نوشکی: میڈیا سینسر شپ کیخلاف صحافیوں کا احتجاج

39

صحافیوں کی آواز کو دباکر حکومت اپنے دعووں کی نفی کررہی ہے، نوشکی پریس کلب کے سامنے صحافیوں کا احتجاجی مظاہرے سے خطاب

دی بلوچستان ہوسٹ نیوز ڈیسک کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق نوشکی پریس کلب کے سامنے بی ایف یو جے کی مرکزی کال کے تحت صحافیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق نوشکی پریس کلب کی جانب سے پی ایف یو جے کی کال پر غیر اعلانیہ سینسر شپ، مخصوص اخبارات اور چینلز کی اشتہارات کی بندش، صحافیوں کی جبری برطرفی اور آزادی اظہار پر قدغن کے خلاف پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس سے صدر پریس کلب حاجی طیب یلانزئی، سینیئر صحافی حاجی سعید بلوچ، ایم یعقوب بلوچ، برکت زیب سمالانی اور محمد صادق بادینی نے خطاب کیا۔

انہوں نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت یوں تو صحافیوں اور آزادی اظہار رائے کے بلند بانگ دعوے کرتے ہوئے نہیں تھکتی لیکن دوسری جانب صحافیوں کی آواز کو دبانے کیلئے اس کے برعکس اقدامات کر کے اپنے دعووں کی نفی کررہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں اظہار آزادی کو فروغ دیکر جمہوریت کو مستحکم اور جمہوری اداروں کو استحکام دیا جا سکتا ہے، صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے اس ستون کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے اگر یہ ستون کمزور ہوگا تو ملک کمزور ہوگا، صحافی برادری انتہائی نا مصائب حالات اور مشکلات کے باوجود ملک کی ترقی اور خوشحالی کیلئے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں حکومت صحافیوں کو مراعات اور سہولیات دینے کی بجائے ان کے لئے مشکلات اور مصائب کھڑی کررہی ہے جو جمہوری روایات کی منافی ہے۔

مقررین نے کہا کہ حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ صحافیوں کے خلاف غیر اعلانیہ سینسر شپ فوری بند کیا جائے، برطرف صحافیوں کو فوری بحال اور اخبارات اور اشتہارات کی بندش فوری ختم کیا جائے جبکہ اس موقع پر صحافیوں نے بازووں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر نعرے بازی کی ۔