تعلیمی ترقی کے آگے بنیادی رکاوٹوں کا خاتمہ کیاجائے – بی ایس او

55

صوبے میں ناخواندگی کا تناسب کافی حد تک زیادہ ہے جبکہ تعلیمی ادارے بھی تباہی کے شکار ہیں – بی ایس او رہنماء 

بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے مرکزی چیئرمین نذیراحمد بلوچ، سینٹرل کمیٹی کے ممبر حفیظ بلوچ، اسرار بلوچ, بی ایس او خضدار کے آرگنائزر اعجاز بلوچ، بی ایس او سوراب کے آرگنائزر عنایت بلوچ و دیگر نے خضدار پریس کلب میں ’’میٹ دی پریس ‘‘سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صدی تعلیمی انقلاب کی صدی ہے، ہم اپنی تمام تر توانائیاں تعلیم کی جانب مبذول کر رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ نوجوان نسل تعلیم کی جانب متوجہ ہوں اور پورے صوبے میں تعلیمی ماحول قائم ہوجائے، تعلیمی ترقی کے آگے جتنی بنیادی رکاوٹیں ہیں ان کا خاتمہ کیا جائے۔

رہنماوں نے کہا کہ صوبے میں ناخواندگی کا تناسب کافی حد تک زیادہ ہے جبکہ تعلیمی ادارے بھی تباہی کے شکار ہیں، بعض جگہ بلڈنگ نہیں اگر بلڈنگ ہیں تو وہ خستہ حال ہیں اور ان میں سہولیات موجود نہیں ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں کو دیکھ لے، بلوچستان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنا لوجی خضدار جس کو بنے کئی دھائی گزرچکی ہیں لیکن آج بھی یہ ادارہ چار ڈیپارٹمنٹس کی حد تک محدود ہے، آج جتنے دیگر شعبے ہیں جیسے کہ کمیونیکشن، مائننگ، آئی ٹی، جیالوجی ان پر یہاں کے نوجوانوں کو تعلیم دی جائے یہ شعبے خضدار یونیورسٹی میں نہیں ہیں، اسی طرح میڈکل کالج خضدار، بی آر سی خضدار ڈگری کالج خضدار میں بھی سہولیات کا فقدان ہے، پروفیسرز اور ڈاکٹرز کی بھی کمی ہے، آپ کو یاد ہوگا ڈگری کالج خضدار ایک قدیم تعلیمی ادارہ ہے یہاں بڑے رہنماء تعلیم حاصل کرچکے ہیں لیکن آج یہ ادارہ بھی تباہی کے دھانے پر پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بی ایس او تعلیمی ترقی کے لئے روزِ اوّل سے بی این پی کے شانہ بشانہ کوشش کررہی ہے، سردار اختر جان مینگل تعلیم کے لئے جو کردار ادا کررہے ہیں وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے، جو حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے ہیں وہ سورج کو انگلی سے چھپانے کی کوشش کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے حقیقی اور مستحق طلباء کو اسکالرشپ سے محروم رکھا جارہا ہے، جو لوگ خود کفیل ہیں یا سابق نمائندے ہیں انہوں نے اسکالرشپ غریب بچوں کو دینے کی بجائے اپنے ہی بیٹوں میں تقسیم کردیا۔ اسی طرح ہر شعبے میں نا انصافی چل رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹیوں میں ایسے وائس چانسلرز تعینات کیئے جارہے ہیں جو کسی بھی طرح یہاں کے اداروں کے ساتھ مخلص نہیں ہیں اور نہ ہی ان میں وہ صلاحیت موجود ہے جو ان تعلیمی اداروں کو صحیح معنوں میں چلا سکیں۔