محکوم شعور – برزکوہی

41

محکوم شعور

تحریربرزکوہی

دی بلوچستان پوسٹ،کالم

سماج و ماحول، سماجی حالات اور سماجی ماحولیات، معروض خارجی اور معروضیت، خارجیت، حالات، موضوعیت و داخلیت کی پیداوار بھی اور موضوعیت و داخلیت پر اثراندازی بھی حقیقت ہے اور دنیا سے انسان بھی الگ نہیں اور انسان سے دنیا بھی الگ نہیں اور دونوں ہی لازم ملزوم ہوکر الگ نہیں ہوسکتے ہیں۔ دنیا انسانی ذہن پر اثر انداز اور انسان دنیا پر اثر انداز، معروضیت کوئی حادثہ یا اتفاقیہ نہیں بلکہ موضوعیت کی تخلیق ہوتا ہے اور معروضیت پر موضوعیت اثر انداز بھی ہوتا ہے اور موضوعیت پر معروضیت اثر انداذ ہوتا۔ تو حضرت انسان سماج کو تبدیل کرتے ہیں یا سماج انسان کو تبدیل کرتا ہے؟ یا دونوں ساتھ ملکر انسان سماج کو اور سماج انسان کو تبدیل کرتا ہے؟ کیا سماجی تبدیلی کا انحصار صرف وقت و حالات اور ارتقاء پر منحصر ہے؟ یا پھر ارتقائی عمل پر انسانی ذہن و عمل اور کردار کی اثر اندازی ہوتا ہے؟ کیا ارتقاء بذات خود انسانی ذہن اور انسانی متحرک عمل کی تسلسل ہے؟ اگر نہیں پھر ارتقائی عمل خود کیا ہے؟ ارتقائی عمل حادثہ، اتفاق، قدرتی اور دیوتائی عمل و دخل اور کردار یا پھر انسانی عمل دخل اور انسانی ذہن، شعور اور کرداروں کا نتیجہ ہوتا ہے؟

بچہ جب پیدا ہوتا ہے، تو دو مخالف جنس کی ملاپ پھر انسان کی تخلیق ہوتا ہے اور بچہ اپنی سماجی اور ماحولیاتی اثرات و تربیت اور توارث سے بولنے سمجھنے اور سیکھنے کی صلاحیت حاصل کرتا ہے یعنی بچے سماج سے پرورش پاتا ہے، پھر بالغ ہوکر سماج کو تبدیل کرسکتا ہے یا سماج مسلسل تا موت اس کو تبدیل کرتا رہے گا؟ اگر ایسا ممکن ہوتا ہے تو پھتر کے زمانے سے لیکر یا غاروں سے انسان نکل کر خلاء تک پہنچ جانا خود حضرت انسان کی تبدیلی شعور اور ذہانت کا پیش خیمہ ہے یا ارتقائی عمل؟ یا پھر صرف ارتقائی عمل اور وقت و حالات کا تسلسل ہے؟ کیا ارتقائی عمل خود حضرت انسان کے شعور، ذہانت، علم و کردار اور متحرک عمل کا محتاج نہیں ہوتا؟

فلسفہ وجودیت کے نزدیک کوئی انسان کہاں اور کس کے گھر میں پیدا ہوتا ہے کس قوم، ملک اور معاشرے اور ماحول میں آنکھیں کھول لیتا ہے وہ اس انسان کی اختیار میں نہیں ہوتا ہے، اگر ہم اسے مقدر کہیں بھی صحیح لیکن اس کے بعد سب کچھ انسان کے اپنی واک و اختیار میں ہوتا ہے، اس میں اور کوئی عمل و دخل نہیں ہوتا۔ اگر قسمت و مقدر کی لکیروں، دیوتاوں، خداوں، دعاوں، بزرگوں، درویشوں اور فقیروں کی انسان کی کردار کے تعین میں کوئی عمل دخل نہیں تو پھر کیا ارتقائی عمل، ماحولیات، توارث، رجحانات اور دلچسپی انسانی کردار کی تعین میں اہم کردار ادا کرتے ہیں؟

کیا سماجی تبدیلی کو بجائے ذہانت، شعور و علم، ادراک، ہمت، محنت و مشقت اور کوشش سے منحرف ہوکر زمان و مکان، ارتقائی عمل، قسمت و مقدر، وقت و حالات، دیوتاوں اور خداوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا کیا خود بے بسی، خوف، کاہلی اور بے ہمتی کے لیئے ٹھوس جواز نہیں ہوسکتے؟ جس طرح سرمایہ دارانہ، حاکمانہ، جابرانہ اور ظالمانہ تسلط و عزائم کو خداوں اور دیوتاوں کا مرضی و منشاء اور ایماء تصور کرکے ذہن میں بٹھا کر بے بسی کا اظہار کرنا کیا خود محنت و مشقت قربانی اور چھٹکارے کی کوشش سے رافراریت اختیار نہیں ہے؟ اسی طرح اپنے سماجی فرسودہ خدوخال جو قوم، قومی بقاء اور قومی ترقی اور قومی تحریک کے لیئے انتہائی نقصاندہ اور خطرناک ثابت ہو، پھر بھی سماجی تبدیلی کو وقت و حالات اور ارتقاء کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا کیا ظلم و جبر کو دیوتاوں اور خداوں کے رحم و کرم پر چھوڑنا یا صرف عالمی طاقتوں کے انتظار میں بیٹھ کر وہ کب مداخلت کرکے چھٹکارہ دلوا دینگے اور پھر اسی طرح سماجی تبدیلی کو وقت و حالات، زمان و مکان اور ارتقائی عمل پر چھوڑ دینا کیا ہمت ہارنے اور حالتِ بے بسی اور بے ہمتی اور خود راہ فراریت نہیں ہوسکتا ہے؟

جب بھی انسان میں قوت فیصلہ، قوت اردای، قوت ہمت اور کچھ نہ کچھ کرنے کی طاقت و ہمت، محنت و مشقت اور قربانی اور اپنی ذاتی مفاد کو ترک کرنے کا جذبہ نہ ہو، تو وہ اپنی بے بسی کمزوری اور ہمت ہار جانے اور شکست خوردگی کی حقیقت کو برملا تسلیم نہیں کرتا بلکہ ایسے قسم کے جواز اور من گھڑت دلیلوں کا سہارا لیتا ہے۔

جب تک انسان کے ذہن میں شعوری یا لاشعوری طور پر فرسودہ سماجی خدوخال کے اثرات و قبولیت اور اسیری کے ساتھ ساتھ وقت و حالات زمان و مکان اور ارتقائی عمل سے تبدیلی کا بھوت ذہن پر سوار ہو تو اس وقت تک سماجی تبدیلی کی حصول کے خاطر کوشش کرنا، قدم اٹھانا ممکن نہیں بلکہ تب تک فرسودہ رسم و روایات کی مختلف کیفیات، خوف، الجھن اور لالچ ذہن پر سوار ہونگے اور پھر بے بسی کی کیفیت میں مختلف جواز اور من گھڑت دلیلوں کی بوچھاڑ ہوگی۔

اسی طرح جدید سرمایہ دارانہ، حاکمانہ تسلط، ظلم و جبر، بربریت سے نجات دہندہ انقلاب اور آزادی کے بجائے انسانی ذہن پر سب کچھ دیوتا، خدا، قسمت اور مقدر یا پھر عالمی قوتوں کی مکمل کھلم کھلا مدد و کمک کے بغیر یا مقدر و قسمت کی تبدیلی اور خداووں اور دیوتاوں کی مرضی و منشاء کے بغیر ناممکن والی کیفیت ذہن پر شعوری یا لاشعوری طور پر سوار ہو، اس وقت تک پھر جدید سرمایہ دارانہ، حاکمانہ، ظالمانہ، جابرانہ، غلامانہ اور محکومیت سے چھٹکارہ حاصل کرنا اور اپنی قومی آزادی کو بحال کرنا ممکن نہیں۔

کیونکہ یہ تمام کے تمام ذہنی الجھن کے شکل میں ایسی انسانی ذہنی کیفیت ہیں، جو انسان کو ہمیشہ بے حس، بے ہمت، بزدل اور شکست خوردہ بنا دیتی ہے۔ دراصل ان عناصر کے پیچھے براہِ راست رافراریت اور شکست کو تسلیم کرنے کی حقیقت ہوتا ہے۔ یہ صرف اور صرف اپنی پشیمانی، بزدلی اور شکست خوردگی کو خوبصورت نام دینے کی خاطر ایسے مفرضوں اور دلیلوں کے سہارا لینے کی کوشش ہوتا ہے۔

پاولوفریرے کہتے ہیں کہ “محکوم کے شعور کو حاکم کے شعور کے مطابق ڈھالا جاتا ہے، اس طرح محکوم کا رویہ بنیادی طور پر حاکم کے رویے کی عکاسی کرتا ہے۔”

وہ مزید کہتے ہیں “پسا ہوا انسان آزادی سے اس لیئے خوفزدہ ہوتا ہے کہ وہ جابر کے عکس کو ذہن میں بٹھا لیتا ہے، وہ اس کے سارے رہنماء نقاط کو اپنا لیتا ہے آزادی اس سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس عکس کو اکھاڑ دے اور اس کی جگہ پر زمہ داری اور خود مختاری کو دے، آذادی تحفے کے بجائے فتح کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے، اس کی تلاش مسلسل اور زمہ داری سے کی جاتی ہے، آذادی کوئی ایسا مثالی نمونہ نہیں ہے جو انسان کے باہر واقع ہے، نہ ہی یہ کوئی ایسا تصور ہے جو خیالی قصے یا کہانی کی شکل میں ہوتا ہے بلکہ یہ انسانی جستجو کی ناگزیر شرط ہے۔”

سوال یہ نہیں انسان کیا کرتا ہے اور کہاں پر ہے سب سے اہم اور بنیادی سوال یہ ہے انسان کے ذہن میں کیا بیٹھا ہے۔ جب محکوم کی ذہن پر حاکم کا عکس سوار ہو تو اس وقت قومی آزادی کی طرف مکمل طور پر مطمئین پر اعتماد اور پرامید حدتک محوسفر اور متحرک ہونا ممکن نہیں، اسی طرح جب تک خود کی ذہن پر اپاہچ قبائلیت کے اثرات سوار ہوں، یعنی حاکم کو دشمن سمجھ کر اس کی عکس کو ذہن پر سوار کرنا ایک تو چھٹکارے سے انسان خوف ذدہ ہوتا ہے، دوسرا وہ لاشعوری طور پر حاکم کو آئیڈیل سمجھ کر اس کے رویئے کو اپناتا ہے، بالکل اسی طرح ہر ایک اپنی قبائلی کٹھ پتلی سرداروں نوابوں میرو معتبروں اور وڈیروں کو غلط اور دشمن سمجھ کر بھی جب تک لاشعوری طور پر ان کی عکس کو اپنے ذہن میں رکھ چکے ہیں، تو ان کو آئیڈیل سمجھ کر ان کی رویوں کو اختیار کرتے ہیں۔ رویوں کو اختیار کرنا حاکم کا قبائلیت اور روایتی سیاست کا نفسیاتی طور پر اگر غور کیا جائے تو ذہن کے ایک معمولی کونے میں شعوری اور لاشعوری طور پر ان کے لیے نرم گوشہ رکھنے کے مترادف ہوگی۔ ایسا نہیں پھر انہی کی رویوں کو اپنانا کیوں اور کس لیئے؟

لاشعوری طور پر یا لاعلمی اور نا سمجھی میں؟ پھر شعور کب اور کس وقت؟ پھر اگر یہ من گھڑت دلیل وقت، حالات، زمان و مکان اور ارتقائی عمل خود شعور اور تبدیلی کا باعث ہوگا، ضرور ایک حد تک لیکن مکمل وقت و حالات زمان و مکان اور ارتقائی عمل پر انحصار اور ساری ذمہ داری ارتقائی عمل، وقت و حالات کو تھونپ دینا کم از کم میرے خیال کے مطابق جواز اور من گھڑت دلیلوں اور خود اسی سوچ اور رویوں سے متاثر ہونے اور قبول کرنے کی شعوری اور دانستہ خواہش یا مفادات میں مضمر ہے۔

قومی نجات، قومی آزادی اور سماجی تبدیلی صرف اور صرف انسانی ذہن، شعور و علم و ادراک، محنت و مشقت، قربانی اور رسک اور قدم اٹھانے پر پورا پورا منحصر ہے، اس کے علاوہ سارے حیلے بہانے، خود انسان کی خوف و لالچ، بے بسی، نالائقی اور بے عملی اور کردار کی طرف اشارہ ہیں۔

اپنے ذہنوں سے پہلے ان تصویروں کو اکھاڑ کر پھینکھنا ہوگا، جو تصویریں ہمیں سماجی ماحولیات، توارث اور حاکم کی طرف سے مل چکے ہیں، اس کے بعد تبدیلی اور قومی آزادی ممکن ہوگا اور ذہن پر سوار عکسوں کو مٹانا علم و عمل میں پوشیدہ ہے۔