کوئٹہ: لاپتہ امیر محمد و نذیر جمالدینی کے لواحقین لاپتہ افراد کے احتجاج میں شامل

56

امیر محمد اور نذیر احمد جمالدینی گذشتہ 5 سالوں سے لاپتہ ہیں، بیٹے نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالت میں پیش کیا جائے ضعیف العمر والدہ کی اپیل

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک رپورٹ کے مطابق کوئٹہ پریس کلب کے سامنے جبری طور پر لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے قائم احتجاجی کیمپ میں بلوچستان کے ضلع نوشکی سے تعلق رکھنے والے لاپتہ امیر محمد محمد حسنی اور نزید احمد جمالدینی کے لواحقین نے شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں احتجاج پر بیٹھی امیر محمد کے ضعیف العمر والدہ نے اپنے بیٹے کی جبری گمشدگی کے حوالے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیٹے کو 23 جولائی 2014 کو ضلع مستونگ کے علاقے کھڈ کوچہ سے فورسز کے اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا جو پانچ سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود تاحال بازیاب نہیں ہوسکے ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ میرے بیٹے کو منظر عام پر لایا جائے اور اگر انہوں نے کوئی جرم کیا ہے تو عدالتوں میں پیش کرے۔

یاد رہے امیر محمد کی ضعیف العمر والدہ اپنے دو کمسن پوتوں کے ہمراہ لاپتہ افراد کے احتجاج میں شریک ہوئی ہے۔

دریں اثناء نوشکی ہی کے رہائشی نذ یر احمد جمالدینی کے بھائی نے لاپتہ افراد کے احتجاجی کیمپ میں شرکت کرکے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور بھائی کے گمشدگی کے حوالے سے تفصیلات سے آگاہ کیا۔

لاپتہ نذیر احمد کے بھائی کے مطابق انہیں 25 جنوری 2014 کو نوشکی میں واقع ان کے گھر پر فورسز نے چھاپہ مارکر حراست میں لیکر نامعلوم مقام پہ منتقل کردیا جو تاحال لاپتہ ہے۔

واضح رہے لاپتہ شبیر بلوچ کے لواحقین کے احتجاج کے بعد وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے کیمپ میں بلوچستان کے مختلف علاقوں سے لاپتہ افراد کے لواحقین کی آمد جاری ہے جبکہ ان لواحقین کی جانب سے یہی مطالبہ دہرایا جارہا ہے کہ اگر ان کے پیاروں نے کوئی جرم کیا ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے ملکی  کے تحت سزا دی جائے۔