انسانی حقوق کا عالمی دن: لاپتہ سندھی کارکنوں کی لواحقین کا احتجاجی مظاہرہ

73

پاکستان کے عدالتوں سے اپیل نہیں کرینگے کیونکہ یہ عدالتیں ریاستی اداروں کیلئے بنی ہے۔ ہمارے پیارے بے قصور ہے انہیں آزاد کیا جائے – کراچی میں لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے احتجاج

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سندھ کے شہر کراچی میں پریس کلب کے سامنے وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے زیر اہتمام جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے ریلی نکالی گئی اور دھرنا دیا گیا، مظاہرے میں سیاسی اور سماجی جماعتوں کے کارکنان سمیت لاپتہ افراد کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

تفصیلات کے مطابق انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقعے پر سندھ کے شہر کراچی میں وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے زیر اہتمام گورا قبرستان سے کراچی پریس کلب تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جبکہ پریس کلب کے سامنے دھرنا دیا گیا۔

مظاہرے کی سربراہی وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے سورٹھ لوہار، سسئی لوہار اور تنویر آریجو کررہے تھے جبکہ سورٹھ لوہار، جسقم آریسر کے سنیئر چیئرمین امیر آزاد پنہور، جیئے سندھ محاذ کے چیئرمین خالق جونیجو، ایس یو پی کے سربراہ اعجاز سامٹیو، اسلم خیرپوری، تاج جویو اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے مظاہرین سے خطاب کیا۔

مقررین نے وزیر اعظم پاکستان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان باہر ملکوں کی مثالیں دیتے ہیں جہاں ریاستوں کو ان کے حقوق حاصل ہے لیکن ہمارے پیارے اپنے حق کے لیے آواز اٹھا رہے تھیں جنہیں سالوں سے جبری طور پر ریاستی اداروں نے لاپتہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا لاپتہ آدم حسین آریجو کے حوالے سے ریاستی اداروں نے خود لکھ کر دیا ہے کہ یہ شخص ہمارے پاس ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ کس قانون کے تحت یہ افراد جبری طور پر لاپتہ کیے گئے ہیں۔

مظاہرین نے کہا کہ تمام صوبوں سے لوگ جبری طور پر لاپتہ ہیں۔ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں لاپتہ افراد کے لواحقین احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں جبکہ سندھ اور خیبر پختونخواہ کی بھی یہی صورتحال ہے۔

مقررین نے کہا کہ ہمارے لوگوں کا کوئی جرم یا قصور نہیں ہے، ان کو بے گناہ جبری طور پر لاپتہ کیا گیا ہے لہٰذا ان کو آزاد کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ ہم لاپتہ افراد کو عدالتوں میں پیش کرنے کا مطالبہ نہیں کرینگے کیونکہ عدالتیں ریاستی اداروں کیلئے بنی ہے جبکہ ہمارے پیارے بے گناہ ہے انہیں آزاد کیا جائے۔

مظاہرین نے کہا کہ ہمیں لاپتہ افراد کے لیے احتجاج ختم کرنے سندھ پولیس، رینجرز اور دیگر ریاستی اداروں کی جانب سے دھمکیاں دی جارہی ہے لیکن دھمکیوں سے ہم اپنا احتجاج ختم نہیں کرینگے۔

واضح رہے گذشتہ روز وائس فار مسنگ پرسنز آف سندھ کے کنوینئر سورٹھ لوہار کی سربرائی میں نکالی جانے والی احتجاجی ریلی کو پورٹ قاسم کے مقام پر رینجرز اور دیگر فورسز نے گھیرے میں لیکر آگے جانے سے روک دیا تھا اور مظاہرین کو آگے جانے پر لاٹھی چارج آنسوں گیس کی دھمکیاں دی گئی تھی۔