ایف سی بلوچ سویڈن – جدوجہد کی کہانی

171

ایف سی بلوچ سویڈن – جدوجہد کی کہانی

دی بلوچستان پوسٹ خصوصی رپورٹ

ایف سی بلوچ جدوجہد، مسلسل بہتری، القا اور طراریت کی ایک مثال ہے۔ ایف سی بلوچ گدروشیا سویڈن کے دارلحکومت اسٹاک ہوم کے ایک قصبے “کسٹا” میں قائم ایک فٹ بال کلب ہے۔

2013 میں جب سویڈن کے کچھ بلوچ لڑکوں نے ناروے کے ایک بلوچ فٹ بال ٹیم کے خلاف میچ کھیلا تو انہیں بری طرح شکست ہوئی۔ لیکن یہ صرف آغاز تھا، انہوں نے لڑائی ہاری تھی مگر جنگ نہیں۔

پانچ سال بعد آج 2018 میں سویڈن کے انہی بلوچ لڑکوں کا تشکیل دیا گیا فٹ بال کلب سویڈش فٹ بال ایسوسی ایشن کے مقابلوں کے ڈویژن 6 ٹائر میں رجسٹر ہے۔ یہ کلب اپنا پہلا پروفیشنل میچ 17 اکتوبر 2018کو کھیلنے جارہی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ نے ایف سی بلوچ- گدروشیا کے انتظامیہ سے بات چیت کی تاکہ انکے اس سفر کے بارے میں معلومات حاصل کرسکے۔

سریا دادیار جو نا صرف انتظامیہ کے رکن ہیں بلکہ ٹیم کے ایک کھلاڑی بھی ہیں، انہوں نے دی بلوچستان پوسٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ” 2013 میں ناروے کے بلوچوں سے میچ ہارنے نے ٹیم میں مزید ذمہ داری پیدا کی، ہم آگے بڑھے اور خود کو مزید بہتر کیا اور آج ہم منظم ہیں۔”

تاہم، بنیادی طور اس ٹیم کی بنیاد ایک سال پہلے 2012 میں بلوچ کمیونٹی سویڈن کے میران بریسگ اور عاطق ایرانژاد نے رکھی۔ اس کام میں ابراہیم لشکرزئی نے بھی انکی معاونت کی۔ اسکا بنیادی مقصد اسٹاک ہوک اور گردو نواح کے بلوچوں کو یکجا کرنا اور فٹ بال کھیلنا تھا تاکہ وہاں مقیم بلوچ کمیونٹی کا ایک دوسرے سے رابطے مضبوط استوار ہوں۔

یہ ایک کامیابی تھی، اسی سلسلے میں 2013 میں انہوں نے ناروے کے بلوچوں کو ایک دوستانہ میچ کھیلنے کیلئے مدعو کیا۔ جس میں سویڈش ٹیم کو بری طرح شکست ہوئی لیکن اس شکست سے منفی اثرات لینے کے بجائے یہ شکست ان میں بہتری لانے اور آگے بڑھتے جانے کی ایک وجہ بنی جو آج تک جاری ہے۔

ہر “ویکینڈ” کو مزید بلوچ آتے اور ٹریننگ کا حصہ بنتے گئے۔ 2014 میں انہوں نے ایک بورڈ تشکیل دینے کا فیصلہ کیا، جس کیلئے ایک رسمی میٹنگ بلایا گیا۔ میٹنگ میں سب نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور جہاں اہم فیصلے کیئے گئے، جیسے ” کورپن لیگ ” میں شرکت، کوچ، چیئرمین اور دوسرے انتظامیہ کا چناؤ عمل میں آیا۔

اسی اثناء میں اسٹاک ہوم میں ایک اور بلوچ فٹ بال ٹیم کا ایف سی- تفتان کے نام سے قیام عمل میں آیا۔

2014 میں ایف سی بلوچ نے پہلے بلوچ کپ کا انعقاد کیا، جس میں پانچ ٹیموں نے شرکت کی۔ جن میں ایف سی تفتان، بوراس بلوچ ایف سی اور دو نارویجین ٹیمیں یونائیٹڈ اوسلو اور ایف سی آزبگ شامل تھیں۔ ایف سی بلوچ نے یہ مقابلہ ایف سی تفتان کے خلاف 2-0 سے چیت لیا۔ اب تک ایف سی بلوچ اس ٹورنامنٹ کو سب سے زیادہ مرتبہ جیتنے والی ٹیم ہے۔ جنہوں نے ناروے اور سویڈن میں منعقدہ 4 بلوچ ٹورنامنٹوں میں سے 2 جیت لیا ہے۔

یہ مقابلے بلوچ کمیونٹی میں بہت مقبول ہوچکے ہیں، ہر ٹورنامنٹ کے بعد بلوچ کمیونٹی آپس میں گھلنے ملنے کیلئے ایک پروگرام کا بھی انعقاد کرتے ہیں۔

” یہ کپ اسٹاک ہوم میں مقیم بلوچوں کو یکتا کرنے اور ایک ساتھ کام کرنے کی لگن میں بہت اضافے کا باعث بنا ہے۔” سریا نے ٹی بی پی کو بتایا۔

یہ اس منعقدہ ٹورنامنٹ کے بدولت ہی ہے کہ جس نے انتظامیہ اور کھلاڑیوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ فٹ بال کے پروفیشنل دنیا میں قدم رکھیں اور ایک کامیاب ٹیم کا قیام عمل میں لائیں، جو آج سویڈش فٹ بال لیگ کا حصہ بن چکا ہے۔

آج کل، سریا مبارکی بلوچ اس ٹیم کے کوچ ہیں، جنہیں منصور رئیسی بلوچ کی کوچنگ میں معاونت حاصل ہے۔ دونوں ٹیم کے باضابطہ کھلاڑی بھی ہیں جبکہ بنیامین رینسبار ٹیم کے کپتان ہیں۔

اس وقت کم از کم 20 بلوچ کھلاڑی اس ٹیم کا حصہ ہیں۔ یہ کھلاڑی مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھتے ہیں جن میں انجنیئرنگ، قانون، بزنس، اکاونٹنگ، بینکنگ، تعلیم وغیرہ کے ساتھ ساتھ ٹیم میں یونیورسٹی اور اسکول کے طلبہ بھی شامل ہیں۔

ٹیم میں دوسرے نسلی پس منظر رکھنے والے کھلاڑی بھی شامل ہیں۔ ” کلب ہر اس شخص کو خوش آمدید کرتا ہے جو کلب کو آگے بڑھنے اور خوشحال ہونے میں مدد کرے۔ ہمارے چناو کا معیار صلاحیت اور سخٹ محنت ہے۔” سریا نے کہا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ بلوچ نوجوانوں کو کیا پیغام دینا چاہتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ” میرا بنیادی پیغام یہ ہے کہ وہ خود پر اعتماد رکھیں، اگر فوری نتائج نا بھی ملیں تو ہمیشہ آگے بھڑتے رہنے کی کوشش کرتے رہنا چاہیئے۔ اس طرح آپ کیلئے وہ راستے اور دروازے کھل جاتے ہیں جن کا آپ نے تصور نہیں کیا تھا۔ سماجی سطح پر اگر دیکھا جائے تو اپنے مقاصد حاصل کرنے کیلئے بطور کمیونٹی ایک دوسرے کا مددگار ہونا چاہیئے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم خود میں خاکساری، پر امیدی اور تحمل پیدا کریں اور لوگوں کے محض منفی پہلوؤں کو نہیں تلاشیں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ تعمیری مکالمے کریں اور ایک دوسرے کو بہتر ہونے کا موقع دیں۔”

یہ انکا مثبت رویہ ہی ہے جو ٹیم کے کامیابی کا باعث بنا ہے۔ اس وقت مذکورہ کلب سویڈش فٹ بال لیگ سسٹم کے ڈویژن 6 کے ٹیموں میں شمار ہوتا ہے۔ ڈویژن 6 کیلئے قابلِ انتخاب ہونے کیلئے انہوں نے 26 اگست 2018 کو کوالیفائنگ راونڈ کا ایک میچ بھی کھیلا۔ مقابل میں ڈویژن 6 کا ایک اور ٹیم ” میدیا” تھا، جو ایک کردش ٹیم ہے۔ ایف سی بلوچ نے یہ مقابلہ 2-1 سے جیت لیا۔ جس کے بدولت وہ ” اسٹاک ہوم کپ ” میں پہنچے۔

ایف سی بلوچ ” اسٹاک ہوم ناک آوٹ کپ” میں اپنا پہلا میچ 17 اکتوبر کو ” بوسٹناس ایس کے” کے خلاف کھیلے گی، جو کہ ایک ڈویژن 4 کی ٹیم ہے۔ دی بلوچستان پوسٹ ایف سی بلوچ کیلئے نیک تمناؤں کا اظہار کرتی ہے۔