گوادر میں گمنام ہوتا بلوچ – دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

206

گوادر میں گمنام ہوتا بلوچ

دی بلوچستان پوسٹ فیچر رپورٹ

سعید دشتی

“گوادر شہرکی آبادی 1998 تک محض 85000 تھی اور اب گوادر پورٹ بننے کے بعد شہر کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے، حالیہ مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق گوادر کی آبادی 263,514 ہوگئی ہے۔ چینی باشندوں کے علاوہ پنجاب اور دیگر علاقوں سے لوگوں کو یہاں آباد کرنے کے بعد بلوچ اقلیت میں بدل جائینگے۔‘‘ ان تاثرات کا اظہار ضلع گوادر سے تعلق رکھنے والے صحافی رسول بخش نی دی بلوچستان پوسٹ سے بات چیت کرتے ہوئی کی، جب ہم نے ان سے گوادر میں غیر ملکی و غیر مقامی افراد کے حوالے سے دریافت کیا۔

حالیہ دنوں گوادر میں غیر مقامی افراد کو لوکل سرٹیفیکٹ اور شناختی کارڈ کے اجراء کا انکشاف اس وقت ہوا، جب نادرا کے مقامی آفس سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مقامی میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کہ گوادر میں غیر مقامی افراد کو کثیر تعداد میں لوکل سرٹیفیکٹ اور شناختی کارڈ جاری کیئے جارہے ہیں۔

نادرا آفسر نے مزید بتایا کہ “غیر مقامی افراد سمیت حاضر سروس پاکستانی فوجیوں و خفیہ اداروں کے آفسران اور کاروباری حضرات کے شناختی کارڈ پھر سے بنائے جارہے ہیں، جن میں موجودہ پتہ گوادر ظاہر کرنے کے ساتھ ان افراد کے نام زمینوں کے کاغذات بھی الاٹ کیئے جارہے ہیں۔”

ذرائع کے مطابق ضلع گوادر میں ہزاروں افراد کو گوادر کے پتے سے شناختی کارڈ جاری کرنے کے ساتھ ہزاروں غیر مقامی افراد کو زمین بھی الاٹ کیئے جا چکے ہیں جبکہ گوادر میں نئی ریزیڈنٹ کارڈ بھی متعارف کرنے بابت بات ہورہی ہے، جس کے ذریعے ان افراد کو ریزیڈنٹ کارڈ جاری کردی جائے گی۔

ضلع گوادر میں چینی باشندوں کی آبادکاری کے منصوبے کے حوالے سے گوادر سمیت بلوچستان بھر میں تشویش پائی جاتی ہے، بلوچ آزادی پسندسیاسی تنظیمیں گوادر پورٹ کے بابت شروع دن سے کہتی آرہی ہیں کہ “یہ منصوبہ بلوچوں کی آبادی کو اقلیت میں بدلنے کی پاکستان اور چین کی مشترکہ بھیانک سازش ہے۔” اور اسکے خلاف دو دہائیوں سے مسلسل احتجاج ہوتے رہے ہیں۔ بلوچ مسلح آزادی پسند تنظیمیں گوادر پورٹ سمیت سی پیک پر متعدد حملے بھی کرچکے ہیں۔ جن میں قابلِ ذکر حال ہی میں چینی انجنیئروں پر دالبندین میں ایک خود کش حملہ بھی تھا۔

پچھلے سال دی بلوچستان پوسٹ میڈیا نیٹورک نے ایک رپورٹ شائع کیا تھا، جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ گوادر میں پانچ لاکھ چینی باشندوں کی آبادکاری کے منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا تھا کہ لندن میں منعقد ہونے والی تقریب میں سرمایہ کاری کرنے والی چینی کمپنی نے گوادر میں مکانات تعمیر کرنے کے مد میں 500 ملین ڈالرز کے منصوبے کا اعلان کیا، منصوبے کے پہلے مرحلے میں پانچ لاکھ چینی باشندوں کے لیئے مکانات تعمیر کیئے جائینگے، جو ممکنہ طور پر 2021 تک گوادر میں باقاعدہ طور پر آباد ہوجائینگے۔

چین پاک ہلز (China Pak Hills)کے نام سے یہ رہائشی منصوبہ چین پاک انویسٹمنٹ کارپوریشن (CPIC) اور ٹاپ انٹرنیشنل انجنئیرنگ کارپوریشن (TIEC)کے اشتراک سے بنے گا، اس رہائشی منصوبے میں چین اور پاکستان کے پیشہ ور لوگوں کی لاکھوں کے حساب میں آبادکاری ہوگی۔

کراچی سے تعلق رکھنے والے اشتیاق احمد جو گذشتہ کئی سالوں سے گوادر میں رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے جُڑے ہوئے ہیں، انکا کہنا تھا کہ پلاٹوں کی قیمتیں بڑھیں یا کم ہوں، خریدار ہمیشہ موجود ہوتے ہیں۔ ہمارے نمائندے نے پوچھا کہ ’’کیا خریدار بلوچ ہیں؟‘‘جواب میں اشتیاق کا کہنا تھا:’’ نہیں، خریدنے اور فروخت کرنے والے دونوں بلوچ نہیں ہیں، اکثریت کا تعلق پنجاب، خیبرپختونخواہ اور کراچی سے ہے کچھ غیر ملکی بالخصوص چین سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی ہیں۔”‘‘

سی پیک پروجیکٹ کے تحت گوادر کی تقسیم

سی پیک پروجیکٹ کے تحت گوادر کو چار حصوں میں تقسیم کیا جائے گیا۔ جس میں سب سے بڑا حصہ رہائشی علاقہ ہوگا۔ گودار ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق گودار کو چار انتظامی حصوں میں تقسیم کیا جائے گا۔

1۔ رہائشی علاقہ ( ریذیڈنشنل زون) کے لیئے کل ستتر سکیمیں ہونگی۔ جس کے لئے چودہ ہزار دوسو دس ایکڑ کا رقبہ مختص کرکے این او سیز جاری کر دی گئی ہیں۔
2۔ صنعتی علاقہ( انڈسٹریل زون) کے لیئے کل سولہ سکیمیں ہونگیں۔ جس کے لئے دو ہزار دوسو ایکٹر کا رقبہ مختص کرکے این او سیز جاری کر دی گئیں ہیں۔
3۔ کاروباری علاقہ( کمرشل زون)کے لیئے کل چھ سکیمں ہونگیں۔ جس کے لیئے تین سو ایکٹر کا رقبہ مختص کرکے این او سیز جاری کردی گئیں ہیں۔
4۔ تفریحی علاقہ( ریکریشنل زون)کے لیئے کل چار سکیمں ہونگیں۔ جس کے لئے تین سو آسی ایکٹر کا رقبہ مختص کرکے این او سیز جاری کر دی گئی ہیں۔

این او سیز اکثر غیر مقامی کمپنیوں کو جاری کی گئی ہیں، جن میں سے اکثر کا تعلق کراچی اور لاہور سے ہے۔ ان چار سیکٹروں میں صرف ریکریشنل زون میں بلوچستان کی نمائندگی دیکھنے کو مل ری ہے جس میں چار میں سے تین سکیمیں گیلانی ہاؤس کو ملیں ہیں۔

گوادر: زمینوں پر با اثر افراد کو قبضہ کرنے نہیں دینگے۔ زمیندار ایکشن کمیٹی 

یاد رہے چین پاکستان میں 46 ارب ڈالر کی رقم سے اقتصادی راہداری کے منصوبے پر کام کررہا ہے۔ جس کے تحت چین کے صوبے سنکیانگ سے گوادر تک راہداری بنائی جا رہی ہے اور پاکستان میں متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق وزیراعظم پاکستان کے دورہ سعودی عرب کے دوران پاکستان نے 15 ارب ڈالر کے پیکیج کے خواہش کا اظہار کیا، جس کے جواب میں سعودی حکومت پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری پر رضامند ہوگئی ہے، یہ رقم اقتصادی منصوبوں کی صورت میں پاکستان کو ملے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب پاکستان میں آئل سٹی بھی تعمیر کرے گا، یہ آئل سٹی گوادر میں سی پیک منصوبے کا حصہ ہوگا اس سے قبل آئل سٹی چین کو بنانا تھا۔

تیل ذخائر دریافت 

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا کہ پاکستان نے سعودی عرب کو سی پیک منصوبے میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، سعودی عرب تیسرے شراکت دار کے طور پر سی پیک میں شامل ہوگا۔

بلوچستان میں جاری سیندک، ریکوڈک اور سی پیک سمیت دیگر میگا پراجیکٹس کے حوالے سے بلوچستان کے آزادی پسند جماعتوں کی جانب سے ان پراجیکٹس کی مخالفت سمیت تواتر کے ساتھ بلوچوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

اس حوالے سے حالیہ سال بلوچ لبریشن آرمی کے رہنما اسلم بلوچ نے اے این آئی کو اپنے ایک ویڈیو انٹرویو میں چینی سرمایہ کاری اور گوادر پورٹ کے بابت کہا تھا کہ ” چین 62 بلین ڈالر کے سرمایہ کاری سے چین پاکستان اقتصادی راہداری تعمیر کررہا ہے، جس میں گوادر پورٹ کی تعمیر شامل ہے۔ بلوچ کسی بھی بیرونی سرمایہ کاری کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں کیونکہ وہ گذشتہ کئی دہائیوں سے ایک آزاد بلوچ وطن کیلئے لڑتے ہوئے آرہے ہیں۔”

چین و پاکستان مل کر بلوچ وسائل کو لوٹ رہے ہیں : کمانڈر اسلم بلوچ

بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین خلیل بلوچ نے اپنے ایک انٹرویو میں اس بابت دی بلوچستان پوسٹ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ ” چین کے بلوچستان میں معاشی مفادات سے زیادہ عسکری مفادات ہیں اور اس بات کی نشاندہی بلوچ قیادت ایک دہائی قبل کرچکی ہے، چین یہاں پر اپنا مضبوط نیول بیس بنانا چاہتی ہے اور یہیں سے وہ نہ صرف انڈیا کے خلاف بلکہ دنیا بھر میں طاقت کے توازن میں بگاڑ لانا چاہتی ہے، یہی واحد چیز ہے جسے ہمیں سمجھنا ہوگا۔ باقی اس روٹ کو یا کہ سی پیک کو اقتصادی کہنا درست نہ ہوگا، ہاں یہ روٹ معیشت کے لیئے یا پھر اقتصادی مقصد کے لیئے استعمال ہو سکتی ہے، مگر جب تک بلوچ نہ چاہیں تب تک ہرگز نہیں۔ بلوچ ایسے کسی بھی منصوبے کا بھر پور مزاحمت کریں گے، کیونکہ میں سمجھتا ہوں یہ بلوچ کے زیست و مرگ کا معاملہ ہے اور بلوچ مضبوطی کے ساتھ اسکے خلاف کھڑے رہیں گے۔”

بی این ایم کے چیئرمین خلیل بلوچ کا خصوصی انٹرویو

دوسری جانب اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے صوبے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہتر کرنا چین کے مفاد میں ہے، جبکہ بلوچستان میں علیحدگی کی تحریک چلانے والی جماعتیں چین پاکستان اقتصادی راہدری منصوبے کی مخالف ہیں۔

گذشتہ ہفتے جنیوا میں ہونے والے یو این ایچ سی آ ر کی انتیسویں کونسل سیشن سے خطاب کرتے ہوئے سویڈن سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن کرسٹوفر لنڈبرگ کا کہنا تھا کہ “سی پیک پروجیکٹ کے شروعات سے ہی بلوچستان میں انسانی حقوق کی بدترین پامالی کا آغاز ہوچکاتھا۔”

کرسٹفوفر کا مزید کہنا تھا کہ “بلوچستان کے معدنی ذخائر سے پاکستان کے دیگر حصوں اور چین نے کئی سالوں تک فائدہ اٹھایا مگر بلوچستان کے عوام کو کچھ حاصل نہیں ہوا اور اب گوادر پورٹ سے بھی صرف چین اور پاکستانی حکمران فائدہ اٹھا رہیں ہے۔”