعلیمی ماحول کو بحال کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں جیئند بلوچ کا یہ واقعہ ایک انتہائی غلط تاثر پھیلانے کا باعث بن رہا ہے اور نوجوانوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہیں کہ میدان میں رہ کر طلبہ کے حق میں بولنے کی تمام جمہوری راہوں پر غیراعلانیہ پابندی عائد ہے۔ اور ایسے واقعات سے نوجوانوں کو ایک بار پھر خطرناک انتہاؤں کی جانب گامزن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جس کی ہم شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور یہ واضح کرتے ہیں کہ ہم اب نوجوانوں کو کسی بھی طرح انتہاپسندی کی دلدل میں پسنے نہیں دینگے بلکہ میدان میں رہ کر طلبہ حقوق اور انسانی حق کی جمہوری دفاع کرینگے۔ ساتھ ہی مقتدر اعلیٰ کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ خدارا بلوچ نوجوانوں کو دیواروں سے لگانے سے گریز کریں اور غیر آئینی و ملکی قوانین کے برخلاف جبری گمشدگیوں کا سلسلہ بند کریں۔اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوے ہیں۔

 بی ایس او چیئرمین نے کہاکہ ہم صحافی برادری کے توسط سے حکومت وقت، مقتدر اعلیٰ اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ان سگنین انسانی حقوق کی پامالیوں کا نوٹس لیں اور جیئند بلوچ سمیت ان کے والد عبدلقیوم بلوچ اور چھوٹے بھائی حسنین بلوچ سمیت تمام لاپتہ افراد کو فوری طور بازیاب کروائیں۔ پاکستان اس وقت اْٹھاؤ اور مارو کی پالیسی کی وجہ سے سنگین انسانی بحران کا شکار ہونے جا رہا ہے لہٰذا حکام بالا کی زمہ داری ہیکہ وہ اسکے حل کی طرف بڑھیں وگرنہ تاریخ انہیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔