گوادر: زمینوں پر بااثر افراد کو قبضہ کرنے نہیں دینگے – زمیندار ایکشن کمیٹی

43

بااثر افراد اور لینڈ مافیا کی جانب سے جدی پشتی زمینوں سے محروم کرنے کی سازش کی جارہی ہے، زمینوں پر قبضہ کرنے نہیں دینگے، زمیندار ایکشن کمیٹی گوادر

دی بلوچستان پوسٹ نیوز ڈیسک کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق گوادر کے موضع ذباد ڈن کی مقامی زمین داروں کا زمیندار ایکشن کمیٹی گوادر کے چیئرمین اور سابق نگراں وزیر میر نوید کلمتی سے ملاقات اور اراضیات سے متعلق بات چیت، لوکل زمین داروں نے چیئرمین زمین دار ایکشن کمیٹی کو اپنے اراضیات موضع زباد ڈن میں مبینہ طور پر کچھ با اثر اور لینڈ مافیا کی جانب سے اپنے جدی پشتی زمینوں سے محروم کرنے اور انھیں اپنے نام کروانے کی سازش سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پلیری کے قدیمی رہائشی اور ان اراضیات کے جدی و پشتی وارث ہیں۔

جب گوادر میں اراضیات کی قیمتیں بڑھنے لگے تو 2002/2004 کے دہائی میں کچھ بااثر افراد اور لینڈ مافیا کے لوگوں نے جوکہ مینگل، گچکی، رئیس اور دیگر قبائل سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے خود کو مقامی ثابت کرنے کیلئے اپنت قبائل کو کلمتی، شہذادہ وغیرہ ظاہر کرکے ہماری غربت اور کسمپرسی سے فائدہ اٹھاکر ہماری جدی پشتی اراضیات جن میں پرانے کیھتوں کے بندات شامل ہیں جوکہ موضع زباد ڈن میں واقع ہیں ۔

ہماری ان کوششوں کے نتیجے میں لینڈ مافیا کو الاٹ کی گئی ان اراضیات کی کتھونیاں کینسل قرار دیدیئے گئے اور تمام لوکل زمینداروں اور سرکاری اہلکاروں کی موجودگی میں یہ موضع دوبارہ سٹلمنٹ کرکے اصل مالکان کے نام کردیئے گئے، چونکہ پہلے والے سٹلمنٹ ریکارڈ میں زباد ڈن موضع کو ربڑ کی طرح کھینچ کر کلاتو، گبد اور ڈومب تک کو بھی شامل کردیا گیا تھا ۔
لیکن دو بارہ کی بند و بست اور پیمائش میں زباد ڈن کے موضع کو اپنے اصل علاقے تک بحال کرکے اضافی زمینیں نکال دی گئیں مگر اب ایک بار پھر وہی لینڈ مافیا اور با اثر لوگ وزیر اعلی صاحب کو غلط گائیڈ کرکے اس موضع سے ہماری جدی پشتی زمینوں کو ہم سے چھیننے کی کوشش کرکے اپنے پرانے خودساختہ سٹلمنٹ کو بحال کروانے کی کوششیں کر رہے ہیں ۔
چونکہ وزیر اعلی جام کمال خان خود بھی زمیندار فیملی سے تعلق رکھتے ہیں ہم ان سے درخواست کرتے ہیں کہ برائے کرم وہ ہمارے جدی پشتی زمینوں کو لینڈ مافیا کے قبضے میں جانے سے روکیں۔