ایسٹ بے ایکسپریس وے – دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

113

ایسٹ بے ایکسپریس وے

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

بہزاد دیدگ بلوچ

موجودہ صدی کے آغاز سے ہی گوادر کا مسئلہ بلوچ سیاست میں انتہائی حساس رہا ہے، گوادر کو دبئی بنانے کے دعوؤں کے ساتھ ہی بلوچ قوم پرست حلقوں کا یہ بیانیہ اور خدشہ سامنے آیا کہ اگر گوادر دبئی بن بھی گیا تو اس میں بلوچ، بلوچستان اور گوادر کے آبائی باسی کہیں نظر نہیں آئیں گے۔

حالیہ دنوں سی پیک اور گوادر میں چین کے بعد تیسرے حصے دار سعودی عرب کی شراکت داری اور سرمایہ داری پر گرما گرم مباحثے و تجریئے چل رہے تھے اور ساتھ میں ” نیا پاکستان والے” سعودی عرب کی سرمایہ کاری کو اپنا ایک کارنامہ ثابت کررہے تھے، اسی اثناء اس شور و بھیڑ میں گوادر ڈی سی آفس اور پریس کلب کے سامنے گذشتہ طویل عرصے سے احتجاج کرتے، تھکے ہارے ماہیگیروں کی بیٹھتی آواز زیادہ دور تک پہنچے بغیر ہوا میں تحلیل ہوکر اس خدشے پر تصدیق کی مہر ثبت کرتی رہی کہ گوادر دبئی بن بھی جائے تو مقامی آبادی کہیں نظر نہیں آئے گی۔

ماہیگیروں کا یہ احتجاج، اپنے واحد وسیلہ روزگار سمندر کے چھِن جانے کا خلاف ہے، وہ سمندر جو کئی پشتوں سے انکو پالتا آیا ہے۔ پدی زر پر میرین ڈرائیو منصوبے کے بعد ماہیگیروں کا آخری سہارہ دیمی زر کا ساحل تھا، جسے اب ایسٹ بے ایکسپریس وے کے تعمیر کی صورت میں ان سے چھینا جارہا ہے۔

گوادر کے اس مشرقی ساحل کو ماہیگیر پشتوں کشتیاں لنگر کرنے اور شکار کرنے کیلئے استعمال کررہے ہیں، اب اس پر ایسٹ بے ایکسپر یس وے کا منصوبہ 140 ملین ڈالر کی لاگت سے مکمل کیا جا رہا ہے۔ جس کا مقصد گوادر کو کوسٹل ہائی وے سے ملانا ہے۔ ماہیگیروں کے تحفظات اور احتجاجات کے باوجود اس منصوبے میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے، ساحل سمندر پر تعمیرات کے کام کا آغاز بھی ہوچکا ہے، کسٹم آفس سے لیکر ڈھوریہ تک ڈریجنگ ہورہی ہے اور اب ان ماہیگیروں کو سمندر سے اپنی کشتیاں نکالنے کا حکم بھی دے دیا گیا ہے۔

مقامی ماہی گیروں کے مطابق وہ اس پورے منصوبے کے خلاف احتجاج نہیں کررہے، وہ بس اپنا سمندر اور روزی روٹی چھنتا نہیں دیکھنا چاہتے۔ اس حوالے سے وہ اپنا ایک منصوبہ اور مطالبات بھی ترتیب دے چکے ہیں۔

دی بلوچستان پوسٹ نے جب ماہیگیر رہنماؤں سے رابطہ کیا اور انکے مطالبات کے بابت دریافت کی تو انکا کہنا تھا کہ ” ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ چاہے کوئی بھی منصوبہ ہو، ہمارا تعلق سمندر سے نہیں ٹوٹے، سمندر نا صرف ہمیں روزی دیتی ہے بلکہ مچھلیوں کی طرح زندگی بھی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ دیمی زر ساحل پر ایک 800 میٹر چوڑی اور 1500 میٹر لمبی گودی (بریک واٹر) بنائی جائے اور ساتھ ہی 40 فٹ چوڑی اور 80 فٹ لمبی آکشن ہال تعمیر کی جائے۔”

انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ” ایسٹ بے ایکسپریس وے بننے کی صورت میں ماہیگیروں کی آمدورفت کو یقینی بنانے کیلئے تین گذرگاہیں بنائیں جائیں۔ 200 فٹ کی یہ گذرگاہیں ڈھوریہ، گزروان اور بلوچ وارڈ میں بنائی جائیں۔”

ماہیگیر اپنے مطالبات لیکر صرف ڈی سی آفس اور پریس کلب کے چکریں ہی نہیں لگاتے رہے ہیں بلکہ گوادر کو امن و انصاف کا گہوارہ ثابت کرنے کیلئے دور دور سے آئے جیپ ریلی کے اعلیٰ شرکاء بشمول جام کمال موجودہ وزیرہ اعلیٰ بلوچستان کے پاس بھی گئے۔

یہ مسئلہ بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی توجہ کھینچنے میں بھی کامیاب رہا ہے، معروف بلوچ آزادی پسند رہنما ڈاکٹر اللہ نظر بلوچ نے اس مسئلے پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے شدید مزاحمت کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ” ایسٹ بے ایکسپریس وے کی تعمیر کیخلاف بھرپور مزاحمت کریں گے، پاکستان چین کی مدد سے بلوچ ساحل کو چینی کالونی میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، گوادر کے ماہی گیروں پر عرصہ حیات تنگ کی جارہی ہے۔ ان کے واحد ذریعہ معاش ماہی گیری کے تمام راستے بند کر دیئے گئے ہیں۔”

اسی طرح بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے اسے ایک تباہ کن منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ” ایسٹ بے ایکسپریس وے ایک تباہ کن منصوبہ ہے، یہ نا صرف گوادر کے کے ماہی گیروں سے روزگار چھین کر انہیں فاقوں مارے گی بلکہ یہ تاریخی کوہِ مہدی کو بھی تباہ کردے گا۔”

سراپا احتجاج ماہی گیروں کا کہنا ہے جب گوادر میں چند سو نفوس آباد تھے، نا بجلی تھا نا پانی اور نا ترقی لیکن ہم اپنے سمندر کےساتھ خوش تھے، ہمارا سہارا، ہمارا روزی روٹی، ہماری سیرو تفریح سب یہی ہوتا تھا لیکن اب ہم سے یہ چھینا جارہا ہے تو ہم مزاحمت کی آخری حد تک بھی جائیں گے۔

اسی بابت ورلڈ بلوچ وومن فورم کی چیئرپرسن نائلہ قادری نے اپنا ایک ویڈیو پیغام بھی جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ “چین ایک آدم خور اژدھا ہے، جس نے اپنے منہ میں گوادر کو دبا کر رکھا ہے، اگر اس نے گوادر کو نگل لیا تو پھر بلوچستان کو نگل لے گا، بلوچوں کو گوادر کے ماہیگیر تحریک کا ساتھ دینا چاہیئے۔”

بلوچ طلباء تنظیم بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن آزاد نے بھی اس منصوبے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ “گوادر ایسٹ بے ایکسپریس وے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سامراجی طاقت اس منصوبے کے تحت بلوچ قوم پر معاشی اور فوجی یلغار کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنی معیشت کو مضبوط کرکے فوجی طاقت کے ذریعے اپنے قبضہ گیریت کو دوام بخشے، چائنا اور پاکستان اکنامک کوریڈور کے تحت جتنے بھی منصوبے بنائے جارہے ہیں ان کے ذریعے وہاں کے مقامی آبادی کو بیدخل کرنے کے ساتھ ساتھ بلوچ قوم کی معاشی، سماجی اور ثقافتی استحصال کیا جارہا ہے۔”

گوادر ڈیپ سی پورٹ، سی پیک اور دوسرے میگا پراجیکٹس کی بلوچ قوم پرستوں کی جانب سے ہمیشہ مخالفت کی گئی ہے، جہاں بنیادی موقف یہ رہا ہے کہ ان منصوبوں سے مراد بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرکے انکی آبائی زمینیں تک ان سے چھین لینا ہے۔ ان دعوؤں کی تصدیق گوادر میں ہر روز زیادہ شدت کے ساتھ ہورہی ہے۔ انہی خدشوں کی وجہ سے اس وقت سی پیک اور چینی ورکر اور انجنیئر بلوچ آزادی پسند مزاحمت کاروں کے حملوں کے نشانے پر بھی ہیں، جہاں ریکارڈ پر خود کش حملے بھی آچکے ہیں۔

اس صورتحال کے پیش نظر گوادر ماہی گیر تحریک اپنے سمندر سے گر محروم ہوتی ہے تو یہ مزاحمت کی کونسی شکل اختیار کرلے، یہ کہنا قبل از وقت ہے لیکن خدشات دامن گیر ضرور ہیں۔