کوئٹہ: لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھوک ہڑتالی کیمپ 3363 دن مکمل

22
file photo

پاکستانی ریاست اورفوج بلوچستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کررہے ہیں۔ماماقدیربلوچ

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کی جانب سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے کوئٹہ پریس کلب کے سامنے قائم بھوک ہڑتالی کیمپ کو 3363دن مکمل ہوگئے جیکب آباد سے سیاسی، سماجی کارکنان حافظ عبدالرحمن مگسی،صدام بلوچ،ایاز بلوچ، سکندر بلوچ نے لاپتہ افراد و شہدا کے لواحقین سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے کیمپ کا دورہ کیا۔

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے وائس چیئرمین ماما قدیر بلوچ نے وفد سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ شہدا بلوچستان تاریخ میں اس حوالے سے ہمیشہ سرخ سلام، داد تحسین رہیں گے جنہوں نے مسلط کردہ جنگ کے خلاف قومی حقوق کی خاطر اپنے جانوں کا نذرانہ دیکر ثابت کردیا کہ ریاست کہ ریاستی جارجیت کا مقابلہ کرنے کے لئے بلوچ عوام قربانی سے دریغ نہیں کرےگا۔

ماماقدیربلوچ نے کہا یے سال انسانی حقوق کی پامالیوں کے لئے نئی چیلنجوں کو سامنے لایا ہے بلوچستان میں شہدا کے علاوہ لاپتہ اور اغواء ٹارگٹ کلنگ میں نئے سال کی نئی امنگ ہی بلوچ حوصلے کا سبب بنتی رہی، تمام بلوچ کارکن سیاسی ورکرز اور بلوچستان کے غیور فرزند بلوچستان میں ہونے والی غیر اعلانیہ آپریشن اور ریاستی دہشت گردی سے باخبر اور ہمیشہ آگاہ رہیں۔ بلوچ عوام کو ریاستی ذرائع ابلاغ کے سرکاری پرو پیگنڈوں کے خلاف حقائق سے روشناس کریں ،ریاست مکارانہ فریب اور دھوکہ دہی پر مبنی حکمت عملی کو سچ کے ذریعے ہی ناکام بنایا جاسکتا ہے۔

ماما قدیر بلوچ نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہ پاکستانی ریاست بلوچستان میں جنگی جرائم کا ارتکاب کررہاہے اوراس کے ساتھ ہی بلوچ عوام کے قیمتی قومی وسائل اور بحرہ بلوچ پر اس وقت سامراجی قوت پاکستان حکمران قبضہ کرکے اپنے لوٹ کسوٹ کے جاری عمل میں خطر ناک تیزی لائی ہے ،جس کی وجہ بلوچستان میں ریاستی دہشت گردی کے کاروائیوں اور ریاستی طاقت کے استعمال میں اضافہ ہورہے ہیں تمام علاقوں میں خفیہ اداروں اور فورسز کی طرف سے آپریشن شروع کردیا گیا ہے بلوچ عوام کو ہراساں کرکے خوف، ہراس میں مبتلا رکھا جارہا ہے ایسے حالت میں بلوچستان کے تمام سیاسی کارکنوں اور محکوم عوام سے عملی جدوجہد کا تقاضاکرتی ہے، تاریخی جدوجہد کی تشکیل کو برقرار رکھتے ہوئے ہم اپنے ذمہ داریوں کو بخوبی سر انجام دے رہے ہیں