بھارت کی طرف سے اضافی پانی چھوڑنے پر پاکستان میں سیلاب کا الرٹ جاری

54

بھارت کی طرف سے پانی چھوڑے جانے کے باعث پاکستان میں  دریائے چناب اور راوی ستلج اور برساتی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ گیا۔ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر مختلف علاقوں میں ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے قریبی آبادیوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے ہدایات جاری کردی گئی ہیں۔

فلڈ کنٹرول روم کے مطابق مرالہ ہیڈورکس کے مقام پر پانی کی سطح ساٹھ ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے، جب کہ دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح بلند ہورہی ہے۔ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی مقدار دس فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ دریائے راوی میں بھی پانی کے بہاو میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ جسڑ کے مقام پر پانی کا بہاو باون ہزار کیوسک اور دریا کی سطح بلند ہورہی ہے

فلڈ کنٹرول روم کا مزید کہنا ہے کہ سیالکوٹ کے نواحی علاقوں سے گزرنے والے برساتی نالے بسنتر میں طغیانی کی صورت حال ہے۔ پانی کا بہاو چھ ہزار سات سو تراسی کیوسک اور درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ شکر گڑھ اور نارووال سے گزرنے والے نالہ بئیں میں نچلے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کا بہاو ایک ہزار سات سو دس کیوسک ہے۔

دریائے چناب، ستلج اور راوی میں پانی کی سطح بلند ہونے پر جھنگ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظرالرٹ جاری کردیا گیا ہے، جس کے بعد دریائے چناب کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کیلئے سرکاری عملے کی چھٹیاں منسوخ کردی گئی ہیں۔ سیالکوٹ کے نالہ ڈیک میں پانی کی سطح تو نارمل مگر سیلابی ریلہ سے متاثرہ عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ملتان میں بھی دریائے چناب پر پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہونے لگا ہے، جہاں دریا کے قریبی دیہات اور زمینوں میں سیلابی صورت حال پیدا ہونے کے بیش نظر محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایات کی گئی ہیں۔ پانی کے بہاو میں تیزی کے سبب زمینوں کا کٹاؤ جاری ہے۔ ہیڈ محمد والا کے مقام پر پانی کی سطح 1لاکھ 10 ہزار کیوسک پر پہنچ گئی ہے۔

دریائے چناب میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے الرٹ جاری کردیا ہے۔ دریا کے کنارے آباد لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر نے کی ہدایات جاری کرتے ہوئے ریسکیو 1122 اور محکمہ لائف اسٹاک کی چھٹیاں منسوخ کردی گئیں، جب کہ اطراف کی آبادی محفوظ مقامات پر منتقل ہونا شروع ہوگئی ہے۔

چنیوٹ میں بھی پانی کے بہاو کے باعث کم و بیش ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے، جہاں دریا چناب میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی ہے۔ فلڈ کنٹرول روم کے مطابق قادرآباد سے ستانوے ہزارپانچ سو اناسی کیوسک کا ریلا چنیوٹ کی جانب رواں ہے۔ ریلا اگلے چوبیس گھنٹوں میں چنیوٹ میں داخل ہوسکا ہے۔ چنیوٹ میں ممکنہ سیلاب کے پیش نظر انتظامیہ کی جانب سے بنیادی اقدامات کیے گئے ہیں۔ ڈی پی او کے مطابق دریا میں نہانے اور کشتی رانی پر مکمل پابندی ہے۔

سیالکوٹ کی بات کی جائے تو نالہ ڈیک میں پانی کی سطح تو نارمل ہوچکی ہیں مگر سیلابی ریلہ سے متاثر ہونے والوں کی پریشانیوں میں کمی نہیں ہوئی۔ بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث لوگوں مسائل کا شکار ہیں۔ سیلابی ریلے کے باعث سیالکوٹ میں سیکڑوں ایکڑ زمین زیرآب ہے، جب کہ لوگوں کیلئے ابھی تک کوئی میڈیکل ریلیف کیمپ بھی نہیں لگایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 22 ستمبر ہفتہ کی رات بھارت کی جانب سے پاکستانی دریاؤں میں خطرناک حد تک پانی چھوڑنے کے باعث سیلاب کی کیفیت پیدا ہوگئی تھی اور کئی دیہات اور ہزاروں ایکڑ زرعی زمین زیر آب آگئی تھی۔