پانی کے مسائل کے حل کے لئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کی ضرورت ہے – جام کمال

38

 وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان کہا ہے کہ بلوچستان کو درپیش پانی کے مسائل کے حل کے لئے ہنگامی بنیادوں پراقدامات کرنے کی ضرورت ہے، ہمیں سیلابی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لئے ڈیمز تعمیرکرنے ہوں گے جن سے زیر زمین پانی کے ذخائر میں اضافہ ہوگا اس کے علاوہ دستیاب پانی کے بہتر استعمال کو بھی یقینی بنانا ہوگا ۔

ان خیالات کااظہار انہوں نے محکمہ آبپاشی کی جانب سے محکمانہ امور اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران کیا۔

 وزیراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور وہ دونوں صوبوں کے محکمہ آبپاشی کے حکام کے ہمراہ سکھر بیراج کا دورہ کریں گے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق پانی کی تقسیم کے مسئلے کو دیرپا بنیادوں پر افہام وتفہیم کے ساتھ حل کیا جاسکے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ڈیموں کے نہ ہونے کی وجہ سے سالانہ لاکھوں ایکڑ فٹ سیلابی پانی ضائع ہوجاتا ہے، اگر اس پانی کو ذخیرہ کرنے کی سہولت موجود ہو تو نہ صرف صوبے میں زراعت کے لئے وافر پانی دستیاب ہوسکتا ہے بلکہ اس سے بجلی بھی بنائی جاسکتی ہے، انہوں نے کہا کہ ہمیں ڈیمزاور بلوچستان کے نہری نظام کی بہتری اور توسیع کی اشد ضرورت ہے جس کے لئے وفاق کا تعاون ناگزیر ہے اس ضمن میں وفاقی حکومت سے فنڈز کی فراہمی کے لئے رابطہ کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بارشوں میں کمی کے باعث زیر زمین پانی کی سطح تیزی سے گررہی ہے اور کاریزیں خشک ہورہی ہیں، انہوں نے اس صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے کے لئے محکمہ آبپاشی کو قابل عمل سفارشات کی تیاری اور زیر تعمیر ڈیمز کی فوری تکمیل کویقینی بنانے کی ہدایت کی۔ سیکریٹری آبپاشی نے 100ڈیمز پروجیکٹ کی پیشرفت سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبے کے پیکج ون کے تحت 2400ملین روپے کی لاگت سے 20ڈیمز مکمل کرلئے گئے ہیں پیکج ٹو کے تحت 4500 ملین روپے کی لاگت سے 26ڈیمز پر نوے فیصد کام جبکہ پیکج تھری کے تحت 8500 ملین روپے کی لاگت سے 20ڈیموں پر 30فیصد کام مکمل کیا گیا ہے اور آئندہ مالی سال کی وفاقی پی ایس ڈی پی میں پیکج فور کے تحت 34ڈیمز کی تعمیر کا منصوبہ شامل کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی مجوزہ ڈیمز کے لئے مکمل سروے اور سٹڈی کے بعد مناسب مقام منتخب کئے جائیں سیکریٹری آبپاشی نے بتایا کہ شادی کور ڈیم کا منصوبہ مکمل ہوچکا ہے اور اس کے ذریعہ پسنی کو پانی کی فراہمی شروع کردی گئی ہے، انہوں نے طوئے ور بتوزئی ڈیم قلعہ سیف اللہ، بسول ڈیم اوڑمارہ، ہنگول ڈیم ،پیلارڈاٹ ڈیم آواران، حلک ڈیم ہرنائی، نولنگ ڈیم جھل مگسی، وندر سٹوریج ڈیم، گارک سٹوریج ڈیم خاران،حب ڈیم اور حب کینال کی ری ڈیزائننگ اور پٹ فیڈر کینال کے توسیعی منصوبے کے بارے میں بھی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے پانی ذخیرہ کرنے کی استعداد میں اضافہ ہوگا اور زیر زمین پانی کے ذخائر بھی بہتر ہوسکیں گے۔

انہوں نے عالمی بنک کے تعاون سے انٹیگریٹڈ واٹر ریسورسز منیجمنٹ پروجیکٹ  کی پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ سیکرٹری آبپاشی نے ضلع کچھی میں وفاق کے تعاون سے چھ ڈسپرسل اسٹرکچر کی تعمیر کے منصوبے کے بارے میں آگاہ کیا کہ پانچ ارب روپے لاگت کا یہ منصوبہ 95فیصد مکمل ہوچکا ہے جس سے دولاکھ باون ہزار ایکڑ اراضی زیرکاشت لائی جارہی ہے اور اس کامیاب تجربہ سے علاقہ کی مقامی معیشت پر نہایت مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ بلوچستان کے مزید علاقوں کا سروے کرکے ایسے منصوبوں کی فزیبلیٹی بنائی جائے جس کے لئے وفاقی حکومت کی معاونت حاصل کی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ آبپاشی کو سیلاب سے متاثر ہونے والے اضلاع کے لئے اسکیویٹرز خریدنے کی تجویز دینے کی ہدایت بھی کی۔