چھ نکات اور لاپتہ افراد – دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

126

چھ نکات اور لاپتہ افراد

دی بلوچستان پوسٹ رپورٹ

بہزاد دیدگ بلوچ

حالیہ 2018 کے عام انتخابات میں تحریکِ انصاف کی کامیابی اور حکومت سازی کے بعد تبدیلی کی خواہش رکھنے والے، تحریکِ انصاف کے انتخابی نعروں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک تبدیلی کی امید رکھے ہوئے ہیں۔ اس تبدیلی کی ہوا بلوچستان کے طول و عرض کو چھوئے بغیر بلوچستان میں سابقہ انتخابات کو دہراتے ہوئے نظر آئی۔ بلوچستان میں اکثریت بلوچستان عوامی پارٹی عرف عام باپ نے حاصل کی، جیسا کہ سیاسی پنڈت توقع رکھ رہے تھے۔ انتخابات سے چند ماہ قبل ہی تشکیل پانے والی یہ پارٹی ان نمائیندگان پر مشتمل ہے، جو تقریباً ہر حکومت کا حصہ رہے ہیں، اس جماعت کے راتوں رات بننے اور کامیابی حاصل کرنے کے بعد باقی جماعتیں باپ کو “کنگز پارٹی” یا مبینہ طور پر اسٹبلشمنٹ کی پارٹی قرار دے چکے تھے اور انتخابات سے قبل ہی اسکی کامیابی کو یقینی تصور کیا جارہا تھا۔ گذشتہ انتخابات کی طرح ان عام انتخابات کا بھی بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے مکمل بائیکاٹ کیا گیا تھااور بلوچ آزادی پسند مسلح جماعتوں کی جانب سے درجنوں حملے کیئے گئے تھے۔ جس کی وجہ سے بلوچستان کے کئی علاقوں میں ووٹنگ نہیں ہوسکی اور باقی ماندہ علاقوں میں ٹرن آوٹ انتہائی کم رہا۔

موجودہ انتخابات میں مختلف بات گذشتہ دور میں حکومت سازی کرنے والے نیشنل پارٹی کی مکمل ناکامی تھی، جو ایک نشست بھی نا جیت سکی تاہم بلوچستان نیشنل پارٹی نو صوبائی اور چار قومی نشستیں جیت کر دوسرے نمبر پر رہی۔ لہٰذا تبدیلی کی امید کی جو لہر چل رہی تھی بلوچستان میں وہ بی این پی مینگل اور اخترمینگل سے بندھ گئی۔

بی این پی مینگل نے سخت موقف اختیار کرتے ہوئے، حکومت کا حصہ بننے سے انکار کیا اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن نشستوں کے بجائے آزاد نشستوں پر بیٹھنے اور تحریکِ انصاف کے حکومت کی حمایت کرنے کو اپنے چھ نکات سے نتھی کرلیا۔ جنہیں بالآخر تحریک انصاف نے منظور کرلیا۔

ان چھ نکات میں سب سے قابلِ ذکر بلوچستان کا سب سے بڑا انسانی مسئلہ ” لاپتہ افراد کی بازیابی ” کا ہے۔ اس نقطے پر کچھ حلقوں کی جانب سے اختر مینگل کو کافی سراہا گیا اور آنے والے وقت میں وقتاً فوقتاً کچھ لاپتہ افراد منظر عام پر آنے لگے۔ ان افراد کے منظر عام پر آنے کا سہرہ ایک حلقہ خاص طور پر بی این پی مینگل اور سردار اختر مینگل کے سر پر سجا رہا ہے۔

کیا بلوچستان کا یہ دیرینہ انسانی حقوق کا مسئلہ حل ہورہا ہے؟ حقائق کیا ہیں؟ درست حقائق کی زمینی حالات کے رو سے دی بلوچستان پوسٹ نے چھان بین کی اور اس مسئلے کو معروضی حالات کے مطابق سمجھنے کیلئے حقائق کے جانچ پڑتال کی تو حقائق دعوؤں سے مختلف نظر آئے۔ طوالت سے بچنے کیلئے دی بلوچستان پوسٹ درست حالات کو سمجھنے کیلئے گذشتہ ایک ہفتے کے حقیقی اعداد و شمار کا تجزیہ پیش کررہا ہے۔

گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 13 لاپتہ افراد بازیاب ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں، ان افراد کی بازیابی کو ان چھ نقاط کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے، جو بی این پی مینگل اور تحریکِ انصاف کے بیچ طے ہوئے۔ گوکہ اس بات کی وضاحت نہیں ہوسکی کہ جن افراد کو منظر عام پر لایا جارہا ہے، انہیں کس قانون کے تحت اتنے طویل عرصے تک لاپتہ رکھا گیا تھا۔

بازیاب ہونے والوں میں 18 ستمبر کو تمپ آسیہ اباد کے رہائشی عبداللہ ولد عبدالمجید، تمپ ہی کے علاقے ملانٹ سے لاپتہ ہونے والے واجو ولد یعقوب اور آواران سے لاپتہ برکت بلوچ شامل ہیں۔

اسی طرح 14 ستمبر کو مشکے کے علاقے نوکجو سے فورسز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد لاپتہ ہونے والے تین افراد مینگل ولد نبی بخش، سراج ولد عبدالستار اور رشید ولد رحمت منظر عام پر آئے۔

12 ستمبر کو پنجگور سے مختلف اوقات میں لاپتہ ہونے والے سات افراد کو منظر عام پر لاکر پولیس کے حوالے کیا گیا، جن کی شناخت، عبدالحمید ولد محمد حسین ساکن تارآفس چتکان، حسن ولد امید علی ساکن تسپ،عبدالرشید ولد گل محمد ساکن عیسیٰ،محمد سعید ولد محمد کریم ساکن تسپ، نوید ولد حاجی اقبال ساکن تارآفسس چتکان، سراج ولد امام الدین ساکن کللگ،عبدالقدوس ولد نوربخش ساکن نیو چتکان کے ناموں سے ہوئی۔

ان افراد کی بازیابی یقیناً مذکورہ افراد کے اہلخانہ کیلئے ایک اچھی خبر ہے، لیکن کیا بلوچستان کے اس سنگین انسانی بحران کا حل بھی ہے؟ لیکن ہمیں اسکا جواب مایوس کن حد تک نفی میں ملتا ہے، جب ہم تصویر کے دوسرے رخ کی طرف دیکھتے ہیں جسے چھپایا جارہا ہے، کیونکہ صرف گذشتہ ایک ہفتے کے دوران بلوچستان سے ایک خاتون سمیت 48 افراد کو فورسز نے چشم دید گواہان کی موجودگی میں آپریشنوں کے دوران گرفتار کرکے لاپتہ کردیا ہے۔ جتنے افراد بازیاب ہوئے ہیں، اس سے چار گنا زیادہ مزید گرفتار کرکے لاپتہ کیئے گئے ہیں۔

گرفتاری اور لاپتہ کرنے کا سب سے بڑا واقعہ 15 ستمبر کو بلوچستان کے ضلع کیچ کے علاقے دشت میں پیش آیا جہاں ایک آپریشن کے دوران 12 افراد کو ایک ساتھ اغواء کیا گیا تھا، جن کی شناخت ستر سالہ پیر بخش ولد دوست محمد ، ساٹھ سالہ گاجی ولد ابراہیم، عبدالرسول ولد کینگی اور اُنکے تین بیٹے عدنان، یاسر اور کم عمر پرویز، ہاشم ولد حاجی دین محمد، محاسب ولد قادر داد ،عبداللہ ولد شیر محمد ، نعیم ولد برکت اور نسیم ولد برکت کے ناموں سے ہوئی تھی۔

اسی طرح ایک اور بڑے واقعے میں نوشکی کے ایک پکنک پوائنٹ زنگی ناوڑ سے فورسز نے گیارہ نوجوانوں کو گرفتارکرکے لاپتہ کردیا تھا، ان گیارہ افراد کی تصاویر جاری کرکے میڈیا میں ان کی گرفتاری ظاہر کی گئی تھی، لیکن جب گرفتار نوجوانوں کے اہلخانہ نے مقامی انتظامیہ سے اپنے پیاروں کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی تو ان کاکوئی سراغ نہ مل سکا، اور انہیں لاپتہ کردیا گیا۔

17 ستمبر کو ضلع کیچ کے علاقے دشت شولیگ سے چار افراد اختر ولد حاجی مراد محمد، زاہد ولد اللہ بخش، اللہ بخش ولد حاجی نبی بخش اور یاسین ولد حاجی نبی بخش کو حراست میں لینے کے بعد لاپتہ کیا گیا۔ جبکہ اسی دن دشت کے علاقے ھُور سے وحید ولد عبدالرحیم سکنہ دشت ھُور کو حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پے منتقل کردیا گیا۔
اسی طرح 13 ستمبر کو بلیدہ سلو کئور سے تین افراد جعفر ولد محمد انور، عدیل ولد ناصر اور اکیل ولد امیر بخش کو فورسز نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا۔

اس کے علاوہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں روزانہ کے بنیاد پر لوگ گرفتار ہوکر لاپتہ ہورہے ہیں، 11 ستمبر کومشکے جیبری سے عبدین ولد حمزہ اور عقیل ولد رحمت اللہ بلوچ کو گرفتار کرکے لاپتہ کردیا گیا۔ 12 ستمبر کو الہیٰ بخش ولد اللہ بخش کو ہوشاب سے، 13 ستمبر کو نسیم ولد صالح محمد کو کیچ سے، 14 ستمبر کو طاہر اور اس کے بھائی جمال ولد فتح محمد کو واشک سے، مولابخش ولد کہدہ عبداللہ کو دسچین سے، 16 ستمبر کو جاوید ولد شاہو کو مند سے فورسز نے گرفتاری کے بعد لاپتہ کردیا جبکہ 18 ستمبر کو ڈیرہ بگٹی کے علاقے درینجن سے دو افراد کو گرفتار کرکے لاپتہ گیا تو دوسری طرف قلات کے علاقے چھپر سے ایک بلوچ خاتون دخترمحمد اعظم سمالانی کو اغواء کرکے لاپتہ کیا گیا۔

جبکہ ایک اور واقعے میں 14 ستمبر کو ایک ساتھ 7 افراد کو بلیدہ سوراپ سے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پہ منتقل کر دیا گیا جس کے بعد سے وہ لاپتہ ہیں جن کی شناخت عبدالغفور، وحید بلوچ فاضل بلوچ، مراد جان بلوچ، نورا بلوچ ولد سفر بلوچ بیٹے سمیت جبکہ جمیل بلوچ ولد دوست محمد بلوچ کے نام سے ہوئی۔

یہ اعداد وشمار اور حقائق محض ایک ہفتے کے ہیں اور وہ اعدادوشمار ہیں جنکی مصدقہ ذرائع سے تصدیق ہوچکی ہے اور جنکے کوائف موجود ہیں۔ جبکہ بلوچ قوم پرست سیاسی جماعتوں کا دعویٰ ہے کہ لاپتہ ہونے والے افراد کی تعداد کئی گنا زیادہ ہے، کیونکہ زیادہ تر افراد کی میڈیا تک رسائی نہیں اور بہت سے افراد دھمکیوں کے بعد اس امید سے لاپتہ ہونے والے پیاروں کا نام ظاھر نہیں کرتے کیونکہ انہیں بتایا جاتا ہے کہ اگر میڈیا میں بات پہنچائی گئی تو انہیں ماردیا جائے گا۔

اس حوالے سے دی بلوچستان پوسٹ نے ایک سینئر بلوچ تجزیہ نگار سے بات کی تو انہوں نے نام ظاھر نا کرنے کی شرط پر بتایا کہ ” بلوچستان میں واحد تبدیلی لاپتہ افراد اور لاشوں کے اضافے کی صورت میں آئی ہے۔ اختر مینگل کے چھ نقاط میں لاپتہ افراد کے نقطے کو تسلیم ہی اسلیئے کیا گیا تھا کہ کچھ لوگوں کو چھوڑ کر اسے میڈیا میں خوب اچھالا جائے تاکہ یہ مسئلہ شانت ہوجائے اور اسکے پسِ پردہ لوگوں کے غائب کرنے کے سلسلے میں مزید تیزی لائی جائے۔ اب جہاں انہیں پانچ اٹھانا ہوتا تھا سات اٹھا لیتے ہیں تاکہ دو کو بعد میں چھوڑ کر یہ ظاھر کیا جائے کہ لاپتہ افراد کو منظر عام پر لایا جارہا ہے اور اسی شور میں کوئی باقی پانچ کا ذکر نا سنے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ” باقی باتوں سے ہٹ کر صرف اس مسئلے پر غور کیا جائے کہ اگر ریاست یہ معاہدہ کررہی ہے کہ وہ لاپتہ افراد کو چھوڑ دیگا اور ایک بھی لاپتہ فرد چھوڑ دیتا ہے، تو اس سے یہ بات واضح ہوجاتا ہے کہ ریاست فریق ہے جو ماورائے عدالت و قانون گرفتاریاں کررہی ہے، جو انسانی حقوق کی ریاست کی جانب سے خلاف ورزی ہے۔ ایسے موقع پر عالمی اداروں کا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ وہ مداخلت کریں۔”

بلوچستان کے بگڑتے ہوئے حالات اور بلوچ سیاسی کارکنان کے گرفتاریوں اور گمشدگیوں میں روز افزوں اضافہ بلوچستان میں انسانی حقوق کے بحران کی نشاندہی کررہے ہیں۔ انتخابات کے ایک ماہ بعد ہی یہ واضح نظر آرہا ہے کہ بلوچستان میں تحریک انصاف کا تبدیلی کا نعرہ ہو یا اختر مینگل کے چھ نقاط کوئی تبدیلی نہیں لاسکیں گے۔