جامعے سے چھاونی تک – دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

88

یونیورسٹی آف بلوچستان

“جامعے سے چھاونی تک”

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

بہزاد دیدگ بلوچ

بلوچستان 26 فیصد شرح تعلیم رکھنے والا، ایک ایسا جنگ زدہ اور پسماندہ خطہ ہے جہاں 23 لاکھ بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ 11 لاکھ خوش قسمت بچے جن کو اسکول جانا نصیب ہوتا ہے انکی حالت زار یہ ہے کہ بلوچستان میں موجود 5000 اسکول محض ایک کمرے اور ایک استاد پر مشتمل ہیں، 2000 اسکول ایسے ہیں جہاں اسکول کی کوئی عمارت نہیں اور بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ہی زیر تعلیم 11 لاکھ بچوں کی اعدادوشمار بھی تحقیقات کے بعد اس وقت مشکوک نکلی، جب یہ انکشاف ہوا کہ جعلی فنڈز کے اجراء کی خاطر بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کم از کم تین لاکھ ” گھوسٹ طلبہ ” موجود ہیں، یعنی جو وجود ہی نہیں رکھتے، محض جعلی ناموں سے رجسٹریشن کی گئی ہے۔ اسکے علاوہ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بلوچستان میں کم از کم 900 ” گھوسٹ اسکول” اور 1500 ” گھوسٹ اساتذہ” کا بھی انکشاف ہوا۔ تاہم غیر سرکاری دعویں اس سے کئی گنا زیادہ ہیں۔

ان تمام مصائب کے بعد بلوچستان میں طلبہ کی ایک انتہائی قلیل تعداد اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے جامعات تک رسائی حاصل کرپاتی ہے۔ اس وقت بلوچستان میں جامعات کی مجموعی تعداد محض 8 ہے، جن میں سے 7 سرکاری اور ایک غیرسرکاری ہے۔ جہاں محض 27464 طلبہ و طالبات ہی اعلیٰ تعلیم سے فیضیاب ہورہے ہیں۔ عمومی رائے سے برعکس ان جامعات میں 39 فیصد زیر تعلیم طالب علم خواتین ہیں۔ ان میں سے اکثریت جامعات بلوچستان کے دارالخلافہ کوئٹہ میں واقع ہیں، اس لیئے بلوچستان کے دور دراز علاقوں کے طلبہ و طالبات مختلف دشواریوں کے باوجود کوئٹہ شہر تعلیم حاصل کرنے کیلئے آتے ہیں، جن میں سے اکثریت ہاسٹلوں میں رہائش اختیارکرتی ہیں۔

 

بلوچستان کے کونے کونے اور دور دراز کے علاقوں سے آئے ہوئے زیادہ تر طلبہ و طالبات کا کوئٹہ میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے رخ بلوچستان کے سب سے بڑے جامعہ، یونیورسٹی آف بلوچستان کی جانب ہوتا ہے۔

گذشتہ دنوں نمائندہ دی بلوچستان پوسٹ نے بلوچستان یونیورسٹی کا دورہ کیا اور وہاں طلبہ و طالبات سے گفتگو کی۔ لیکن بلوچستان یونیورسٹی میں داخل ہونے کے بعد کسی تعلیمی ادارے کے بجائے فوجی چھاونی کا گمان ہوتا تھا۔ مرکزی دروازے پر فوجی جوان استعادہ تھے اور ساتھ ہی بکتر بند فوجی گاڑی بھی کھڑی تھی۔ داخل ہونے کیلئے شناخت لازمی تھی۔ فوجی اہلکار محض مرکزی دروازے پر مستعد نہیں تھے، بلکہ ہر اکیڈمک بلاک کے سامنے بھی پھیرے دے رہے تھے۔

طلبہ و طالبات کے ہاسٹل مکمل فوجی حصار میں لگ رہے تھے، جہاں آنے اور جانے کیلئے وہاں رہائش پذیر طلبہ کو پہلے اپنی شناخت کرانی پڑتی تھی۔

اس صورت حال کے بارے میں دی بلوچستان پوسٹ نے جب یونیورسٹی کے ایک لیکچرار سے بات کی تو انہوں نے نام ظاھر نا کرنے کی شرط پر کہا کہ “بلوچستان یونیورسٹی میں ایف سی اہلکاروں کی بڑھتی ہوئی مداخلت اور بھاری نفری کی موجودگی کی وجہ سے طلباء و طالبات میں خوف و ہر اس پھیل گیا ہے، جس نے زیرِ تعلیم طالب علموں کو ذہنی کرب میں مبتلا کردیا ہے، جس کی وجہ سے وہ اپنے نصابی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دے پاتے۔ پہلے ایف سی اہلکار کالج کی مرکزی گیٹ تک محدود تھے، مگر وقت کے ساتھ ساتھ انکے غیر اعلانیہ اختیارات گرلز اور بوائز ہاسٹل تک پہنچ چکے ہیں۔ ہاسٹل سے لیکر جگہ جگہ کیمرے نسب کرکے طلبا و طالبات کی ہر نقل و حرکت، حتیٰ کے نصابی سرگرمیوں تک پر نظر رکھی جاتی ہے۔”

بلوچستان جیسے قبائلی معاشرے میں یہ ایک انتہائی حوصلہ افزاء امر ہے کہ اتنے مشکلات و مصائب کے باوجود بلوچستان کے یونیورسٹیوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول میں کوشاں 39 فیصد اسٹوڈنٹس خواتین ہیں۔ لیکن بلوچستان یونیورسٹی میں ان طالبات کو سماجی رکاوٹیں تو حائل نہیں لیکن پھر بھی انکو سخت مصائب کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

اس موقع پر بلوچستان یونیورسٹی ہاسٹل کے طالبات کے ایک وفد نے نمائندہ دی بلوچستان پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے اپنی ان مشکلات کے بارے میں بتایا کہ “ایف اسی اہلکار ہر آنے جانے والی طالبہ کو غیر اخلاقی نظروں سے دیکھتے اور ان پر غلیظ جملے کستے اور قہقے لگاتے ہیں۔ طالبات کے ساتھ چھیڑ خانی کرتے ہیں، بظاہر ایف سی اہلکار یہاں ہماری تحفظ کے نام پر آئے ہیں، مگر ہم ان سے ہی سب سے زیادہ خطرہ محسوس کرتے ہیں، گذشتہ چھ مہینے کے دوران درجن بھر طلباء و طالبات اپنی پڑھائی چھوڑ کر واپس اپنے گھروں کو چلے گئے ہیں اور اگر یہ سلسلہ نہ روکا گیا تو یہاں کسی کی عزت محفوظ نہیں رہے گی۔”

جب نمائیندہ ٹی بی پی نے طالبات سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے ان رویوں کے خلاف باقاعدہ شکایت کی ہے؟ تو انکا کہنا تھا کہ “وائس چانسلر کو بار بار شکایت کی، لیکن ہمیں چپ رہنے کی تلقین کی جاتی ہے، طلباء احتجاج کرنے سے اس لیئے کتراتے ہیں کہ یہ عمل انکی گمشدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ بیشتر طالبات ہاسٹل میں رہاش اختیار کرنے سے خوفزدہ ہیں اور اپنے دور کے رشتہ داروں کے گھروں میں رہنے کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں جبکہ طلبا کو مرکزی گیٹ پر کھڑا کرکے تھپڑ مارنے اور انکی تذلیل کرنے کے واقعات معمول بن گئے ہیں۔ لیکچرار اور پروفیسرز یہ سارا عمل دیکھنے کے باوجود آواز اٹھانے کے بجائے چپ سادھ لیتے ہیں۔ گھر والوں کو اس صورتحال سے آگاہ کریں تو وہ ہمیں پڑھائی چھوڑدینے کا کہیں گے۔ اس صورتحال سے ہم نے بلوچستان اسمبلی کے کئی ممبران تک کو آگاہ کیا ہے، مگر انکی طرف سے بھی کچھ نہیں ہوا۔”

جب دی بلوچستان پوسٹ نے کوئٹہ کے دوسرے تعلیمی اداروں کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ اس وقت بلوچستان کے واحد میڈیکل یونیورسٹی بولان میڈیکل یونیورسٹی کی حالت زار اس سے بھی ابتر ہے، جو ایک ذیلی چھاونی کا منظر پیش کررہا ہے۔

بلوچستان یونیورسٹی شعبہ سیاسیات کے ایک طالبعلم نے ٹی بی پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ” بلوچستان کے تعلیمی اداروں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کرنے کا مقصد یہاں سیاسی عمل اور سیاسی شعور کو پنپنے نہیں دینا ہے، بلوچستان کے یہ تعلیمی ادارے خاص طور پر بلوچستان یونیورسٹی اور بی ایم سی بلوچستان میں طلبہ سیاست کا مرکز رہے ہیں، یہاں سے تحریکیں اٹھے ہیں، لیڈرز بنے ہیں، لیکن اب سیاسی عمل کا اس طرح گلہ گھونٹا جارہا ہے کہ چار طالب علم ایک جگہ جمع ہوکر سیاسی بحث نہیں کرپاتے، سب کو ڈرایا ہوا ہے کیونکہ حفاظت کے نام پر کھڑے اسی ایف سی نے سب کے سامنے اسی گیٹ پر کئی طالب علموں کو گرفتار کیا ہے جن میں سے کئی لاپتہ ہیں اور کچھ کی مسخ شدہ لاشیں مل چکی ہیں۔”

بلوچستان میں معاشی، سماجی اور سیاسی نا انصافیوں، امتیازی سلوک اور ناہمواریوں نے جس طرح جاری جنگ میں مزید ایندھن کا کردار ادا کیا، اسی طرح بلوچستان کے تعلیمی میدان میں وہی امتیازی سلوک اور تعلیمی اداروں پر قبضہ بہتر نتائج دینے سے قاصر رہے گی۔