انسانی حقوق کا عالمی دن : بی این ایم کا مختلف ممالک میں مظاہرہ

75

بلوچ نیشنل موومنٹ کے مرکزی ترجمان نے کہا ہے کہ  دس دسمبر انسانی حقوق کا عالمی دن کے موقع پر آسٹریلیا، جرمنی اور ہالینڈ میں احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ یہ مظاہرے آسٹریلیا کے میلبورن، جرمنی کے کولن اور ہالینڈ کے دارالحکومت ایمسٹرڈم میں کی گئیں۔ ان مظاہروں کا مقصد بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن، حراستی قتل، اغوا اور گمشدگی اور کوئٹہ کی یخ بستہ ہواؤں میں احتجاج کرنے والی خواتین اور بچوں کی آواز کو دنیا تک پہنچانا ہے۔

ترجمان نے کہا انسانی حقوق کی مناسبت سے ان ممالک کے مختلف شہروں میں ہونے والے ان مظاہرین کے شرکاء نے بینرز اور پلے کارڈ اُٹھا رکھے تھے جن پر لاپتہ اور بلوچ شہدا کی تصاویر کے علاوہ پاکستانی مظالم کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے مقامی لوگوں میں پمفلٹ تقسیم کئے جن میں بلوچستان میں ہونے والی مظالم اور جنگی جرائم کی تفصیلات کے ساتھ خطے میں پاکستان کی دہشت گردی، شدت پسندی پھیلانے، اسامہ بن دلادن سمیت حافظ سعید سمیت عالمی برادری کو مطلوب کئی دہشت گردوں کو پناہ دینے اور دہشت گردوں کی نشوونما اور محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کے بارے میں تفصیلات بیان کی گئی تھیں۔

ترجمان نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے پاکستان نے بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی اور بلوچ قومی نسل کشی شروع کی ہے جو تاحال جاری ہے اور اس میں روز بہ روز اضافہ ہورہاہے۔ اس تمام صورت حال میں عالمی دنیا بلوچستان میں جاری پاکستان کی بربریت اور دہشت گردی سے مکمل طورپر ناواقف ہے۔ اس کی سب سے بڑی ذمہ داری میڈیا پر عائد ہوتی ہے۔ نام نہاد’آزاد‘پاکستانی میڈیا ریاست کے ساتھ فریق بن کر ریاستی دہشت گردی کو چھپانے اور ریاستی بیانئے کی تشہیر و تبلیغ کرکے حقائق کو مسخ کرنے کے جرم میں برابر کا شریک ہے۔ پاکستانی میڈیا کی مکمل جانبداری اور عالمی میڈیا کی عدم رسائی کی وجہ سے بلوچستان ایک بلیک ہول بن گیا ہے اور میڈیا بلیک آؤٹ کی وجہ پاکستانی فورسز مزید دیدہ دلیری سے بلوچ نسل کشی میں مصروف ہیں۔ بلوچستان میں ایک انسانی المیہ جنم لے چکا ہے اور یہ انسانی المیہ روز بہ روز سنگین تر ہوتا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ ’انسانی حقوق کا عالمی دن‘ یقیناً ہر سال ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ دنیا میں انسانوں کو جان، مال، عزت نفس اور آبرو سمیت بنیادی حقوق کے تحفظ کا مسئلہ درپیش ہے۔گوکہ مہذب ممالک میں انسانی حقوق اور اقدار کی اہمیت اب بھی برقرار ہے لیکن مقبوضہ بلوچستان میں انسانیت کو جس بحران کاسامنا ہے اس کا اندازہ عالمی دنیاکو قطعاََ نہیں ہے کیونکہ بلوچستان پر بڑی طاقتوں کی ایک ایسی غلام قابض ہے جو انسانی اقدارسے مکمل طور پر محروم ہے۔ بلوچستان میں پاکستان جنگی جرائم میں ملوث ہے اور اس کے فورسز بلوچستان میں انسانی لہو سے ہولی کھیل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے جنگی جرائم سے بلاتخصیص جنس اور عمر کوئی محفوظ نہیں ہے۔ بلوچستان کو ایک فوجی چھاؤنی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ بلوچ قوم اپنی تاریخ کی بدترین دور سے گزر رہا ہے۔ اجتماعی سزا کے طورپر پاکستانی فورسز خاندانوں پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں اورحراست میں لے کر اذیت دینا، قتل کرکے لاشیں مسخ کرکے پھینکنا ایک معمول بن چکا ہے۔ گزشتہ کئی سالوں سے بلوچ خواتین کو بھی اٹھانے کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے جس سے بلوچستان میں ایک ایسی صورت حال جنم لے چکاہے جہاں مکمل خوف و حراس کا ماحول ہے۔ لوگوں کی معمولات زندگی درہم برہم اورجینا دوبھر ہوچکا ہے۔ وہ مکمل طور پر وحشی فوج کے رحم و کرم پر ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ اور بلوچ قوم عالمی اداروں سے مسلسل یہی توقع کرکے عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی چارٹر کے مطابق آزادی کی جد و جہد میں مصروف ہے۔ بلوچ قوم علیٰحدہ شناخت، ثقافت اور زبان ہونے کے باوجود پاکستانی کی کالونی بن کر غلام کی زندگی گزار رہی ہے۔ اقوام متحدہ،انسانی حقوق کے اداروں اورمہذب دنیا کا اولین فرض ہے کہ بلوچستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں، جنگی جرائم اور نسل کشی پر پاکستان کے خلاف راست اقدام اٹھائے اوراس کے ساتھ بلوچ قومی تحریک کی حقانیت کو تسلیم کرکے اس کی حمایت کرے تاکہ بلوچستان سمیت پورے خطے میں انسانیت کو پاکستان کی مستقل دہشت گردی سے نجات مل سکے۔